- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: راز داری کا بیان
- حدیث نمبر 686
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا اَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ حِيْنَ تَاَيَّمَتْ بِنْتُہُ حَفْصَةُ قَالَ لَقِيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ اِنْ شِئْتَ اَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ؟قَالَ سَاَنْظُرُ فِيْ اَمْرِيْ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِیَنِیْ فَقَالَ قَدْ بَدَا لِيْ اَنْ لَا اَتَزَوَّجَ يَوْمِيْ هٰذَا فَلَقِيْتُ اَبَا بَكْرٍ الصِّدِّیْق رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَقُلْتُ اِنْ شِئْتَ اَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ؟فَصَمَتَ اَبُوْ بَكْرٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَلَم ْيَرْجِعْ اِلَیَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ اَوْجَدَ مِنِّيْ عَلٰى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيْ ثُمَّ خَطَبَهَا النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَنْكَحْتُهَا اِيَّاهُ فَلَقِيَنِيْ اَبُوْ بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَّ عَلَیَّ حِيْنَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ اَرْجِعْ اِلَيْكَ شَيْئًا فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِيْ اَنْ اَرْجِعْ اِلَيْكَ فِيْمَا عَرَضْتَ عَلَیَّ اِلَّا اَنِّيْ کُنْتُ عَلِمْتُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ذَكَرَهَا فَلَمْ اَكُنْ لِاُفْشِيَ سِرَّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا النَّبِیُّ لَقَبِلْتُهَا.
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان عمر رضی اللہ عنہ حين تايمت بنتہ حفصة قال لقيت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فعرضت عليه حفصة فقلت ان شئت انكحتك حفصة بنت عمر ؟قال سانظر في امري فلبثت ليالي ثم لقینی فقال قد بدا لي ان لا اتزوج يومي هذا فلقيت ابا بكر الصدیق رضی اللہ عنہ فقلت ان شئت انكحتك حفصة بنت عمر ؟فصمت ابو بكررضی اللہ عنہ فلم يرجع الی شيئا فكنت عليه اوجد مني على عثمان فلبثت ليالي ثم خطبها النبی صلى الله عليه وسلم فانكحتها اياه فلقيني ابو بكر فقال لعلك وجدت علی حين عرضت علي حفصة فلم ارجع اليك شيئا فقلت نعم قال فانه لم يمنعني ان ارجع اليك فيما عرضت علی الا اني کنت علمت ان النبی صلى الله عليه و سلم ذكرها فلم اكن لافشي سر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو تركها النبی لقبلتها.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنی صاحبزادی حضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے بیوہ ہونے کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوئی اور میں نے حضرت حفصہ (کے معاملے) کو ان پر پیش کیاتو میں نے ان سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں ؟حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا کہ میں اس بارے میں سوچ کر بتاؤں گا۔حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نے چند روز انتظار کیا پھر انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ میں نے سوچا ہے کہ مجھے ابھی نکاح نہیں کرنا چاہیے۔پھرمیں نے حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات کی اور کہا :اگر آپ چاہیں تو میں اپنی صاحبزادی حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں؟حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خاموشی اختیا ر کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔ان کے اس طرزِ عمل کا مجھے حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی زیادہ دکھ ہوا کچھ روز گزرے تو حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے لئے حضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان کو آپ کے نکاح میں دے دیا پھر میری حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا:جب آپ نے اپنی صا حبزادی حفصہ کا نکاح مجھ سے کرناچاہا تو میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا تھا شاید آپ کو یہ بات ناگوار گزری ؟میں نے کہا: ہاں۔تو انہوں نے کہا : مجھے آپ کی بات قبول کرنے سے کوئی چیز مانع نہ تھی مگرمجھے معلوم تھا کہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا ذکر فرماچکے تھے میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا راز فاش نہیں کر سکتا تھا البتہ اگر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ اِرادہ تر ک فرمادیتے تو پھر میں ا نہیں اپنے نکاح میں قبول کرلیتا۔
