Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1092

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُصُّوْا صُفُوْفَكُمْ وَقَارِبُوْا بَيْنَهَا وَحَاذُوْا بِالْاَعْنَاقِ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنِّي لَاَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ کاَنَّهَا الْحَذَفُ.

عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق فوالذي نفسي بيده اني لارى الشيطان يدخل من خلل الصف کانها الحذف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی کرو اور صفیں قریب بناؤ، اپنی گردنیں (یعنی کندھے) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں شیطان کو صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں داخل ہوتاہوا دیکھتا ہوں گویا وہ بکری کا چھوٹا سیاہ بچہ ہے۔“

شرح حدیث

صفوں کے درمیان فاصلہ کم رکھو:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”صفیں سیدھی یعنی برابر رکھو ، ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہو،نہ دو شخصوں کے درمیان فاصلہ چھوڑو نہ ہی دو صفوں کے درمیان اتنا فاصلہ چھوڑوکہ درمیان میں مزید صف بن سکے ،صفوں میں اس طرح مل کر کھڑا ہونا روحوں کےباہمی قرب کا سبب بنے گا اور شیطان ان کے درمیان داخل نہ ہوسکے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اتنی قریب صفیں بنانے کا حکم اسی صورت میں ہے جب کوئی عذرمثلاًشدید گرمی وحبس وغیرہ نہ ہو۔ اور گردنیں برابر رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کی گردن دوسرے سے اونچی نہ ہو کیونکہ لمبے قد والا اپنی گردن نیچی کیسے کرے گا بلکہ گردن برابر کرنے کا مطلب یہ ہےکہ صفیں ہموار جگہ بناؤ، ایسا نہ ہو کہ کوئی اونچی جگہ پر کھڑا ہو اور کوئی نیچی جگہ پر۔“خشوع نماز کی روح ہے:حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:” اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے میں شیطان کو صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں داخل ہوتا ہوادیکھتا ہوں گویا وہ بکری کا چھوٹا سیاہ بچہ ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اتنی بڑی قسم کھاکر صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کا حکم اس لیے دیا کہ صفوں میں مل کر کھڑے ہونے کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور اس طرح کی صفوں میں شیطان داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ملعون صفوں میں داخل ہوکرنمازیوں کو بہکاتا اور وسوسوں میں مبتلا کرتا ہے جس سے ان کی نماز خراب ہوتی اور خشوع میں خلل واقع ہوتا ہے حالانکہ خشوع ہی نماز کی روح ہے۔“شیطان صفوں میں گھس جاتاہے:(صف کی خالی جگہوں میں شیطان بکری کے بچے کی شکل میں گھس جاتاہے)”یعنیخِنزَبشیطان جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے وہ صف کی کشادگی میں بکری کے بچے کی شکل میں داخل ہو کر نمازیوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ شیطان مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے، دیکھو اس شیطان کی شکل اپنی تو کچھ اور ہے مگر اس وقت بکری کی شکل میں بن جاتا ہے۔ دوسرےیہ کہ ربّ تعالیٰ نے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو وہ طاقت بخشی ہے کہ خالق کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی ہر مخلوق پر نظر رکھتے ہیں۔ تیسرےیہ کہ جب شیطان جیسی غیبی مخلوق آپ(صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی نگاہ سے غائب نہیں تو انسان آپ سے کیسے چھپ سکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1092