Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1086

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِی الصَّلَاةِ، وَيَقُوْلُ: اسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ، لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ اُوْلُو الْاَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.

عن ابی مسعود رضی اللہ عنہ قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم یمسح مناكبنا فی الصلاة، ويقول: استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم، ليلني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز میں اپنے دستِ مبارک سے ہمارے کندھوں کو چھوتے اور فرماتے: ”برابر ہو جاؤ، الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ ہو جائیں گے اور تم میں سے بالغ و عقلمند لوگ میرے قریب رہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔“

شرح حدیث

دل اورظاہری بدن کا باہمی تعلق:حضرت ابو مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنماز کے وقت ہمارے کندھوں کو چھوتےاور فرماتے:”برابر ہو جاؤ الگ الگ نہ رہو ورنہ تمہارے دل الگ ہو جائیں گے۔“یعنی نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصفیں سیدھی کروانے کے لئے اپنے دستِ اقدس سے لوگوں کے کندھوں کو برابر کرتے یہاں تک کہ کوئی بھی صف سے آگے پیچھے نہ ہوتا۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:” معلوم ہوا کہ صفیں ٹیڑھی ہونے سے قومیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں کیونکہ قالِب(ظاہری بدن ) کا اثرقلب (دل) پر اور قلب کا اثر قالب پر پڑتا ہے، نہانے سے دل ٹھنڈا ہوتا ہے اور دل کی خوشی و غم کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”دل کی حیثیت اس بادشاہ و سردارجیسی ہے جس کی اطاعت و پیروی کی جاتی ہے اور تمام اعضا اس کے تابع ہوتے ہیں، بادشاہ ٹھیک رہے تو رعایا بھی ٹھیک رہتی ہے ، بادشاہ راہِ راست پر رہے تو رعایا بھی راہِ راست پر رہتی ہے۔اس کی تائید ووضاحت حدیثِ پاک میں ہے:” جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو تمام جسم درست رہتا ہے اورجب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، سنو! وہ ٹکڑا دِل ہے۔“ پس اس مقام میں یہی تحقیق ہے کہ دل اور اعضا کے درمیان ایسا عجیب و غریب تعلق و اثر ہے کہ ایک کی مخالفت دوسرے میں اثر انداز ہوتی ہے اگرچہ اصل مدار دل ہی ہے۔ جیساکہ جب ظاہری بدن پر سردی لگتی ہے تو باطن میں بھی اس کا اثر ہوتا ہے اور اسی طرح جب اندرونی طورپر ٹھنڈ لگتی ہے تو ظاہر میں بھی اس کا اثر ہوتا ہے ایسے ہی دل اور اعضا کا تعلق ہے بلکہ ان کے درمیان اس سے بھی زیادہ تعلق ہے۔“اہل فضل کو مقدم رکھنے کی وجوہات:حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:” تم میں سے بالغ و عقلمند لوگ میرے قریب رہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔“یعنی صفِ اول میں مجھ سے قریب فُقہا صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اور عبداﷲابنِ عباس و عبداﷲابنِ مسعود وغیرہُم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اوروں کو سمجھائیں اور بوقتِ ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ، ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں۔سُبْحَانَ اﷲ! حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تعلیم نماز میں بھی جاری رہتی تھی۔ خیال رہے کہ یہ حدیث جماعت کے صدہا مسائل کی اصل ہے۔ فقہا جو فرماتے ہیں کہ نماز میں پہلے مَردوں کی صف ہو پھر بچوں کی پھر خُنْثوں کی پھر عورتوں کی اس کا ماخذ بھی یہی حدیث ہے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ صاحِبِ فضیلت افراد کو مُقدم کرنا چاہیے اور انہیں امام کے قریب کھڑا کرنا چاہیے کیونکہ وہ احترام کے زیادہ حق دار ہیں،اور بعض اوقات امام کو خلیفہ بنانے کی ضرورت پیش آتی ہےتو خلیفہ افضل شخص بنے یہ زیادہ بہتر ہے اور اس لیے بھی کہ امام کو سَہو (یعنی بھول جانے) پر جتنے اچھے طریقے سے افضل شخص آگاہ کرسکتا ہے اس طرح کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ ان کو آگے کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ نماز کا طریقہ سیکھیں اور یاد کرلیں اور دوسروں کو سکھائیں تاکہ جو لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں وہ ان کے افعال کی پیروی کرسکیں اور افضل لوگوں کو آگے کرنا صرف نماز کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ سنت یہ ہے کہ اہلِ فضل حضرات کو ہر مجمع اور بڑی محفل میں جیساکہ علم،عدل وانصاف، ذِکر، مشاورت، جہاد، امامت، تدریس، اِفتا اور سماعِ حدیث کی محافل میں آگے بٹھایا جائےاور لوگوں کو بھی چاہیے کہ محافل وغیرہ میں اپنے علم و دِین،عقل وشرف،عمراور قدر و منزلت کے لحاظ سے بیٹھیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1086