شرح حدیث
سَیِّدَتُنا حفصہ بنت عمررَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَاکا تعارف:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”فیضانِ فاروقِ اعظم“جلد اول ، صفحہ 93پرحضرت سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے تعارف میں ہے:”آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی لاڈلی اور بلند اقبال شہزادی ہیں،آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی والدہ کا نام حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت مظعونرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مقدس زوجہ ہونے کی وجہ سے اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں کی ماں بھی ہیں ۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے شعبان المعظم تین ہجری میں نکاح فرمایا۔ اس سے پہلے آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاحضرت سیِّدُنا خنیس بن حذافہ سہمیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں تھیں جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی اور بعد ازاں جنگ بدر میں لگنے والے زخموں کے سبب مدینہ منورہ میں شہادت پائی۔ان کی شہادت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی لیکن انہوں نے سکوت اختیار فرمایا پھر انہوں نے حضرت سیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے نکاح کی بات کی تو انہوں نے عرض کیاکہ فی الحال میرا نکاح کا ارادہ نہیں ہے۔ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت بارگاہِ رسالت میں لے کر گئے توخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یَتَزَوَّجَ حَفْصَۃَ مَنْ ھُوَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ ویَتَزَوَّجَ عُثْمَانَ مَنْ ھُوَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَۃَیعنی اے عمر! تمہاری بیٹی حفصہ کا نکاح اس سے ہوگا جو عثمان سے افضل ہے اور عثمان کا نکاح اس سے ہوگا جو حفصہ سے افضل ہے۔‘‘پھراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو سَیِّدَتُنَا حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے لیے نکاح کا پیغام بھیجا جسے آپ نے قبول کرکے اپنی بیٹی آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نکاح میں دے دی اور چار سو درہم حق مہر مقرر ہوا۔ جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ملاقات حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوئی تو انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لَا تَجِدْ عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ حَفْصَۃَ فَلَمْ اَكُنْ لِاُفْشِیَ سِرَّ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَلَوْ تَرَكَھَا لَتَزَوَّجْتُھَایعنی اے عمر آپ مجھ سے خفا نہ ہوں کیونکہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے آپ کی بیٹی حفصہ کے بارے میں بات کی تھی اور مجھے یہ گوارا نہیں کہ میں رسولُاللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا راز کسی دوسرے کے سامنے اِفشا کروں، اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنکاح نہ فرماتے تومیں ان سے ضرور نکاح کرلیتا۔‘‘سَیِّدَتُنَا حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَابہت ہی بلند ہمت اور سخی عورت تھیں۔فہم وفراست اور حق گوئی و حاضر جوابی میں اپنے والد ہی کا مزاج پایا تھا اکثر روزہ دار رہا کرتیں اور تلاوتِ قرآنِ مجید اور دیگر قسم کی عبادتوں میں مصروف رہا کرتی تھیں ۔ عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث کے علوم میں بھی بہت معلومات رکھتی تھیں۔آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کئی اَحادیث مبارکہ روایت کی ہیں اور آپ سے آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دیگر کئی اصحاب نے احادیث روایت کی ہیں ۔ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا وصال حضرت سیِّدُنا امام حسنرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِخلافت کے آخری ایام میں شعبان ۴۵ھ یا باختلاف روایت جمادی الاولی سن اکتالیس ہجری مدینہ منورہ میں ہوا۔ حاکم مدینہ مروان بن حکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے بھتیجوں نے قبر میں اتارا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں بوقت وفات ان کی عمر ساٹھ ۶۰یا تریسٹھ ۶۳برس تھی۔