Main Icon

باب: راز داری کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 687

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا قَالَتْ كُنَّ اَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ فَاَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ رَضِیَ اللّٰہ عَنْھَا تَمْشِيْ مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا وَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ اَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ اَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيْدًا فَلَمَّا رَاٰى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ لَهَا خَصَّكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ اَنْتِ تَبْكِيْنَ! فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاَلْتُهَا مَا قَالَ لَكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ مَا كُنْتُ لِاُفْشِيَ عَلٰى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِيْ عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِيْ مَا قَالَ لَكِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ اَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ اَمَّا حِيْنَ سَارَّنِيْ فِي الْمَرَّةِ الْاُوْلٰى فَاَخْبَرَنِيْ اَنَّ جِبْرِيْلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْاٰنَ فِيْ كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ وَاِنَّهُ عَارَضَهُ الْاٰنَ مَرَّتَيْنِ وَاِنِّيْ لَا اُرَى الْاَجَلَ اِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِيْ فَاِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ اَنَا لَكِ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِيْ رَاَيْتِ فَلَمَّا رَاٰى جَزَعِيْ سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ! اَمَا تَرْضَيْنَ اَنْ تَكُوْنِيْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ اَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْاُمَّةِ؟ فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَاَيْتِ.

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت كن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم عنده فاقبلت فاطمة رضی اللہ عنھا تمشي ما تخطئ مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا فلما رآها رحب بها وقال مرحبا بابنتي ثم اجلسها عن يمينه او عن شماله ثم سارها فبكت بكاء شديدا فلما راى جزعها سارها الثانية فضحكت فقلت لها خصك رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين نسائه بالسرار ثم انت تبكين! فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سالتها ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت ما كنت لافشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما حدثتني ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت اما الآن فنعم اما حين سارني في المرة الاولى فاخبرني ان جبريل كان يعارضه القران في كل سنة مرة او مرتين وانه عارضه الان مرتين واني لا ارى الاجل الا قد اقترب فاتقي الله واصبري فانه نعم السلف انا لك فبكيت بكائي الذي رايت فلما راى جزعي سارني الثانية فقال: يا فاطمة! اما ترضين ان تكوني سيدة نساء المؤمنين او سيدة نساء هذه الامة؟ فضحكت ضحكي الذي رايت.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے روایت ہے کہ اَزواجِ مطہرات حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر تھیں کہ حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِارسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آئیں۔آپ کے چلنے کا اندازرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چال کے مشابہ تھا، جب حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا: میری بیٹی کا آنا مبارک ہو۔پھر انہیں اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ نے اُن سے سر گوشی میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِابہت رونے لگیں جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کی بے قراری کو دیکھا تو دوبارہ سر گوشی میں کوئی بات کہی تو وہ خوش ہو کر ہنسنے لگیں۔ (حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:)میں نے ان سے کہا کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے راز کی بات صرف آپ کو بتائی اور کسی بھی زوجہ کو نہیں بتائی پھر بھی آپ روتی ہیں ؟پھر جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں سے تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آخر رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے ایسی کون سی بات کہی تھی کہ آپ رونے لگ گئیں ؟تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا کہ میں رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز کی بات کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی۔پھر جب رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے تشریف لے گئے تو میں نے حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے کہا: میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دے کر پوچھتی ہوں جو آپ کے ذمہ ہے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے کیا فرمایا تھا ؟تو حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا:ہاں اب میں آپ کو وہ راز کی بات بتا تی ہوں پہلی مرتبہرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سر گوشی کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامہر سال ایک یا دو مرتبہ میرے ساتھ قرآن پاک کا دورکیا کرتے تھے اس مرتبہ انہوں نے دو مرتبہ قرآن کریم کا دور کیا ہے۔ میراخیال ہے کہ اب میرا دنیا سے جانے کا وقت قریب آگیا ہے تو تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا،میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں۔ میں یہ خبر سن کر روئی جیساکہ آپ نے دیکھااور جب نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری بے قراری دیکھی تو پھر دوبارہ سر گوشی کرتے ہوئے فرمایا :”اے فاطمہ !کیا تم مؤمنوں کی عورتوں کی سردار یا اِس اُمَّت کی عورتوں کی سردار ہونے پر راضی نہیں ہو ؟تو میں (یہ سن کر ) مسکرائی جیساکہ آپ نے دیکھا ۔

شرح حدیث

خاتون جنت رازدارِمصطفےٰ:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضرت فاطمہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا)سر سے پاؤں تک ہم شکل مصطفےٰ تھیں، آپ کی چال ڈھال ہر وضع قطع حضور کے مشابہہ تھی۔اللّٰہنے رسول کی جیتی جاگتی تصویر بنایا تھا۔حضور جب فاطمہ زہرا کو آتے دیکھتے تو خوشی میں کھڑے ہوجاتے تھے پیشانی اور ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے،اپنی جگہ بٹھالیتے تھے یہ واقعہ وفات شریف سے بالکل قریب ہی واقعہ ہوا۔تمام اَزواجِ پاک موجود تھیں مگر یہ راز کی بات صرف جناب فاطمہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا)سے فرمائی آپ صاحب راز ہیں۔ جناب فاطمہ نے اپنی قوتِ اِجتہادیہ سے معلوم فرمالیا تھا کہ حضور کی حیات شریف میں یہ (راز کی)بات چھپانے کی تھی کیونکہ اس میں حضور کی وفات کی خبر تھی قبل از وقت اس کا اظہار مناسب نہ تھا اب جبکہ وفات شریف ہوچکی وہ راز نہ رہی اس لیے اب بیان فرمادیا۔ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد سارا قرآنِ مجید ہے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامہر ماہ رمضان میں پورے قرآن کا حضور کے ساتھ دور کرتے تھے مگر اس دور کا نام نزولِ قرآن نہ تھا نزول تو وہ تھا جو حسب موقع آیات کا ورود ہوتا تھا اس سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان میں قرآنِ مجید کا دور کرنا سنت رسولی بھی ہے اور سنت جبریلی بھی کہ ایک پڑھے دوسرا سنےپھر وہ پڑھے یہ سنے۔یہ واقعہ یعنی دوبار ایک ماہ میں دور فرمانا پندرہ دن میں دورہ ختم کر دینا حضور کے آخری رمضان شریف میں ہوا اور حضرت فاطمہ سے حضور کا یہ فرمان رمضان کے بعد تھا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورصَلّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّماَوَّل ہی سے سارے قرآن سے واقف تھے،جسے قرآن نہ آتا ہو اس کے ساتھ دور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پڑھایا جاتا ہے،یہ بھی معلوم ہوا حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اگلے رمضان سے پہلے ہماری وفات ہوجاوے گی۔(تماللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا،میں تمہارا بہترین پیش رو ہوں) یعنی اے فاطمہ جیسے تم ہماری حیات شریف میں طیبہ طاہرہ متقیہ صابرہ رہی ہو ایسے ہی ہماری وفات کے بعد بھی رہنا تمہارے پائے استقلال میں جنبش نہ آنے پائے آپ نے اس پر عمل کرکے دکھا دیا۔رونا صبر کے خلاف نہیں نوحہ پیٹنا،ماتم کرنا صبر کے خلاف ہے یہ آپ نے کبھی نہیں کیا۔پیش رو وہ جوکسی کے آگے کسی مقام پر جاکر اس کا انتظام وغیرہ کرے یعنی ہم تم سے پہلے جارہے ہیں جب تم آؤ گی تو ہم تمہارے انتظار میں ہوں گے تمہارا گھر بار ساز و سامان ہماری نگرانی میں سب تیار ہوچکا ہوگا۔سُبْحَانَ اللّٰہ! (اے فاطمہ!)مؤمن مردوں کی بیویوں کی تم سردار ہوگی لہٰذا جناب فاطمہ ازواج مطہرات خصوصا جناب عائشہ صدیقہ اور خدیجۃ الکبریٰ (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کی سردار نہیں کہ وہ بیویاں (عام)مؤمنین کی بیویاں نہیں بلکہ حضور نبی کریمصَلّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بیویاں ہیں۔سُبْحَانَ اللّٰہ! کیسی پیاری اور جامع عبارت ارشاد فرمائی۔سیدہ فاطمہرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَاکی فضیلت:مذکورہ حدیث پاک کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سیدہ فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاعادت،ہیئت اور رفتار میں نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مشابہ تھیں۔ایک روایت میں ہے کہ جب سَیِّدَتُنَا فاطمہ زہرارَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے اور انہیں بوسہ دیتے اور جب نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی اسی طرح کرتیں۔اس حدیث پاک سے بزرگوں اور دوستوں کے راز کو دوسروں سے مخفی رکھنے کا مستحب ہونا معلوم ہوتا ہےمرید جو مشائخ کےراز مخفی رکھتے ہیں تو اس کی سند یہی حدیث پاک ہے۔‘‘حدیث پاک سے ماخوذ دو فوائد:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُاللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہمذکورہ حدیث سے ماخوذ دو فوائد ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(1)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماعت کے سامنےکسی ایک سے راز کی بات کرنا جائز ہے کیونکہ نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو منع فرمایا ہے کہ ”ایک آدمی دوسرے کو چھوڑ کر تیسرے سے سرگوشی نہ کرے۔“تو اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اُس دوسرے آدمی کو خطرہ ہوگا کہ شاید میرے خلاف بات کی جارہی ہے اور جب جماعت کے سامنے کسی ایک سے راز کی بات جائے گی تو پھر خطرہ نہیں ہوگا ۔(2)جب کسی کا راز دوسروں کو بیان کرنے میں ضرر کا خطرہ ہو تو پھر اس راز کو ظاہر نہ کیا جائےکیونکہ حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِااگر نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ازواج کے سامنے اس وقت بتادیتیں کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ خبر دی ہے کہ عنقریب آپ کی وفات ہوجائے گی تو اَزواجِ مطہرات کو شدید غم لاحق ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ یہ بتادیتیں کہ وہ تمام مؤمنین کی عورتوں کی سردار ہیں تو یہ بات اُن پر شاق گزرتی اور اُن کا غم شدید ہوجاتا لیکن نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری کے بعد اُن کو یہ خطرہ نہیں تھا تو انہوں نے یہ خبر دے دی۔مدنی گلدستہ’’فاطمہ ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضرت فاطمہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاعادت،ہیئت اور رفتارمیں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے مشابہ تھیں۔
(2) حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامہر ماہ رمضان میں پورے قرآن کا حضور کے ساتھ دور کرتے تھے۔
(3) ماہِ رمضان المبارک میں قرآنِ مجید کا دور کرنا سنت رسول ہونےکے ساتھ سنت جبریل بھی ہے ۔
(4) رونا صبر کے خلاف نہیں نوحہ پیٹنا،ماتم کرنا صبر کے خلاف ہے۔
(5) بزرگوں اور دوستوں کے راز کو دوسروں سے مخفی رکھنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بڑوں اور دوستوں کے راز چھپانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 687