Main Icon

باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 690

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْن الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُما:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰى يَدَعَهَا: اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ اِذَا عَاهَدَ غَدَرَوَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما:ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:اربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: اذا اؤتمن خان و اذا حدث كذب و اذا عاهد غدرواذا خاصم فجر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ نِرا منافق ہوگااور جس میں ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت ہوتو اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے۔(وہ چارباتیں یہ ہیں):(1)جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے (2)جب بات کرے توجھوٹ بولے (3)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(4)جب جھگڑے تو گالیاں بَکے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیث میں جن چاربُرائیوں کا ذکرہواوہ چاروں ہی مسلمانوں کے لئے باعث تکلیف ہیں کیونکہ جھوٹ میں دھوکا دہی ہے،خیانت میں مالی نقصان ہے، وعدہ خلافی باعث اذیت ہے اورگالی میں بے عزتی ہےاور اسلام میں یہ سب باتیں ممنوع اوراِن کا مرتکب سزا کا حقدار ہے لہٰذا ہرمسلمان کو بالخصوص اِن چار بُرائیوں سے اوربالعموم ہر گناہ سے بچنا چاہیے۔بدترین کفار:عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیحدیثِ مذکورکی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”حدیثِ پاک کا مقصود لوگوں کو مذکورہ خصلتوں سے سختی اور شدت کے ساتھ روکنا ہے کیونکہ یہ نفاق کی علامات ہیں۔ ہرقلبِ سلیم یہ بات تسلیم کرے گا کہ نفاق بدترین گناہ ہے کیونکہ منافق اپنے نفاق کے ذریعے اپنے اس ربّ قدیر کے ساتھ اِستہزااور دھوکا دہی چاہتاہے جو ہرشے کا خالِق ومالِک اور دلوں کی چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔ انہیں بُری خصلتوں کی وجہ سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنےمنافقین کی بہت زیادہ مذمت بیان فرمائی، ان کی عبرتناک مثالیں بیان کیں،انہیں کفار کی بدترین قسم قرار دیا اور ا ُن کا ٹھکانا جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں بنایا۔‘‘صورۃًنفاق:حُجَّۃُالْاِسْلَامامام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیمذکورہ حدیث کو ذکر کرکے فرماتے ہیں :”اس حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جس کاپختہ ارادہ یہ ہو کہ وہ وعدہ پورا نہ کرے گا یا وہ جو بغیر کسی عذرکے وعدہ پورا نہ کرے ۔ رہا وہ شخص جس کاوعدہ پوراکرنے کاعزم تھا مگرکسی عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کر سکاتو وہ منافق نہیں ہوگا اگرچہ یہ بھی صورۃ ًنفاق ہے جس سے ایسے ہی بچنا چاہیے جیسے حقیقی نفاق سے بچا جاتاہے اورمعقول عذر کے بغیر خود کو معذور نہیں سمجھنا چاہیے۔“ایک تعارض کا جواب:پہلی حدیث میں منافق کی تین نشانیاں بیان ہوئیں اوراس حدیث میں چار۔ مرآۃ المناجیح میں ان دونوں حدیثوں میں یوں مطابقت بیان کی گئی ہے کہ بسااوقات ’’ایک چیز کی بہت سی علامتیں ہوتی ہیں،کبھی ساری بیان کردی جاتی ہیں،کبھی کم اورکبھی زیادہ۔لہٰذاوہ تین بھی نفاق کی علامتیں تھیں اور یہ چار بھی۔‘‘مدنی گلدستہ’’وعدہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) وعدہ خلافی ،جھوٹ ،گالی گلوچ اور امانت میں خیانت منافقت کی علامات ہیں ۔
(2) مسلمان کو ہرگناہ سے بچنا چاہیے جو گناہ جتنا زیادہ سخت ہو اس سے بچنا اتنا ہی زیادہ لازم ہے ۔
(3) وعدہ خلافی وہی مذموم ہے جوبغیر کسی عُذرکے ہو۔
(4) منافقین کا ٹھکانا جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں وعدہ خلافی،جھوٹ ،گالی گلوچ اور امانت میں خیانت سے بچائے اور ہمیں نیک بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 690