Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1091

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنهُما: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَقِيْمُوا الصُّفُوْفَ وَحَاذُوْا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الخَلَلَ وَلِيْنُوْا بِاَیْدِيْ اِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللهُ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بایدي اخوانكم ولا تذروا فرجات للشيطان ومن وصل صفا وصله الله ومن قطع صفا قطعه الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرورِ دوجہاںصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”صفوں کو سیدھا رکھو، کندھے برابر رکھو، خالی جگہیں پُر کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو اور جو صف کو ملاتا ہےاﷲتعالیٰ اسے ملاتا ہے اور جو صف کو توڑتا ہےاﷲتعالیٰ اسے توڑتا ہے۔“

شرح حدیث

صف کی خالی جگہ پُر کرنے کا طریقہ:مذکورہ حدیث پاک میں صفیں سیدھی رکھنے، صف میں کندھا ملاکر کھڑے ہونے، صف میں خالی جگہ کو پُر کرنے اور شیطان کے لیے جگہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”(حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ) کندھے برابر رکھو، کندھے اس صورت میں برابر ہوں گے جب سب لوگ صف میں بالکل برابر اور مساوی کھڑے ہوں گے اور فرمایا کہ خالی جگہ کو پُر کرو،یعنی دو آدمیوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو نہ کم نہ زیادہ ،اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ یعنی صف سیدھی کرنے کے لیے جب کوئی تمہیں آگے یا پیچھے کرے تو اس کے ساتھ تعاون کرو تاکہ تمہیں نیک کام پر تعاون کرنے کی فضیلت حاصل ہو۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں: ”صف میں جگہ خالی نہ چھوڑو کیونکہ جب شیطان صفوں کے درمیان کوئی جگہ خالی دیکھتا ہے تو اس میں داخل ہوجاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔“اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”جو صف جوڑتا ہے یعنی صف میں شامل ہو کر خلا کو پُر کرتا ہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنی رحمت سے جوڑ لیتا ہے، اس کا درجہ بلند فرماتا ہے اور اسے صالح و فرمانبردار اور بہترین لوگوں کے مقام و مرتبہ کے قریب کردیتا ہے، اور جو صف کو توڑتا ہے یعنی صف سے بغیر کسی حاجت کے نکلتا ہے یا صف میں شامل ہوتے وقت بلاوجہ اپنے اور ساتھ والے نمازی کے درمیان جگہ خالی چھوڑ کر صف توڑتا ہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے توڑتا ہے یعنی اسے اپنے ثواب اور اپنی رحمت کی زیادتی سے دور کردیتا ہے، سنت یہ ہے کہ نمازی اس طرح مل کر کھڑے ہوں کہ ان کے درمیان کوئی کشادگی اور خلا نہ رہے گویا وہ ایسے کھڑے ہوں جیسے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1091