Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1084

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اََبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ اَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا اٰخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوْفِ النِّسَاءِ اٰخِرُهَا، وَشَرُّهَا اَوَّلُهَا.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خير صفوف الرجال اولها، وشرها اخرها، وخير صفوف النساء اخرها، وشرها اولها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”مَردوں کی صفوں میں زیادہ ثواب و فضیلت پہلی صف میں ہےاورکم ثواب کی حامل آخری صف ہےاور عورتوں کی صفوں میں زیادہ ثواب والی آخری صف ہے اورکم ثواب کی حامل پہلی صف ۔“

شرح حدیث

مَردوں کی آخری صف میں کم ثواب کیوں؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مَردوں کی پہلی صف میں ثواب و فضیلت اس لئے زیادہ ہےکہ وہ امام سے قریب ہے،اس میں امام کی قراءت صحیح سنائی دیتی ہے،اس صف پراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اوراس صف والوں کے لئے فرشتے دعا کرتے ہیں اور آخری صف والے چونکہ اِن فضائل سے محروم رہتے ہیں۔“عورتوں کےمسجدمیں حاضرہونے کاحکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عورتوں کا کسی بھی نماز کو باجماعت ادا کرنے کے لئے مسجد میں حاضر ہونا مکروہِ تحریمی و ناجائز ہے اور عورتوں کا اپنی جماعت کرانا بھی مکروہِ تحریمی ہے، آج جبکہ فتنہ و فساد کا تسلط ہے، ایسے میں عورتوں کو اس کی اجازت دینا فتنوں کا دروازہ کھولنا ہے۔اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں:’’ اگر رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِن عورتوں کی وہ باتیں دیکھ لیتےجو اِنہوں نے ابھی نکالی ہیں تو ضرور اِن کو مسجد کی حاضری سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔‘‘علامہ بدر الدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اگر اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاوہ بدعات و منکرات مشاہدہ فرما لیتیں جو اِس زمانہ کی عورتوں نے نکالی ہیں تو انکار اور زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا بالخصوص شہر کی عورتیں ، کیونکہ ان میں ایسی بدعات ہیں جن کو بیان نہیں کیا جا سکتااور ایسی منکرات ہیں کہ جس سے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘فقیہِ اعظم مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اُمُّ المؤمنین حضرت صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے اپنے عہد کی بات بتائی ہے، جو عہدِصحابہ تھا کہ عورتوں نے جو ڈھنگ بنا لئے ہیں اگر حضورِ اَقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمانہیں دیکھ لیتے تو مسجدوں میں انہیں آنے سے روک دیتے۔ یہ صرف اُمُّ المؤمنین ہی سے نہیں، متعدد صحابہ کرام سے مَروی ہے ، حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’عورت چھپانے کی چیز ہے ،اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہےجب وہ گھر کے اندر ہوتی ہے، جب باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان جھانکتا ہے۔‘‘ نیز انہوں نے بڑے مبالغہ کے ساتھ قسم کھا کر فرمایا:’’عورت کی گھر کے اندر کی نماز سے زیادہ پیاری اور کوئی چیز نہیں‘‘ہاں حج و عمرہ کی بات اور ہے۔ ایک عورت نے ان سے مسجد میں جمعہ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:’’گھر کے اندرونی حصہ میں تیری نماز گھر والی سے بہتر ہے اور گھر کے اندر تیری نماز بیرونی کمرے سے بہتر ہے اور بیرونی کمرے میں نمازتیری قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے۔‘‘حضرت ابن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُجمعہ کے دن جو عورتیں مسجد میں آتیں انہیں کنکری مارتے تھے۔ آج کے حالات کی وجہ سے عورتوں کو مسجد میں آنے سے مطلقاً ممانعت ہے، دفعِ فتنہ اہم واجبات میں سے ہے۔“مدنی گلدستہ’’ چل مدینہ ‘‘کے7حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صفوں میں افضل ترین پہلی صف ہے اور سب سے کم ثواب آخری صف میں ہے ۔
(2) صف بناتے وقت جب تک پہلی صف دونوں کونوں تک مکمل نہ ہو اس وقت تک دوسری صف شروع نہ کی جائے ،پھر جب تک دوسری مکمل نہ ہو تیسری شروع نہ کی جائے،اسی طرح دیگر صفوں میں خیال رکھا جائے ۔
(3) حتَّی الامکان پہلی صف کے حُصُول کی شش کرنی چاہیے کہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے پہلی صف والوں پر رحمتِ الٰہی کی برسات ہوتی ہے ،فرشتے ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔
(4) پہلی صف کے عادی شخص کو مسجد میں جلدی آنے کی توفیق ملتی ہے، امام کا قُرب نصیب ہوتاہے، قراءت صحیح سنائی دیتی ہے،لوگوں کی طرف متوجہ ہونے سے بچا رہتاہے ۔
(5) ملائکہ مقربین ہر وقت صف باندھے اپنے ربّ
عَزَّ وَجَلَّکی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔
(6) صفوں میں نماز پڑھنے سےنمازیوں کی زیادہ تعداد شاملِ جماعت ہوسکتی ہےاورمسلمانوں کو صفوں میں نماز پڑھتا دیکھ کر شیطان ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
(7) اگر کسی اہم کام کے لئے کئی حق دار جمع ہوجائیں اور کسی کو فوقیت دینے کی کوئی وجہ نہ ہو تو قرعہ اندازی سے کسی ایک کوترجیح دی جاسکتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں صف اول میں نمازاداکرنے کی توفیق فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1084