Main Icon

باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 654

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن اَبِي يَعْلٰی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَامِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيْهِ اللهُ رَعِيَّةً،يَمُوتُ يَوْ مَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَ عِيَّتِهِ،اِلَّاحَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ:فَلَمْ يَحُطْهَا بِنُصْحِهِ لَمْ يَجِدْرَائِحَةَالْجَنَّةِ. وَفِي رِوَايَةٍلِمُسْلِمٍ:مَامِنْ اَمِيْرٍ يَلِي اُمُوْرَ الْمُسْلِمينَ،ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ لَهُمْ،اِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ.

عن ابي يعلی معقل بن يساررضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم يقول:مامن عبد يسترعيه الله رعية،يموت يو م يموت وهو غاش لر عيته،الاحرم الله عليه الجنة. وفي رواية:فلم يحطها بنصحه لم يجدرائحةالجنة. وفي روايةلمسلم:مامن امير يلي امور المسلمين،ثم لا يجهد لهم وينصح لهم،الا لم يدخل معهم الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابو یعلیٰ معقل بن یساررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کسی بندے کو رعایا پر حاکم بنائے اوروہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایاکو دھوکا دیتاہوتواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’وہ خیر خواہی کے ساتھ اُن کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا ۔ ‘‘مسلم شریف کی روایت میں یہ ہے کہ ’’جو مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا جائے، پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اور اُن سے خیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کےساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا ۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حکمرانی بہت بڑی آزمائش ہے، اگر حکمرانی کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو یہ وبالِ جان ہے، باعث پکڑ ہےاور اگرحاکم خوف خدا رکھنے والا ہو، عدل وانصاف سے کام لیتا ہو تو وہ زمین پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کا سایہ ہے، رعایا کے لئے بہت بڑی نعمت ہے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا پسندیدہ ہے۔حدیث مذکور میں اس حاکم کے لئے جنت سے دوری کی وعید ہے جو اپنی رعایا کو دھوکا دے، ان کے ساتھ خیر خواہی نہ کرے،ان کے معاملات کےحل کی کوشش نہ کرے۔ حکمرانوں سے متعلق2عبرت آموز فرامین مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیے۔
¥ پانچ برائیوں کی پانچ دُنیوی آفات:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانچ برائیوں کی پانچ آفات بیان فرما ئیں:(1)جب کسی قوم میں اعلانیہ فحاشی عام ہو جائے تو ان لوگوں میں طاعون اورایسی بیماریاں ظاہرہوتی ہیں جو ان سے پہلوں میں نہ تھیں۔(2) جوقوم زکوٰۃ ادا نہ کرے ان سے بارش روک لی جاتی ہے اوراگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے۔(3) جوقوم ناپ تول میں کمی کرےوہ قحط سالی، شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہوجاتی ہے۔(4)جب حکمرانکتابُ اللّٰہکے خلاف فیصلہ کریں تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان پر ایسا دشمن مسلَّط فرما تا ہےجو ان سے سلطنت چھین لیتا ہے۔ (5)جب لوگاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب اور اس کے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کو ترک کردیں تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان کے درمیان لڑائی جھگڑا ڈال د یتا ہے۔رحمتِ الہٰی کا سایہ:حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’بادشاہ زمین میں رحمتِ الٰہی کاسایہ ہےجس کی طرفاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے، اگر بادشاہ انصاف کرے تو اس کے لیے ثواب اور رعایا پر شکر واجب اور جب ظلم کرے تو اس پر گناہ کا بوجھ ہےاور رعایا پر صبر ہے۔ظالم بادشاہ کا عبرت ناک انجام:منقول ہے کہ ایک ظالم ومغروربادشاہ نے ایک عظیم الشان قیمتی محل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ جب تعمیر مکمل ہو گئی تو وہ اپنے چند سپاہیوں کے ہمراہ محل کا دورہ کرنے گیا۔ وہاں محل کی دیوار کے ساتھ اس نے ایک جھونپڑی دیکھی تو سپاہیوں سے اس کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مسلمان بوڑھی عورت کی ہے جو یہاں عبادت میں مصروف رہتی ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے کہا کہ ہمارے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی نہیں رہ سکتی اسے گِرا دیا جائے ۔ حکم پاتے ہی سپاہیوں نے اس غریب بڑھیا کی جھونپڑی کوملیا میٹ کر دیا۔ بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی ۔بادشاہ جھونپڑی گر وانے کے بعداپنے نئے محل میں چلا گیا ۔جب بڑھیا واپس آئی تواپنی ٹوٹی جھونپڑی دیکھ کر بڑی غمگین ہوئی ، لوگو ں نے اسے بتا یا کہ یہ سب بادشاہ کے حکم سے ہوا ہے۔ یہ سن کر بڑھیا نےآسمان کی طر ف نظر اٹھا ئی اورعرض کی :”اے میرے پاک پروردگار! جب جھونپڑی گرائی جارہی تھی تو میں وہاں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم وکریم پر ودگار! تُو تو سب کچھ دیکھنے والا ہے تیری قدرت تو ہر شے کو محیط ہے ، میرے مالک !تیرے ہوتے ہوئے تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑدی گئی۔“بارگاہِ الٰہی میں اس بڑھیاکی آہ وزاری مقبول ہوئی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیدنا جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو حکم دیا کہ اس محل کو با دشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت تباہ وبر باد کر دو ۔ حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامنے اس محل کو ظالم بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت تَہِس نَہِس کر دیا ۔مدنی گلدستہ’’اِسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جب حکمران
کتابُ اللّٰہکے خلاف فیصلہ کریں تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان پر ایسا دشمن مسلَّط فرما تا ہےجو ان سے سلطنت چھین لیتا ہے۔
(2) جوقوم ناپ تول میں کمی کرےوہ قحط سالی، شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہوجاتی ہے۔
(3) بادشاہ زمین میں رحمتِ الٰہی کاسایہ ہےجس کی طرف ہر مظلوم پناہ لیتا ہے۔
(4) مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے کہ وہ بہت جلد مقبول ہوتی ہے ۔
(5) بسا اوقات ظالموں کو دنیا میں بھی سزا دی جاتی ہے تاکہ وہ لوگوں کے لئے عبرت بن جائیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تمام ظاہری وباطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 654