Main Icon

باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 657

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عائِذٍ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہ عَنْہ اَنَّهُ دَخَلَ عَلٰی عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ لَهُ: اَيْ بُنَيَّ،اِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ،فَاِيَّاكَ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.

عن عائذ بن عمرورضی اللہ عنہ انه دخل علی عبيد الله بن زياد فقال له: اي بني،اني سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقول:ان شر الرعاء الحطمة،فاياك ان تكون منهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناعائذ بن عمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ وہعُبَیْدُ اللّٰہبن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:اے لڑکے !میں نےرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پرظلم کریں،پس تو اپنے آپ کو ان میں شامل ہونے سے بچا۔‘‘

شرح حدیث

بُرے حاکم کی علامات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں:یعنی بدترین حاکم وہ ہے جو رعایا پر ظلم و جبر کرے ،مصیبت میں ان پر رحم نہ کرے اوراس قدر کمینہ و ظالم ہوکہ لوگوں کے پاس جو دیکھے اس کی شدید طمع کرے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”بدترین سلطان وحکام وہ ہیں جورعایا کی کمرتوڑ دیں،ان پرٹیکسوں گِرانیوں کی بھرمار کردیں اور سخت اَحکام سے رعایا کو پریشان کردیں جیسا کہ آج کل دیکھا جارہا ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’حُسَیْن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بد ترين ہے وہ حاکم جو لوگوں پر ظلم کرے،ان کی ضروریات کی پرواہ نہ کرے۔
(2) انتہائی کمینہ ا ور ظالم ہے وہ شخص جو دوسروں کی اشیاء کو چھیننے کی کوشش میں لگا رہے۔
(3) حسب ِمنصب ہر سطح پر نیکی کی دعوت دینی چاہئے تاکہ لوگوں میں دِینی احکام پر عمل پیرا ہونے کا شعور بیدار ہو۔
(4) رعایاپر بے جا ٹیکس لگانا ،بِلاوجہ چیزوں کی قیمت بڑھانا اور خواہ مخواہ سخت احکام لاگو کر کے عوام کو پریشان کرنا ظلم وجبر کی علامت ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظالم حکمرانوں سے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 657