Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1089

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُسَوِّيْ صُفُوْفَنَا حَتَّى كَاَنَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتّٰى كَادَ يُكَبِّرُ، فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: عِبَادَ اللهِ، لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوْهِكُمْ.

عن النعمان بن بشير رضی اللہ عنہما قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم.وفي رواية لمسلم: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم کان يسوي صفوفنا حتى كانما يسوي بها القداح حتى راى انا قد عقلنا عنه، ثم خرج يوما فقام حتى كاد يكبر، فراى رجلا باديا صدره من الصف، فقال: عباد الله، لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا کہ”یاتو تم اپنی صفیں سیدھی رکھو گے یااﷲعَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔“اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتے تھے گویا ان سے تیر سیدھے فرما رہے ہوں، یہاں تک کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خیال فرمایا کہ ہم آپ سے (صف سیدھی کرنا) سیکھ چکے ہیں، پھر ایک دن آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنماز کے لیے تشریف لائے، (جائے نماز پر) کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندو! یاتو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یااﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔“

شرح حدیث

دلوں میں اختلاف کا ایک سبب:حدیث پاک میں بیان ہوا کہ” حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامصفوں کو اس طرح سیدھا کرتے گویا ان سے تیر سیدھے فرماتے ہوں۔ ”یعنی نمازیوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجاوے۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلےقِدْحکہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعدسَہْمٌ،قِدْحنہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں جس کے برابرقِدْحکو لیتے ہیں یعنی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمصفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسےقِدْحسیدھی کرنے والی لکڑی۔“ پھر جب آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ خیال فرمایا کہ صحابہ کرام صفوں کو برابر کرنا سیکھ گئے ہیں ”تب آپ نے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا، صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے تھے۔“(یاتو تم اپنی صفیں سیدھی رکھو گے یااﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔)” یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے، شیرازہ بکھر جائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ ان میں سوز و گُداز، درد،خشوع خضوع نہ رہے گا یا اندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مَسخ ہوجائیں(بگڑ جائیں) جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے، یعنی یہاںوَجْہٌیابمعنیٰ ذات ہے یا بمعنیٰ چہرہ۔ خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہری عذاب حضور مصطفےٰصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی یا تو لوگ صفیں سیدھی رکھیں گے یا پھر ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوگا۔ اختلاف پیدا ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دل ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں گے یعنی ان کے ارادے بدل جائیں گے اور پھر اس وقت لوگوں کے درمیان فتنہ پھیل جائے گا اور وہ ایک دوسرے کی مخالفت کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کا رعب و دبدبہ کم ہو جائے گا، دشمن ان پر مسلط ہو جائیں گے ، برائی عام ہوجائے گی اور عبادات کم ہو جائیں گی، الغرض صفیں درست نہ کرنے میں اتنی کثیرخرابیاں ہیں کہ شمار نہیں کی جاسکتیں۔ نیز حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جس شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تھا اُسے خصوصیت کے ساتھ نام لے کر منع نہیں کیا (بلکہ فرمایا: اےاﷲکے بندو) کیونکہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی یہ عادتِ کریمہ ہے کہ لوگوں کی بہت زیادہ پردہ پوشی فرمایا کرتے تھے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1089