- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1088
باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1088
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَاَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ:اَقِيْمُوْا صُفُوْفَكُمْ وَتَرَاصُّوْا فَاِنِّيْ اَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِيْ.( )وَفِیْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِي:وَكَانَ اَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ.
عن انس رضی اللہ عنہ قال: اقيمت الصلاة فاقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه فقال:اقيموا صفوفكم وتراصوا فاني اراكم من وراء ظهري.( )وفی رواية للبخاري:وكان احدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا چہرۂ انور ہماری طرف کیا اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔“ بخاری کی ایک روایت میں ہےراوی فرماتے ہیں :” ہم میں سے ہرشخص اپنا کندھا برابر والے کے کندھے سے اورقدم برابر والے کے قدم سے ملا کررکھتا تھا۔“
شرح حدیث
صفوں میں تین چیزوں کا خیال رکھنا:فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”صفوں کے بارے میں تین چیزوں کا حضور اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمبہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے، اَوَّل اگلی صف پوری کرلی جائے، دوسری خوب مل کر کھڑے ہوں،تیسری صفیں بالکل سیدھی رہیں۔صفوں کی درستگی کا حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو جتنا اہتمام تھا وہ ظاہر ہے۔ بعد میں خلفاءِ راشدین بھی اس کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے کچھ لوگوں کو مقرر فرمادیا تھا، جب تک وہ لوگ اطلاع نہیں دیتے کہ صفیں درست ہوگئیں نماز نہیں شروع فرماتے۔ حضرت علی ،حضرت عثمان غنی (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا) بھی اس کا خصوصی اہتمام کرتے۔ حضرت علی (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کی عادت یہ تھی کہ نام لے لے کر فرماتے: ”اےفلاں آگے بڑھ، اے فلاں پیچھے ہٹ۔“(مزید فرماتے ہیں )ان سب احادیث سے معلوم ہوا کہ اقامت کے بعد بھی اگر صفیں درست نہ ہوں تو جب تک صفیں درست نہ ہوں تکبیرِ تحریمہ میں تاخیر کی جاسکتی ہے اور یہی حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماور خلفاءِ راشدین (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْ) کا معمول تھا۔ یہ جو جاہل عوام میں مشہور ہے کہ جب تک امام مصلے پر نہ آجائے اور صفیں درست نہ ہو جائیں تکبیر کہنے کو جائز نہیں جانتے، شریعت پر اِفترا ہے۔“حضور کی نگاہ ہر چیز ملاحظہ فرماتی ہے:حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ پسِ پشت دیکھنا نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بطورِمعجزہ خصوصیت ہو اور آپ کی پشت مبارک میں بصارت پیدا کی گئی ہو جس سے آپ دیکھتے ہوں جیساکہ مختار بن محمد نے اپنے رسالے ”الناصریۃ“ میں ذکر کیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دونوں کندھوں کے درمیان سوئی کی نوک کی مثل دو آنکھیں تھیں جن سے آپ دیکھتے تھے اور کپڑے ان آنکھوں کے دیکھنے میں رکاوٹ نہیں تھے۔ اور حدیث پاک میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماندھیرے میں بھی اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح روشنی میں دیکھتے تھے۔ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک کو ظاہر پر محمول کرنا ہی زیادہ بہتر ہے کہ اس سے شارععَلَیْہِ السَّلَامکی فضیلت میں زیادتی ہوگی۔ امام احمد اور جمہور علماءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامفرماتے ہیں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ دیکھنا حقیقتاً آنکھ ہی سے دیکھنا ہے اور ازرُوئے عقل بھی اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”دیکھنے سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔یہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا معجزہ ہے کہ آپ کی آنکھیں آگے پیچھے اور پسِ پردہ اندھیرے اجیالے میں یکساں دیکھتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ معجزہ صرف نماز سے خاص نہیں تھا نہ حیات شریف سے۔ وہ حدیث کہ میں دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا بالکل بے اصل ہے جیسا کہ شیخ نے فرمایا:’’اورا اصلے نیست‘∞‘(یعنی اس کی کوئی اصل نہیں ہے)اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حضرت عیسیٰرُوحُ اﷲ(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھر میں کھا کر بچا کر آتے ہو میں بتاسکتا ہوں، یہ توحَبِیْبُ اﷲکی آنکھ ہےصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔“ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:”حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ شریف آگےپیچھے، داہنے بائیں، اندھیرے اجالے میں ہر چیز دیکھ لیتی ہے جیسے ہمارے کان ہرطرف کی آواز بہرحال سن لیتے ہیں ایسے ہی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ مبارک۔ دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ پاک کے لیے کوئی چیز آڑ یا حجاب نہیں۔ جب حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامتین میل کے فاصلے سے چیونٹی کو دیکھ لیں اور اس کی آواز سن لیں، آصَف بِن برخیا شام میں بیٹھے بلقیس کے یمنی تخت کو دیکھ لیں، عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامگھروں کے اندر کھائے ہوئے کھانے اور جمع کیے ہوئے غلے کو ملاحظہ فرمالیں تو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمتو سیدالانبیا ہیں۔ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمبیک وقت رب کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں اور عالَم کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں، ادھر کی توجہ ادھر سے بے خبر نہیں کرتی۔ یہ دیکھو بحالتِ نماز حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا خشوع خضوع رب کی طرف تو جہ بدرجۂ کمال حاصل ہے مگر اسی وقت اپنے ہر اُمَّتی پر نگاہ بھی ہے۔ ہر امتی کو چاہیے کہ نماز میں خیال رکھے کہ مجھے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمدیکھ رہے ہیں۔ دیکھو سرکار نے فرمایا کہ میں تم کو پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں تا قیامت سرکار اپنے ہر اُمَّتی کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔“صفوں میں ٹخنے سے ٹخنہ ملانا:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ” کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملانے کا مطلب یہ ہےکہ صفوں کو خوب سیدھا رکھا جائے اوردرمیان میں خالی جگہ بالکل نہ چھوڑی جائے۔“نزہۃ القاری میں ہے:”بعض لوگ اس سے یہ اِستدلال کرتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ہر نمازی اپنے پاؤں کے ٹخنے اپنے برابر والے کے ٹخنوں سے چپکا کر کھڑا ہو۔ اسی وجہ سے وہ نماز میں ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا یہ عمل پوری اُمَّت کے تعامُل(عمل کرنے) کے خلاف ہے۔ پوری اُمَّت نے کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملانے سے یہ معنی مراد لیے ہیں کہ خوب مل کر کھڑے ہوں اور یہ اِتِّصَالِ صفوف (صفوں میں باہم مل کر کھڑے ہونے)میں مبالغہ(بہت زیادہ زور دینے)پر محمول ہے۔ انسان کے جسم کی ساخت ایسی ہے کہ کندھے سے کندھا اچھی طرح ملانے کے بعد ٹخنے سے ٹخنہ ملانے میں کافی تکلف و مشقت اُٹھانی پڑے گی اور کھڑے ہونے کی ہیئت بھی انتہائی نامناسب ہو جائے گی، تکلف و مشقت کی وجہ سے خشوع و خضوع میں بھی خلل واقع ہوگا۔ کسی حدیث میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قدم سے قدم ملانے کا حکم نہیں دیا اور اس حدیث پاک میں جو قدم سے قدم ملانے کا ذکر ہے یہ اصل میں راوی نے اِتِّصَال سے کھڑے ہونے کا جو منظر دیکھا تھا اسے مبالغہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسی لیے حضرت سَیِّدُنا عبدُاﷲبِن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملائے ہوئے نماز پڑھ رہا ہے تو فرمایا:”اس نے سنت کو چھوڑ دیا اگر یہ مُراوَحہ کرتا یعنی اپنے دونوں پاؤں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھتا تو مجھے اچھا لگتا۔“ اس سے ظاہر ہوا کہ نماز میں ایسی ہیئت رکھنی چاہیے جس میں تکلف اور مشقت نہ ہو۔ ہمارے فقہاءِ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز میں دونوں قدموں کے درمیان تین سے چار اُنگل کا فاصلہ رکھے۔“
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1088