مرد اپنی ولیہ کا نکاح کرسکتا ہے:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد اپنی ولیہ کو (یعنی جس کے نکاح کا وہ ولی ہے)اپنے خاندان میں کسی کے لئے پیش کرسکتا ہے،اس میں سبکی نہیں۔ حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکاحضرت عثمان کی نسبت حضرت ابوبکررَضِیَ اللّٰہ عَنْہُپر زیادہ ناراضگی کرنا اس لئے تھا کہ انہیں صدیق اکبر سے زیادہ محبت تھی جہاں محبت زیادہ ہو وہاں ناراضگی بھی زیادہ ہوتی ہے دوسرے یہ کہ حضرت عثمان نے پہلے سکوت کرکے پھر معذرت کی تھی اور ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُنے خاموشی پر ہی اکتفا کی تھی ۔سرور کائناتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حفصہ سے نکاح کے متعلق خفیۃ ابوبکر صدیق سے مشورہ کیا تھا کیونکہ آپ جانتے تھےکہ ابوبکر ایمان میں بہت پختہ ہیں اس کے متعلق وہ کسی قسم کی غیرت نہیں کریں گے جبکہ ان کی صاحبزادی بھی تو آپ کے نکاح میں تھی۔حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا اس کو صیغہ ٔ راز میں رکھنا اسی خطرہ کے سبب تھا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے حفصہ کے نکاح میں کوئی امر ظاہر ہو اور عمر فاروق کے دل میں وہ واقع ہو جو ابو بکر صدیق کے لئے اُن کے دل میں واقع ہوا تھا۔“حدیث پاک سے ماخوذ فوائد ومسائل:اس حدیث کی شرح کرتے ہوئےعَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالنے جو فوائد اور مسائل ذکر کیے وہ درج ذیل ہیں:*حدیث پاک سے معلوم ہوا آدمی رغبت کے ساتھ اپنی بیٹی کے نکاح کا پیغام نیک آدمی کو دے اور اس کے برعکس نہ کرے۔*جسے نکاح کرنے کا پیغام دیا جائے تو اس کے لئے اس نکاح کے کرنے یا نہ کرنے میں غور و فکر کرنے کا اختیار ہے لیکن اُس پر لازم ہے کہ بعد میں اس شخص کو اپنی رائے سے آگاہ کرے جیسا کہ حضرت عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔*اگر کوئی شخص کسی مصلحت کے تحت اپنے دوست کو کسی بات کا جواب نہ دے تو یہ اس کے لئے جائز ہے جیساکہ حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔*اس حدیث میں اس بات کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی کے راز کو مخفی رکھنا چاہیے اور اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس راز کو ظاہر کردے یا جس کا راز ہے وہ اسے ظاہر کردے تو اب اسے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے سَیِّدَتُنَاحفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکےنکاح کے بعد رازکو ظاہر کیا۔*اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی بات سے دوست کو رنج پہنچے تو اس کی وضاحت کرےاور اپنا عذر بیان کرے۔*یہ بھی معلوم ہوا کہ جسے نکاح کا پیغام دیا گیا ہے اگر وہ نکاح کا ارادہ بدل دے تو دوسرا شخص نکاح کا پیغام دے سکتا ہے۔*آدمی اپنی کنواری بیٹی کی طرح بیوہ بیٹی کا نکاح بھی کراسکتا ہے۔*آدمی اپنی بیٹی سے مشورہ کیے بغیر بھی اس کانکاح کراسکتا جبکہ معلوم ہوکہ بیٹی اس بات سے ناخوش نہ ہوگی اور جسے نکاح کا پیغام دیا جارہا ہے وہ اس کا کفو بھی ہو۔*جس عورت سے سید عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہ ارادہ ترک کردیں تو اس عورت سے نکاح کرنے میں رخصت ہے چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”اگر سرور کائناتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارادہ ترک کردیتے تووہ حفصہ سے نکاح کرلیتے۔“مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاعبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث کے علوم میں بھی بہت معلومات رکھتی تھیں۔
(2) کسی مصلحت کی وجہ سے سوال کا جواب نہ دینے میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔
(3) جب کسی شخص کو کسی عورت کے نکاح کا پیغام دیا جائے تو اسے غور و فکر کرنے کا اختیار ہے لیکن بعد میں اپنی رائے سے آگاہ ضرورکرے ۔
(4) آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کے نکاح کا پیغام نیک آدمی کودے۔
(5) راز کی حفاطت کرنی چاہیے لیکن جب راز ظاہر ہوجائے تو اب راز کھولنے میں حرج نہیں۔
(6) جب اپنی کسی بات سے نہ چاہتے ہوئے کسی مسلمان کو رنج پہنچے تو اپنی بات کی وضاحت کردینی چاہیے۔
(7) سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رازوں کے امین ہیں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بھائیوں کے راز کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بلاضرورت کسی کا راز کھولنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 686