Main Icon

باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 655

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ فِيْ بَيْتِيْ هٰذَا:ا َللّٰهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ اَمْرِ اُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ.

عن عائشة رضي الله عنهاقالت:سمعت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، يقول في بيتي هذا:ا للهم من ولي من امر امتي شيئا فشق عليهم، فاشقق عليه، ومن ولي من امر امتي شيئا فرفق بهم فارفق به.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صِدّیقہ طیِّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ میں نے اپنے اس گھر میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! جومیری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور پھر ان پر سختی کرے توتُو بھی اسے مشقت میں مبتلا فرمااور جو میری اُمَّت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اوران سے نرمی سے پیش آئے تو تُو بھی اس سے نرمی والا سلوک فرما۔‘‘

شرح حدیث

بلا وجہ سختی اورنرمی کرنے والے حکمران:فیض القدیرمیں ہے:یہ فرمانِ عالی ہراس شخص کو شامل ہےجسے لوگوں کے کسی بھی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا۔چنانچہ خلیفہ،بادشاہ ،قاضی،امیر، کسی ادارے کاناظم، کسی تنظیم کا سربراہ وغیرہ سب اس فرمان عالی کے تحت داخل ہیں۔حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا فرمائی:’’ جو حاکم یا والی میری اُمَّت پرسختی کرے،یعنی انہیں بے جا مشکل امور کا پابند کرے یا ان سے سخت رویہ اپنائے توایسےحاکم پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسختی فرمائےاورجوحاکم ووالی میری اُمَّت کے ساتھ نرمی و شفقت اوراحسان سے پیش آئےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے نرمی والاسلوک فرمائے۔‘‘بِلاشبہ مصطفےٰ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ دعا بارگاہِ خداوندی میں مقبول ومستجاب ہے اورکوئی بھی عقل مند شخص اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ یہ بات مشاہدہ سے ثابت ہے کہ جس نے بھیاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق پرظلم وستم کیا،ناجائز سختی کی اس کا انجام بہت برا ہوا وہ تباہ وبرباد ہو گیا ۔ بالفرض اگردنیا میں اس کی پکڑ نہ بھی ہو تب بھی اس کے ظلم وجبر کی مدت بہت ہی کم ہوتی ہے اور وہ بہت جلدجہنم میں ڈال دیا جائے گا۔اسی لئے کہا جاتاہے کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہتا اگرایسا ہوتا تو بربادی ہی رہتی اور عدل بھی ہمیشہ نہیں رہتا اگر ایسا ہوتا تو کبھی بربادی نہ ہوتی۔حدیثِ مذکورمیں لوگوں پر بے جاسختی کرنے اورانہیں مشقت میں ڈالنے پربہت زیادہ زجر وتوبیخ کی گئی ہے اورلوگوں پرشفقت ونرمی کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دلائی گئی ہے ۔ظالم وغیرمنصف حکمرانوں کیلئے وعیدیں:ظلم کرنے والے،رعایا پرسختی کرنےوالےاورانصاف نہ کرنے والے حکمراناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکوناپسند ہیں۔احادیث مبارکہ میں ان باتوں کی ممانعت اوررعایا پرنرمی وآسانی کرنے کی ترغیب وتاکید ہے۔اس ضمن میں تین روایات ملاحظہ فرمائیے:(1)سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’چار(قسم کے) لوگوں کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّپسندنہیں فرماتا:*قسم کھا کر مال بیچنے والا*متکبر فقیر*بوڑھا زانی اور*ظالم حاکم۔‘‘(2)شہنشاہِ کون ومکان رحمتِ عالَمیانصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب اپنے کسی صحابی کو اپنے کچھ کاموں کے لیے والی ونگران بناکربھیجتے تو اس سے فرماتے : ’’خوشخبری دو متنفرنہ کرو اور آسانی کروسختی وتنگی نہ کرو۔‘‘(3)حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو اپنی طلب سے مسلمانوں کا قاضی بنے پھراس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب آجائے تو اس کےلیے جنّت ہےاورجس کاظلم اس کے انصاف پر غالب آ گیا اس کے لیے دوزخ ہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مسلمانوں کا جو حاکم ان پر بلا وجہ سختی کرے تو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے اس پرسختی کی جاتی ہے۔
(2)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق پر جس نےبھی ظلم کیا،ناجائز سختی کی اس کا انجام بہت برا ہوا،وہ تباہ ہو گیا۔
(3) جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا،متکبر فقیر ،بوڑھا زانی اور ظالِم حاکِم یہ سب رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔
(4) جب پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کو کسی کام کا نگران بنا کر بھیجتے تو اس سے فرماتے :’’خوشخبری دو متنفرنہ کرو اور آسانی کروسختی وتنگی نہ کرو۔‘‘
(5) جس قاضی کا انصاف اس کے ظلم پر غالب ہوگا ا س کے لئے جنت کی بشارت ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بلا وجہ سختی کرنے اور ظلم وستم کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 655