باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:” منافق کی تین نشانیاں ہیں:(1)جب بات کرے توجھوٹ بولے(2) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کر ےاور(3)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے توخیانت کرے۔مسلم کی ایک روایت میں یہ زائد ہے کہ” اگرچہ وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور خود کو مسلمان جانے ۔“

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اٰ يَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ: اِذَاحَدَّثَ كَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ. زَادَ فِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِم:وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ اَنَّهُ مُسْلِمٌ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 689 ، باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ نِرا منافق ہوگااور جس میں ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت ہوتو اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اس سے باز آ جائے۔(وہ چارباتیں یہ ہیں):(1)جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے (2)جب بات کرے توجھوٹ بولے (3)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(4)جب جھگڑے تو گالیاں بَکے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْن الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُما:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰى يَدَعَهَا: اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ اِذَا عَاهَدَ غَدَرَوَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 690 ، باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا :”اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اوراتنا دوں گا۔‘‘ مگر بحرین کامال آنے سے قبل ہی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے پردہ فرما گئے۔پھر جب بحرین کا مال آیا توامیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ اِعلان کروادیا کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جس کاکوئی عہدیا قرض تھا وہ ہمارے پاس آجائے۔چنانچہ میں نےحاضرخدمت ہوکرعرض کی:’’نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجھے اتنا اتنا دینے کا ارشاد فرمایا تھا۔‘‘پس آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےمجھے دونوں ہا تھوں سے بھر کر عطا فرمادیا۔ جب میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے۔پھر فرمایا: ’’اتنے ہی دو مرتبہ اور لے لو۔‘‘

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَوْ قَدْجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ اَعْطَيْتُكَ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَافَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَينِ حَتّٰى قُبِضَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّاجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ اَمَرَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَنَادٰى:مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ اَوْدَ يْنٌ فَلْيَاْتِنَا فَاَتَيْتُهُ وَقُلْتُ لَهُ:اِنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيْ كَذَا وَكَذَا فَحَثٰى لِيْ حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَاِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَقَالَ لِي:خُذْ مِثْلَيْهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 691 ، باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان