Main Icon

باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 691

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَوْ قَدْجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ اَعْطَيْتُكَ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَافَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَينِ حَتّٰى قُبِضَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّاجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ اَمَرَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَنَادٰى:مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ اَوْدَ يْنٌ فَلْيَاْتِنَا فَاَتَيْتُهُ وَقُلْتُ لَهُ:اِنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيْ كَذَا وَكَذَا فَحَثٰى لِيْ حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَاِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَقَالَ لِي:خُذْ مِثْلَيْهَا.

عن جابررضی اللہ عنہ قال:قال لي النبي صلی اللہ علیہ وسلم:لو قدجاء مال البحرين اعطيتك هكذا وهكذا وهكذافلم يجئ مال البحرين حتى قبض النبي صلی اللہ علیہ وسلم فلماجاء مال البحرين امر ابو بكر رضی اللہ عنہ فنادى:من كان له عند رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عدة اود ين فلياتنا فاتيته وقلت له:ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال لي كذا وكذا فحثى لي حثية فعددتها فاذا هي خمس مائة فقال لي:خذ مثليها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا :”اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اوراتنا دوں گا۔‘‘ مگر بحرین کامال آنے سے قبل ہی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے پردہ فرما گئے۔پھر جب بحرین کا مال آیا توامیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ اِعلان کروادیا کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جس کاکوئی عہدیا قرض تھا وہ ہمارے پاس آجائے۔چنانچہ میں نےحاضرخدمت ہوکرعرض کی:’’نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھے اتنا اتنا دینے کا ارشاد فرمایا تھا۔‘‘پس آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےمجھے دونوں ہا تھوں سے بھر کر عطا فرمادیا۔ جب میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے۔پھر فرمایا: ’’اتنے ہی دو مرتبہ اور لے لو۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المومنین حضر ت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُن تمام وعدوں کو پورا کیا جوآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنی ظاہری حیاتِ طیبہ میں لوگوں سے کئے اور انہیں پورا کرنے سے قبل ہی دنیا سے پردہ فرما گئے۔ اس سے سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے عشقِ رسول کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مال دینے میں جلدی کرنے کی وجوہات:دلیل الفالحین میں ہے :”میں تمہیں اتنا اوراتنا اوراتنا دوں گا۔“یہ فرمانِ عالی تین دفعہ دینے کی کیفیت سے کنایہ ہے۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یہ فرماتے ہوئےآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے مبارک ہاتھ تین مرتبہ پھیلائے۔امیرالمومنین سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےحضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو مال دینے میں جلدی کی،اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں:(1)آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی دینداری وسچائی سے واقف تھے کہ وہ مال کے لئے ہر گز غلط بیانی نہیں کرسکتے اس لئے فوراً مال دے دیا۔(2) یہ بھی ممکن ہے دلائل وشواہد قائم کئے گئے ہوں پھر مال دیا گیا ہو کیونکہ فرد واحد کےمطالبہ پر عامۃ المسلمین کے مال میں تصرف درست نہیں خواہ مطالبہ کرنے والا کتنا ہی نیک کیو ں نہ ہو۔(3) آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکوبذاتِ خود حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے کیے جانے والے وعدے کا علم تھا اورحاکم اپنے علم کی بنیاد پر بیت المال میں تصرف کر سکتا ہے۔(4)وہ وعدہ درحقیقت بیت المال سے دینے ہی کا تھا جس کی تقسیم امام کی رائے پر موقوف ہوتی ہے۔بائیس دن تک انتظار:منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنااسماعیلعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے کسی سے ایک جگہ ملنے کاوعدہ فرمایا وہ شخص وہاں نہ آیا بلکہ بھول گیا تو آ پعَلَیْہِ السَّلَاماس کے انتظار میں وہاں بائیس دن تک ٹھہرے رہے۔مدنی گلدستہ’’عرفات ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) وعدہ پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے ۔
(2) تکمیلِ وعدہ کیلئے سَیِّدُنا اسماعیل
عَلَیْہِ السَّلَامبائیس دن تک ایک مقام پر ایک شخص کا انتظار کرتے رہے ۔
(3) فردِواحدکے مطالبہ پر عام مسلمانوں کے مال میں تَصَرُّف درست نہیں خواہ مطالبہ کرنے والا کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔
(4) سَیِّدُنا صدیق اکبر
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے دورِ خلافت میں وہ تمام وعدے پورے کئے جنہیں سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپورا کرنے سے قبل ہی دنیا سے پردہ فرماگئے۔
(5)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے اپنے وعدے ضرور پورے کرتے ہیں اگر چہ شدید مشقت اٹھانی پڑے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وعدہ خلافی سے بچائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 691