Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1090

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ اِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ صُدُوْرَنَا وَمَنَاكِبَنَا وَيَقُوْلُ: لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ يَقُوْلُ: اِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى الصُّفُوْفِ الْاُوَلِ.

عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخلل الصف من ناحية الى ناحية يمسح صدورنا ومناكبنا ويقول: لا تختلفوا فتختلف قلوبكم وكان يقول: ان الله وملائكته يصلون على الصفوف الاول.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصف میں داخل ہوکر ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک جاتے اور ہمارے سینوں اور کندھوں کو چھوتے اور ارشاد فرماتے: ” خالی جگہ نہ چھوڑو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوگا۔“اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے تھے: ”بےشکاﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکورمیں یہ بات بیان کی گئی کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنماز باجماعت کی ابتدا کرنے سے پہلے صف کی ایک جانب سے دوسری جانب تک تشریف لے جاتے اور صف میں جو بھی آگے یا پیچھے ہوتا اس کے سینہ یا کندھے کو اپنے دستِ اقدس سے چھوکر صف سیدھی فرماتے تھے اور ساتھ ہی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اس بات کی بھی نصیحت فرماتے تھے کہ صفوں میں اختلاف نہ کرو یعنی آگے پیچھے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوگا۔دِلوں کے اِختلاف سے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”(صفیں سیدھی نہ رکھنے سے )لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگااس طرح کہ ہر ایک اپنا منہ اپنے ساتھی سے پھیر لے گا کیونکہ صف میں دوسروں سے آگے ہونے والے کے بارے میں یہ گمان پیدا ہوگا کہ وہ تکبر کی وجہ سے آگے ہوا ہے اور تکبر دلوں میں فساد پیدا کرنے والی چیز ہے اور اس کے سبب کینہ پیدا ہوتا ہے تو جب لوگوں کے دلوں میں کینہ ہوگا تو ان کے درمیان بغض و عداوت اور باہمی اختلاف پیدا ہوجائے گا اور اجتماعیت ختم ہوجائے گی ۔“فرشتوں کا دعائے رحمت کرنا:(بےشکاﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں۔)مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی اگلی صف کے نمازیوں کے لیے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں اوراﷲتعالیٰ نزولِ رحمت فرماتا ہے،ربّ فرماتا ہے:﴿ هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ ﴾(پ۲۲، الاحزاب:۴۳)(ترجمہ ٔکنزالایمان: وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے)۔ خیال رہے کہاﷲتعالیٰ اور فرشتوں کا حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر درود اور نوعیت کا ہے اور نمازیوں پر اور نوعیت کا،حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر رحمتوں کی بارشیں ہورہی ہیں اور ہم پر چھینٹا ہے۔“
¥مدنی گلدستہ
’’طوافِ کعبہ ‘‘کے8حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اگر جماعت کے وقت صفیں سیدھی نہ رکھیں جائیں تو دِلوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔
(2) صفوں کی درستگی میں تین باتیں بہت ضروری ہیں:جب تک اگلی صف مکمل نہ ہو پیچھے صف نہ بنائی جائے ، صفوں میں کندھے سے کندھاملا ہوا ہو،صفیں بالکل سیدھی ہوں۔
(3) حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیک وقت ربّ کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں اور عالَمِ دنیا کا بھی مشاہدہ فرما رہے ہوتے ہیں۔
(4) ہر اُمَّتی کو چاہیے کہ نماز میں یہ خیال رکھے کہ امامُ ا لانبیا،محمدمصطفےٰ
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے ملاحظہ فرما رہے ہیں اس تصور سے اسے خشوع وخضوع نصیب ہوگا۔
(5) اِقامت کے بعد بھی اگر صفیں درست نہ ہوں تو صفیں درست کرنے کے لیے تکبیر تحریمہ میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔
(6) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ معجزہ تھا کہ آپ جس طرح سامنے کی چیزوں کو ملاحظہ فرماتے اسی طرح پسِ پشت بھی ملاحظہ فرمایاکرتے تھے۔
(7) نماز میں دوران ِ قیام دونوں قدموں کے درمیان تین سے چار اُنگل کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
(8) پہلی صف والوں پر
اﷲ عَزَّ وَجَلَّرحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں صفیں درست کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1090