- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُنا جابر بن سَمُرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم اِس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کےحضور صفیں بناتے ہیں؟“ ہم نے عرض کی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرشتے اپنے ربّ کے حضور کس طرح صفیں بناتے ہیں؟“ارشاد فرمایا: ”وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَلَا تَصُفُّوْنَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ فَقُلْنَا يَارَسُوْلَ اللهِ! وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْاُوَلَ وَيَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1082 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ” اگر لوگ جانتے کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا ثواب ہےتو اُن کے حصول کے لئے اگرقرعہ اندازی بھی کرنا پڑتی تو ضرورکرتے۔“
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْاَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا اِلَّا اَنْ يَسْتَهِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1083 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”مَردوں کی صفوں میں زیادہ ثواب و فضیلت پہلی صف میں ہےاورکم ثواب کی حامل آخری صف ہےاور عورتوں کی صفوں میں زیادہ ثواب والی آخری صف ہے اورکم ثواب کی حامل پہلی صف ۔“
عَنْ اََبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ اَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا اٰخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوْفِ النِّسَاءِ اٰخِرُهَا، وَشَرُّهَا اَوَّلُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1084 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنےبعض اصحاب کو پیچھے رہتے دیکھا تو فرمایا: ”آگے بڑھو اور میری پیروی کرو اور جو تمہارے بعد آئیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ مسلسل پیچھےہوتے رہیں گے یہاں تک کہاﷲتعالیٰ بھی انہیں پیچھے کر دے گا۔“
عَنْ اَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى فِيْ اَصْحَابِهِ تَاَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ: تَقَدَّمُوْا فَاْتَمُّوْا بِیْ، وَلْيَاْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَاَخَّرُوْنَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1085 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز میں اپنے دستِ مبارک سے ہمارے کندھوں کو چھوتے اور فرماتے: ”برابر ہو جاؤ، الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ ہو جائیں گے اور تم میں سے بالغ و عقلمند لوگ میرے قریب رہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔“
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِی الصَّلَاةِ، وَيَقُوْلُ: اسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ، لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُوْلُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1086 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی میں نماز کی تکمیل ہے ۔“اور بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ” صفوں کو سیدھا رکھنا نماز قائم کرنا ہے ۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوْا صُفُوْفَكُمْ فَاِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ.( ) وَفِيْ رِوَايَةِ الْبُخَارِيْ: فَاِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوْفِ مِنْ اِقَامَةِ الصَّلَاةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1087 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا چہرۂ انور ہماری طرف کیا اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔“ بخاری کی ایک روایت میں ہےراوی فرماتے ہیں :” ہم میں سے ہرشخص اپنا کندھا برابر والے کے کندھے سے اورقدم برابر والے کے قدم سے ملا کررکھتا تھا۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: اُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَاَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ:اَقِيْمُوْا صُفُوْفَكُمْ وَتَرَاصُّوْا فَاِنِّيْ اَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِيْ.( )وَفِیْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِي:وَكَانَ اَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1088 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا کہ”یاتو تم اپنی صفیں سیدھی رکھو گے یااﷲعَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔“اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتے تھے گویا ان سے تیر سیدھے فرما رہے ہوں، یہاں تک کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خیال فرمایا کہ ہم آپ سے (صف سیدھی کرنا) سیکھ چکے ہیں، پھر ایک دن آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنماز کے لیے تشریف لائے، (جائے نماز پر) کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندو! یاتو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یااﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔“
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُسَوِّيْ صُفُوْفَنَا حَتَّى كَاَنَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتّٰى كَادَ يُكَبِّرُ، فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: عِبَادَ اللهِ، لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1089 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصف میں داخل ہوکر ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک جاتے اور ہمارے سینوں اور کندھوں کو چھوتے اور ارشاد فرماتے: ” خالی جگہ نہ چھوڑو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوگا۔“اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے تھے: ”بےشکاﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں۔“
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ اِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُوْرَنَا وَمَنَاكِبَنَا وَيَقُوْلُ: لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ يَقُوْلُ: اِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى الصُّفُوْفِ الْاُوَلِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1090 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرورِ دوجہاںصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”صفوں کو سیدھا رکھو، کندھے برابر رکھو، خالی جگہیں پُر کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو اور جو صف کو ملاتا ہےاﷲتعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو صف کو توڑتا ہےاﷲتعالیٰ اسے توڑتا ہے۔“
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنهُما: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَقِيْمُوا الصُّفُوْفَ وَحَاذُوْا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الخَلَلَ وَلِيْنُوْا بِاَیْدِيْ اِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1091 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی کرو اور صفیں قریب بناؤ، اپنی گردنیں (یعنی کندھے) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں شیطان کو صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں داخل ہوتاہوا دیکھتا ہوں گویا وہ بکری کا چھوٹا سیاہ بچہ ہے۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُصُّوْا صُفُوْفَكُمْ وَقَارِبُوْا بَيْنَهَا وَحَاذُوْا بِالْاَعْنَاقِ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنِّي لَاَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ کاَنَّهَا الْحَذَفُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1092 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”پہلے اگلی صف پوری کرو پھر اس کے بعد والی صف، پس اگر کوئی کمی رہےتو آخری صف میں رہے۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَتِمُّوا الصَّفَّ المُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِيْ يَلِيْهِ فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ في الصَّفِّ المُؤَخَّرِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1093 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”بےشکاﷲتعالیٰ اوراس کے فرشتے صف کے دائیں جانب والوں پر درود بھیجتے ہیں۔“
عَنْ عَائِشَة رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوْفِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1094 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا براءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نماز پڑھتے تو آپ کی دائیں جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تاکہ آپعَلَیْہِ السَّلَاماپنے رُخ انور سے ہماری طرف متوجہ ہوں ، میں نے آپ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:”اے میرے رب! مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اُٹھائے گا یا (فرمایا) جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنَّا اِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَحْبَبْنَا اَنْ نَكُوْنَ عَنْ يَمِيْنِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ اَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1095 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”امام کو درمیان میں کھڑا کرو اور خالی جگہ پُر کرو۔“
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسِّطُوا الْاِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1096 ، باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان