- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- حدیث نمبر 656
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:كَانَتْ بَنُو اِسرَائِيلَ تَسُوسُهُم الْاَنبِيَاءُ، كُلَّمَاهَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبيٌّ ،وَ اِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُوْنُ بَعْدِي خُلفَآءُ فَيَكْثُرُونَ، قَالُوْا:يَا رَسُوْلَ الله،فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ:اَوْفُوا بِبَيْعَةِ الْاَوَّل فَالْاَوَّلِ،ثُمَّ اَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ وَاسْاَلُوااللهَ الَّذِي لَكُمْ،فَاِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ.
عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء، كلماهلك نبي خلفه نبي ،و انه لا نبي بعدي وسيكون بعدي خلفاء فيكثرون، قالوا:يا رسول الله،فما تأمرنا، قال:اوفوا ببيعة الاول فالاول،ثم اعطوهم حقهم واسالواالله الذي لكم،فان الله سائلهم عما استرعاهم.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدناابو ہریر ہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السلامکیا کرتے تھے، جب کسی نبیکا وصال ہوجاتاتواس کے پیچھے ایک اور نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں !میرےبعد خُلَفَا کثیر تعداد میں ہونگے۔‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی :’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ہمیں(ان کے بارے میں ) کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟‘‘فرمایا:’’تم سب پہلے خلیفہ کی بیعت پوری کرو، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی۔اور اُن کے حقوق اداکرو اور جو کچھ تمہارے لیے ہے وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگو ! بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان سے اس چیز کےمتعلق پوچھے گا جس کاانہیں نگران بنایاہے ۔‘‘
شرح حدیث
معاملاتِ رعایاکیلئےمُصْلِحْ ضروری ہے:دلیل الفالحین میں ہے:”اسرائیل“عبرانی زبان میں حضرت سیدنا یعقوب بن اسحاق بن ابرا ہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا مبارک نام ہے ۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد”بنی اسرائیل“ کہلاتی ہے ۔ عبرانی زبان میں”اِسْرَا“ کا معنی ہے،بندہ اور”اِیْل“ کا معنی ہےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ۔ اس طرح اسرائیل کا معنی ہوا عبداللّٰہیعنیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکابندہ۔جب بنی اسرائیل میں کوئی فساد ظاہر ہوتا تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان میں کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَامکو مبعوث فرما تا جو ان کے معاملات کو درست کرتا اور تورات شریف کے احکام میں انہوں نے جو تبدیلی کی ہوتی اسے زائل فرماتا۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رعایا کی دیکھ بھال کے لئے کسی ایسے بندے کاہونا ضروری ہے جو ان کے معاملات حل کرے، انہیں سیدھی راہ پر چلائے اور ظالم سے مظلوم کا بدلہ دلوائے۔ اس طرح بنی اسرائیل میں پے در پے انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’میر ے بعد کوئی نبی نہیں ،ہاں خُلَفَا بکثرت ہونگے ۔‘‘ یہ سن کر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی :جب خُلَفَا کی کثرت ہو جائے اور ان کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو ہم کیا کریں ؟ارشاد فرمایا: ’’تم سب پہلے خلیفہ کی بیعت پوری کرنا ۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت کرنا، اس کے فیصلوں کوماننا ،جو اس سے بغاوت کرے ، اس کی نافرمانی کرےتم اس سے قتال کرنا۔ حکمرانوں کے حقوق ادا کرنا یعنی ان کی اطاعت کرناان کے ساتھ فرمانبردادی سے پیش آنا اور اپنے حقوق کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعاکرنا کہ تمہارے وہ حکمران تم پر آسانی کریں، تمہاری ضروریات پوراکرنے کی کوشش کریں اور تم سے خیرخواہی اور بھلائی والا برتاؤ کریں ۔ اور اگر انہوں نے یہ کام نہ کیےتو بےشک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاُن سے اُس چیز کے متعلق پوچھے گا جس کا انہیں نگران بنایا ہے۔حدیث کے مختلف مقامات کی شرح:حدیث مذکور کے تحت مرآۃ المناجیح میں جو شرح بیان کی گئی اس کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:*بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکیا کرتے تھے۔ سیاست سے مراد ملکی و قومی انتظام ہےجس میں دینی انتظام بھی داخل ہے۔ یعنی بنی اسرائیل کے سارے قومی، ملکی، مِلّی دینی انتظام خودحضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامفرمایا کرتے تھے۔پھران کےجانشین اُمَرَا و خُلَفَاءنہیں بلکہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامہی ہوا کرتے تھے۔جیسا کہ حضرت سیدناموسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنےحضرت سیدنا ہارونعَلَیْہِ السَّلَامکو اپنا جانشین مقرر فرمایاتھا۔*نبی آخرُ الزَّماں،سرورِذِیشاںصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یعنی نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہے جو میری موجودگی میں میرا عارضی خلیفہ ہو، جیسے ہارونعَلَیْہِ السَّلَامحضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکی موجودگی میں کچھ روز کے لیے عارضی خلیفہ ہوئے جب موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامتوریت لینے طُور پرتشریف لے گئےتھےاور نہ میرے بعد کوئی نبی ہے جو میرامستقل خلیفہ ہو، لہٰذا میرےخُلَفَا میرے دِین کے سلاطین ہیں اورباطنی خُلَفَاحضرات اَوْلِیَاوعُلَمَا ہیں۔*خلافتِ اِسلامیہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےبعدشروع ہوئی۔ اسلامی سلاطین کی بیعت اور حضرات مشائخ کرام کی مریدی اسلام کی خصوصیات سے ہے،پہلے شریعت و ملک کی حفاظت حضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامسے ہوتی تھی۔*خیال رہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد نبی نہیں بلکہ وہ تو پہلے کے نبی ہیں اوراب بشانِ نبوت تشریف نہیں لائیں گے(اپنی نبوت ورسالت کی دعوت نہیں دیں گے) بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُمَّتی ہوکرتشریف لائیں گےاوراس وقت مسلمانوں کے خلیفہ امام مہدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہوں گے۔*حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میرے بعد خُلَفَا بکثرت ہوں گے۔“یہاں خُلَفَا سے مراد ظاہری خُلَفَا ہیں یعنی اسلامی سلاطین و اُمَرَا وخُلَفَا وغیرہ ۔*خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے اورسلطنت عام ہے،خلافت میں حکومت کے ساتھ نیابتِ مُصْطَفَوِی بھی ہوتی ہے،سلطنت میں صرف حکومت ہوتی ہے۔ اسی لیے خلفائے راشدین کے زمانہ میں مشائخ سے بیعت نہ کی جاتی تھی وہ خلفائے راشدین مشائخ بھی تھے انکی بیعت بیعتِ ارادت بھی ہوتی تھی اور بیعت حکومت بھی۔*صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: اگر کئی لوگ خلیفہ بن جائیں تو ہم کس کی بیعت کریں؟ ارشاد ہوا:تم پہلے خلیفہ کی بیعت کرنا پھراس کے فوت ہونے کے بعد جو خلیفہ بنے اس کی اطاعت کرنا۔ بیک وقت دو خلیفہ نہیں ہوسکتے،اگر ہوں تو پہلا خلیفہ ہوگا دوسرا باغی۔خیال رہے کہ ایک ہی زمانہ میں مختلف ملکوں کے بادشاہ کئی ہوسکتے ہیں مگر تمام مسلمانوں کا خلیفہ ایک ہی ہوگا۔آج ترکی،کابل،ایران اور پاکستان کے صدر یا بادشاہ توالگ الگ ہیں مگر ان میں خلیفۃ المسلمین کوئی نہیں۔آخری زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتمام مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے۔حکمرانوں کی اطاعت سے متعلق دو روایات ملاحظہ کیجئے:حکمران پناہ گاہ ہیں:حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نے میری اطاعت کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی اورجس نے حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی، بیشک امیر ڈھال ہے اس کی پناہ میں جہاد کیا جاتا ہے اور اس کی آڑ لی جاتی ہے اور وہ اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس کے لیے اس کا ثواب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ کہے تو اس کا وبال اس پر ہے۔‘‘رعایا سے محبت کرنے والے حکمرانوں کا مرتبہ:حضرت سیدنا عوف بن مالک اشجعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم اُن سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم نفرت کرواور وہ تم سے نفرت کریں، تم اُن پر پھٹکارکرو وہ تم پر لعنت کریں۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:’’یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا اس وقت ہم ان سے تلوار کے ذریعے جنگ نہ کریں؟‘‘ فرمایا:’’نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں،اور جب تم میں سے کوئی اپنےحاکم کو کسی گناہ میں ملوث دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو برا جانے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔‘‘مدنی گلدستہ’’خلیفہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بنی اسرائیل کےسارے قومی، ملکی، مِلّی دینی انتظام انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامفرمایا کرتے تھے۔
(2) اسرائیل حضرت سیدنا یعقوبعَلَیْہِ السَّلَامکا مبارک نام ہے اور آپ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے ۔
(3) ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآخری نبی ہیں،آ پ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔
حضرت سیدنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَاماب دنیا میں اپنی نبوت ورسالت کی گواہی دلوانے کے لیےتشریف نہیں لائیں گے بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے امتی ہوکر تشریف لائیں گے۔
(4) بہترین حکام وہ ہیں جو اپنی رعایا سے محبت کریں اور دعائیں دیں اوررعایا اُن سے محبت کرے اور انہیں دعائیں دے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں نیک عادل حکمران عطا فرمائے اور ہمیں ان کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 656