Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1085

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰى فِيْ اَصْحَابِهِ تَاَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ: تَقَدَّمُوْا فَاْتَمُّوْا بِیْ، وَلْيَاْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَاَخَّرُوْنَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللهُ.

عن ابی سعيد الخدري رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى في اصحابه تاخرا فقال لهم: تقدموا فاتموا بی، ولياتم بكم من بعدكم، لا يزال قوم يتاخرون حتى يؤخرهم الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنےبعض اصحاب کو پیچھے رہتے دیکھا تو فرمایا: ”آگے بڑھو اور میری پیروی کرو اور جو تمہارے بعد آئیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ مسلسل پیچھےہوتے رہیں گے یہاں تک کہاﷲتعالیٰ بھی انہیں پیچھے کر دے گا۔“

شرح حدیث

صحابہ کرام کی پیروی میں نجات ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:” آگے بڑھو اور میری پیروی کرو ،اور تمہارے بعد والے تمہاری پیروی کریں۔“ اس فرمانِ عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں:پہلا یہ کہ تاخیر کئے بغیر میرے پیچھےصف بنا لو اورصفوں کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے صفیں بناؤ اور ہر صف اپنے سےاگلوں کی پیروی کرے کیونکہ اگلی صف والے امام کے اِنتقالات(رکوع وسجود وغیرہ)سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مجھ سے ظاہری اور باطنی علوم سیکھے اور تمہارے بعد والے تم سے سیکھیں بعد والے ان سے سیکھیں اور قیامت تک یہ سلسلہ چلتا رہے۔“نیک کاموں میں سبقت:” کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہیں گے یہاں تک کہاﷲتعالیٰ انہیں پیچھے کردے گا۔“یعنی اگرمسلمان صفِ اَوَّل میں پہنچنے یا اور دینی کاموں میں سُستی کریں گے تو ثواب، رحمت، رب کے فضل اور دُخُولِ جنت میں پیچھے رہیں گے، دیکھو حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسیدالانبیاہوکر ہر نیک کام میں سبقت کرتے تھے، رب تعالیٰ فرماتاہے:﴿ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِؕ-﴾(پ۶،المائدۃ:۴۸)(ترجمۂ کنزالایمان: تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو)۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”کچھ لوگ پیچھے رہیں گے یعنی پہلی صف سے پیچھے رہیں گے یہاں تک کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّانہیں اپنی رحمت یا اپنے فضلِ عظیم، بلند مرتبوں،علم اور ان جیسی دیگر عظیم نعمتوں سے پیچھے ہٹادے گا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1085