Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1088

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَاَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ:اَقِيْمُوْا صُفُوْفَكُمْ وَتَرَاصُّوْا فَاِنِّيْ اَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِيْ.( )وَفِیْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِي:وَكَانَ اَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال: اقيمت الصلاة فاقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه فقال:اقيموا صفوفكم وتراصوا فاني اراكم من وراء ظهري.( )وفی رواية للبخاري:وكان احدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا چہرۂ انور ہماری طرف کیا اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔“ بخاری کی ایک روایت میں ہےراوی فرماتے ہیں :” ہم میں سے ہرشخص اپنا کندھا برابر والے کے کندھے سے اورقدم برابر والے کے قدم سے ملا کررکھتا تھا۔“

شرح حدیث

صفوں میں تین چیزوں کا خیال رکھنا:فقیہِ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”صفوں کے بارے میں تین چیزوں کا حضور اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمبہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے، اَوَّل اگلی صف پوری کرلی جائے، دوسری خوب مل کر کھڑے ہوں،تیسری صفیں بالکل سیدھی رہیں۔صفوں کی درستگی کا حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکو جتنا اہتمام تھا وہ ظاہر ہے۔ بعد میں خلفاءِ راشدین بھی اس کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے کچھ لوگوں کو مقرر فرمادیا تھا، جب تک وہ لوگ اطلاع نہیں دیتے کہ صفیں درست ہوگئیں نماز نہیں شروع فرماتے۔ حضرت علی ،حضرت عثمان غنی (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا) بھی اس کا خصوصی اہتمام کرتے۔ حضرت علی (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کی عادت یہ تھی کہ نام لے لے کر فرماتے: ”اےفلاں آگے بڑھ، اے فلاں پیچھے ہٹ۔“(مزید فرماتے ہیں )ان سب احادیث سے معلوم ہوا کہ اقامت کے بعد بھی اگر صفیں درست نہ ہوں تو جب تک صفیں درست نہ ہوں تکبیرِ تحریمہ میں تاخیر کی جاسکتی ہے اور یہی حضورِ اقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّماور خلفاءِ راشدین (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْ) کا معمول تھا۔ یہ جو جاہل عوام میں مشہور ہے کہ جب تک امام مصلے پر نہ آجائے اور صفیں درست نہ ہو جائیں تکبیر کہنے کو جائز نہیں جانتے، شریعت پر اِفترا ہے۔“حضور کی نگاہ ہر چیز ملاحظہ فرماتی ہے:حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”ممکن ہے کہ پسِ پشت دیکھنا نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بطورِمعجزہ خصوصیت ہو اور آپ کی پشت مبارک میں بصارت پیدا کی گئی ہو جس سے آپ دیکھتے ہوں جیساکہ مختار بن محمد نے اپنے رسالے ”الناصریۃ“ میں ذکر کیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دونوں کندھوں کے درمیان سوئی کی نوک کی مثل دو آنکھیں تھیں جن سے آپ دیکھتے تھے اور کپڑے ان آنکھوں کے دیکھنے میں رکاوٹ نہیں تھے۔ اور حدیث پاک میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماندھیرے میں بھی اسی طرح دیکھتے تھے جس طرح روشنی میں دیکھتے تھے۔ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک کو ظاہر پر محمول کرنا ہی زیادہ بہتر ہے کہ اس سے شارععَلَیْہِ السَّلَامکی فضیلت میں زیادتی ہوگی۔ امام احمد اور جمہور علماءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامفرماتے ہیں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ دیکھنا حقیقتاً آنکھ ہی سے دیکھنا ہے اور ازرُوئے عقل بھی اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”دیکھنے سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔یہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا معجزہ ہے کہ آپ کی آنکھیں آگے پیچھے اور پسِ پردہ اندھیرے اجیالے میں یکساں دیکھتی ہیں۔ حق یہ ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ معجزہ صرف نماز سے خاص نہیں تھا نہ حیات شریف سے۔ وہ حدیث کہ میں دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا بالکل بے اصل ہے جیسا کہ شیخ نے فرمایا:’’اورا اصلے نیست‘∞‘(یعنی اس کی کوئی اصل نہیں ہے)اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حضرت عیسیٰرُوحُ اﷲ(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھر میں کھا کر بچا کر آتے ہو میں بتاسکتا ہوں، یہ توحَبِیْبُ اﷲکی آنکھ ہےصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔“ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:”حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ شریف آگےپیچھے، داہنے بائیں، اندھیرے اجالے میں ہر چیز دیکھ لیتی ہے جیسے ہمارے کان ہرطرف کی آواز بہرحال سن لیتے ہیں ایسے ہی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ مبارک۔ دوسرے یہ کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی آنکھ پاک کے لیے کوئی چیز آڑ یا حجاب نہیں۔ جب حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامتین میل کے فاصلے سے چیونٹی کو دیکھ لیں اور اس کی آواز سن لیں، آصَف بِن برخیا شام میں بیٹھے بلقیس کے یمنی تخت کو دیکھ لیں، عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامگھروں کے اندر کھائے ہوئے کھانے اور جمع کیے ہوئے غلے کو ملاحظہ فرمالیں تو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمتو سیدالانبیا ہیں۔ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمبیک وقت رب کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں اور عالَم کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں، ادھر کی توجہ ادھر سے بے خبر نہیں کرتی۔ یہ دیکھو بحالتِ نماز حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا خشوع خضوع رب کی طرف تو جہ بدرجۂ کمال حاصل ہے مگر اسی وقت اپنے ہر اُمَّتی پر نگاہ بھی ہے۔ ہر امتی کو چاہیے کہ نماز میں خیال رکھے کہ مجھے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمدیکھ رہے ہیں۔ دیکھو سرکار نے فرمایا کہ میں تم کو پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں تا قیامت سرکار اپنے ہر اُمَّتی کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔“صفوں میں ٹخنے سے ٹخنہ ملانا:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ” کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملانے کا مطلب یہ ہےکہ صفوں کو خوب سیدھا رکھا جائے اوردرمیان میں خالی جگہ بالکل نہ چھوڑی جائے۔“نزہۃ القاری میں ہے:”بعض لوگ اس سے یہ اِستدلال کرتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ہر نمازی اپنے پاؤں کے ٹخنے اپنے برابر والے کے ٹخنوں سے چپکا کر کھڑا ہو۔ اسی وجہ سے وہ نماز میں ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا یہ عمل پوری اُمَّت کے تعامُل(عمل کرنے) کے خلاف ہے۔ پوری اُمَّت نے کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملانے سے یہ معنی مراد لیے ہیں کہ خوب مل کر کھڑے ہوں اور یہ اِتِّصَالِ صفوف (صفوں میں باہم مل کر کھڑے ہونے)میں مبالغہ(بہت زیادہ زور دینے)پر محمول ہے۔ انسان کے جسم کی ساخت ایسی ہے کہ کندھے سے کندھا اچھی طرح ملانے کے بعد ٹخنے سے ٹخنہ ملانے میں کافی تکلف و مشقت اُٹھانی پڑے گی اور کھڑے ہونے کی ہیئت بھی انتہائی نامناسب ہو جائے گی، تکلف و مشقت کی وجہ سے خشوع و خضوع میں بھی خلل واقع ہوگا۔ کسی حدیث میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے قدم سے قدم ملانے کا حکم نہیں دیا اور اس حدیث پاک میں جو قدم سے قدم ملانے کا ذکر ہے یہ اصل میں راوی نے اِتِّصَال سے کھڑے ہونے کا جو منظر دیکھا تھا اسے مبالغہ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسی لیے حضرت سَیِّدُنا عبدُاﷲبِن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملائے ہوئے نماز پڑھ رہا ہے تو فرمایا:”اس نے سنت کو چھوڑ دیا اگر یہ مُراوَحہ کرتا یعنی اپنے دونوں پاؤں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھتا تو مجھے اچھا لگتا۔“ اس سے ظاہر ہوا کہ نماز میں ایسی ہیئت رکھنی چاہیے جس میں تکلف اور مشقت نہ ہو۔ ہمارے فقہاءِ کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز میں دونوں قدموں کے درمیان تین سے چار اُنگل کا فاصلہ رکھے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1088