Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1095

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنَّا اِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَحْبَبْنَا اَنْ نَكُوْنَ عَنْ يَمِيْنِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ اَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ.

عن البراء رضی اللہ عنہ قال:کنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم احببنا ان نكون عن يمينه يقبل علينا بوجهه فسمعته يقول: رب قنی عذابك يوم تبعث او تجمع عبادك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نماز پڑھتے تو آپ کی دائیں جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تاکہ آپعَلَیْہِ السَّلَاماپنے رُخ انور سے ہماری طرف متوجہ ہوں ، میں نے آپ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:”اے میرے رب! مجھے اپنے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اُٹھائے گا یا (فرمایا) جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“

شرح حدیث

صف کی داہنی جانب کیوں پسندیدہ :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو داہنی جانب افضیلت کی وجہ سے محبوب تھی اور اس لئے بھی کہ جب سرکارِ دوعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلام پھیریں تو پہلے ہماری جانب متوجہ ہوں یا نماز سے فراغت کے بعد جب سیدھی جانب رُخِ انور کریں تو ہماری طرف توجہ رہے ۔“
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندائیں جانب کھڑا ہونا اس لیے پسند کرتے تاکہ سلام پھیرتےوقت آپ کی نگاہِ کرم پہلے ہم پر پڑے اور رُخِ روشن کا دیدار پہلے ہمیں نصیب ہو ،آپ کے عظیم خطاب سے پہلے ہم مشرف ہوں اور آپ کے رُوبَرو ہوکر انوار و برکات اور اَسرار و معارف کا فیضان پہلے ہمیں ملے، خصوصًانمازجو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور ربِّ کریم کے قُربِ عظیم کا ذریعہ ہے اس سے فارغ ہوتے ہی توجہ ہماری جانب ہو اور آپ کی برکتیں پہلے ہمیں ملیں ،یہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت کا بیان ہے اور یہ وہ راز ہے جس کے پیشِ نظرحضورعَلَیْہِ السَّلَامبزرگ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اپنے نزدیک کھڑے ہونے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔“حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں اس بات پر بھی دلیل ہے کہ جماعت کے بعد امام اپنے مصلے پر اسی حالت میں نہ بیٹھا رہے بلکہ کھڑا ہو جائے یا مصلے سے ہٹ جائے اور لوگوں کی طرف منہ پھیرلے تاکہ لوگوں کو مغالطہ نہ رہے اور جماعت کے بعد نماز میں شامل نہ ہوں۔ “حضور کے صدقےہماری مغفرت ہوگی :(اے میرے ربّ! بروزِمحشر مجھے اپنے عذاب سے بچانا)مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ دُعا اُمَّت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ ہم جیسے گنہگاراِنْ شَآءَ اﷲحضورعَلَیْہِ السَّلَامکی برکت سے عذاب سے نجات پائیں گے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو عذاب سے کیا تعلق۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1095