باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: میں نے رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سب نگہبان ہواور تم سب سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ جسے لوگوں پر امیر بنایا گیا وہ نگہبان ہے،اُس سے اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔مرداپنے اہلِ خانہ پر نِگَہبان ہے،اُس سے اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں سُوال کیا جائے گا،عورت اپنے شوہر کے گھرکی نگہبان ہے،وہ اس بارے میں جواب دِہ ہو گی، خادم اپنے آقا کے مال پر نِگَہبان ہے،اُس سے اِس بارے میں پوچھا جائے گا ۔تم سب نِگَہبان ہو اورتم سب سے تمہارےماتحتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،يَقُوْلُ: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ:الاِمَامُ رَاعٍ وَمَسؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،وَالرَّجُلُ رَاعٍ في اَهْلِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْاَةُ رَاعِيَةٌ في بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،وَالخَادِمُ رَاعٍ في مَالِ سيِّدِهِ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 653 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

حضرت سیدناابو یعلیٰ معقل بن یساررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کسی بندے کو رعایا پر حاکم بنائے اوروہ اس حال میں مرے کہ اپنی رعایاکو دھوکا دیتاہوتواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’وہ خیر خواہی کے ساتھ اُن کا خیال نہ رکھے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا ۔ ‘‘مسلم شریف کی روایت میں یہ ہے کہ ’’جو مسلمانوں کے اُمور پر والی بنایا جائے، پھر اُن کے لئے کوشش نہ کرے اور اُن سے خیر خواہی نہ کرے تو وہ اُن کےساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا ۔‘‘

عَن اَبِي يَعْلٰی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَامِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيْهِ اللهُ رَعِيَّةً،يَمُوتُ يَوْ مَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَ عِيَّتِهِ،اِلَّاحَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ. وَفِي رِوَايَةٍ:فَلَمْ يَحُطْهَا بِنُصْحِهِ لَمْ يَجِدْرَائِحَةَالْجَنَّةِ. وَفِي رِوَايَةٍلِمُسْلِمٍ:مَامِنْ اَمِيْرٍ يَلِي اُمُوْرَ الْمُسْلِمينَ،ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ لَهُمْ،اِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 654 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صِدّیقہ طیِّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! جومیری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے توتُو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرمااور جو میری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اوران سے نرمی سے پیش آئے تو تُو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ فِيْ بَيْتِيْ هٰذَا:ا َللّٰهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 655 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

حضرت سیدناابو ہریر ہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السلامکیا کرتے تھے، جب کسی نبیکا وصال ہوجاتاتواس کے پیچھے ایک اور نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں !میرےبعد خُلَفَا کثیر تعداد میں ہونگے۔‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی :’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ہمیں(ان کے بارے میں ) کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟‘‘فرمایا:’’تم سب پہلے خلیفہ کی بیعت پوری کرو، پھر جو اس کے بعد آئے اس کی۔اور اُن کے حقوق اداکرو اور جو کچھ تمہارے لیے ہے وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے مانگو ! بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان سے اس چیز کےمتعلق پوچھے گا جس کاانہیں نگران بنایاہے ۔‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:كَانَتْ بَنُو اِسرَائِيلَ تَسُوسُهُم الْاَنبِيَاءُ، كُلَّمَاهَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبيٌّ ،وَ اِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُوْنُ بَعْدِي خُلفَآءُ فَيَكْثُرُونَ، قَالُوْا:يَا رَسُوْلَ الله،فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ:اَوْفُوا بِبَيْعَةِ الْاَوَّل فَالْاَوَّلِ،ثُمَّ اَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ وَاسْاَلُوااللهَ الَّذِي لَكُمْ،فَاِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 656 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

حضرت سیدناعائذ بن عمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ وہعُبَیْدُ اللّٰہبن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:اے لڑکے !میں نےرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک بدترین حکمران وہ ہیں جو رعایا پرظلم کریں،پس تو اپنے آپ کو ان میں شامل ہونے سے بچا۔‘‘

عَنْ عائِذٍ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہ عَنْہ اَنَّهُ دَخَلَ عَلٰی عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ لَهُ: اَيْ بُنَيَّ،اِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ،فَاِيَّاكَ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 657 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان

حضرت سیدنا ابومریم اَزدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ میں نےرسولِ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئےسنا کہ: ”جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمسلمانوں کے کسی معاملہ کا والی وحاکم بنائے پھروہ ان کی حاجت وضرورت اور محتاجی سے چھپتاپھرے تو بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکواس کی ضرورت وحاجت اورمحتاجی وفقر سے کچھ سَروکارنہ ہوگا۔“(یہ فرمانِ عالی سن کر)حضرت سیدنا امیرمعاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کی حاجات کی خبر گیری کے لئے ایک شخص مقر ر فرما دیا۔

عَنْ اَبِی مَرْيمَ الْاَزْدِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ وَلَّاهُ اللهُ شَيْئًا مِنْ اُمُورِ المُسْلِمِينَ، فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، اِحْتَجَبَ اللهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُرَجُلًا عَلٰى حَوَائِجِ النَّاسِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 658 ، باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان