Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 636

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:بَالَ اَعْرَابيٌّ في الْمَسْجِدِ فَقَامَ النَّاسُ اِلَيْهِ لِيَقَعُوْا فِيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:دَعُوْهُ وَاَرِيْقُوْا عَلٰى بَوْ لِهِ سَجْلًا مِنْ مَّاءٍ اَوْذَنُوْبًا مِّنْ مَاءٍ فَاِنَّما بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ ولَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِيْنَ.

عن ابي هريرةرضي الله عنه قال:بال اعرابي في المسجد فقام الناس اليه ليقعوا فيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم:دعوه واريقوا على بو له سجلا من ماء اوذنوبا من ماء فانما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک اَعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا لوگ اسے سزادینے کے لئے دوڑے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اسے چھوڑدو اور اس کے پیشاب پر پانی کا بھرا ہو اڈول بہا دو۔ کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کرنہیں بھیجے گئے۔“

شرح حدیث

لاعلم کو غلطی کرنے پر نرمی سے سمجھایا جائے:مذکورہ حدیث پاک کے تحت شرح مسلم نووی میں ہے:”حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ اگرکوئی لاعلم شخص غلطی کرے اوراس کا مقصود شریعت کی دشمنی اور توہین و تحقیر نہ ہو تو اسے نہایت نرمی کے ساتھ شرعی مسئلہ سمجھا یا جائے سختی اور اذیت والا معاملہ ہر گز اختیار نہ کیا جائے۔جب دونقصانوں میں سے کوئی ایک لازم ہو تو کم نقصان والی شے اختیار کی جائے۔سرکارِعالی وقار،دوعالَم کےمالک ومختارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاَعرابی کو مسجد میں پیشاب کرنےدیامنع نہ کیاکیونکہ اچانک پیشاب روکنے سے اُسے طبی طور پرنقصان ہوتا۔دوسری بات یہ کہ اگروہ دورانِ پیشاب اٹھتا تواس کے کپڑے ، بدن اور مسجد کا دیگر حصہ بھی ناپاک ہوجاتا اس لئے اسے نہ روکا۔پھر جب وہ فارغ ہوگیا تو اسے سمجھایا کہ یہ مساجداللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے گھر ہیں ان میں پیشاب اور کسی قسم کی گندگی جائز نہیں یہ تو محض ذکرُاللّٰہاورتلاوت قرآن کے لئے ہوتی ہیں۔ اس فرمانِ عالی میں مساجد کو گندگی وغیرہ سے بچانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب ہے۔مساجد میں گندگی کرنا ،تھوکنا،آواز بلند کرنا ،لڑناجھگڑنا اور ہر قسم کی خریدو فروخت ممنوع ہے۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”اسلام سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے اور سب کے سامنے ننگے ہونے کو عیب نہ جانتے تھےنیز وہ مسجد کے آداب وغیرہ سے بے علم تھے۔معلوم ہوا کہ ناواقف پر سختی نہ کی جائے اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔“دلیل الفالحین میں ہے:”جب مُبَلِّغ اعظم،نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس اَعرابی کو نہایت شفقت ومحبت سےسمجھایاتو اس نے اپنے جذبات کایوں اظہار کیا:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آپ پر قربان!آپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ مجھے گالی دی، نہ بُرا بھلا کہا صرف اتنا فرمایا کہ یہ مساجداللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکراورنماز کے لئے بنائی جاتی ہیں ان میں پیشاب کرنا جائز نہیں ۔“زمین سوکھنے کے بعد پاک ہوجاتی ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خیال رہے کہ زمین اگرچہ سوکھ کر پاک ہوجاتی ہے لیکن زمین کا دھونا بہت ہی بہتر ہے کہ اس سے گندگی کا رنگ و بوبھی جلدی جاتا رہتا ہے اور اس سے تیمم بھی جائز ہوجاتا ہے۔اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ ناپاک زمین بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتی جیسا کہ امام شافعی(رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ)فرماتے ہیں۔حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا مسجد دھلوانا اس لئے تھا کہ وقتِ نماز قریب تھا،زمین جلدی سوکھ کر پاک نہ ہوسکتی تھی نیز مسجد میں پاکی کے علاوہ صفائی بھی چاہیئے اور یہ دھلنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’شفقت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اگرکوئی لاعلم شخص غلطی کرے تو اسے نہایت نرمی کے ساتھ مسئلہ سمجھا یا جائے سختی اور اذیت والا معاملہ ہر گز اختیار نہ کیا جائے ۔
(2) اچانک پیشاب روکنا طبی طور پرنقصان دہ ہے ۔
(3) مساجد میں گند گی کرنا ، تھوکنا،آواز بلند کرنا ،لڑناجھگڑنا اور ہر قسم کی خریدو فروخت ممنوع ہے۔
(4) زمین سوکھنے کے بعد پاک ہوجاتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوسروں کو شفقت ونرمی کے ساتھ سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 636