Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 637

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:يَسِّرُوْاوَلَا تُعَسِّروْاوَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا.

عن انس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:يسرواولا تعسرواوبشروا ولا تنفروا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”آسانی کرو سختی نہ کرو،خوشخبری سناؤ نفرت نہ دِلاؤ۔“

شرح حدیث

اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث ِمذکور میں لوگوں کواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم ،کثیر ثواب ، بڑی عطا اور وسعت رحمت کی خوشخبری دینے کاحکم اورخوشخبری سنائے بغیرمحض عذاب کی وعیدوں سے خوفزدہ کر کےنفرت میں مبتلا کرنے کی ممانعت اورنومسلموں پر سختی ترک کرنے اور ان کی دلجوئی کرنے کا بیان ہے۔اسی طرح جوبچے بالغ ہونے کے قریب ہوں اور جو بالغ ہوچکے ہوں اور جولوگ اپنےتمام گناہوں سے تائب ہوچکے ہوں انہیں بھی نہایت نرمی ومحبت سے بتدریج نیکیوں کی طرف راغب کیا جائے کیونکہ تمام اسلامی اُمور بھی بتدریج لازم ہوئے ہیں۔ جب کوئی نیک کام شروع کرنے والا یااس کام میں رغبت رکھنے والااس عمل میں آسانی محسوس کرے گا تو اس عمل کا پابند بھی ہو جائے گا اور اس کے عمل میں بڑھوتری ہو گی اور جب وہ اس عمل میں دشواری پائے گایا یہ گمان کرے گا کہ وہ یہ عمل نہ کر سکے گاتو اگر اس نے وہ عمل شروع کربھی دیا تو پابندی نہ ہو سکے گی اورنتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اس عمل سے دور ہو جائے گا۔(لہٰذا لوگوں کو اسلامی اُمور کا پابند بنانے کے لئے نہایت نرمی وآسانی سے کام لینا چاہیے۔)آسانی سے کیامرادہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”یہاں حدیث میں فرائض میں آسانی مراد نہیں بلکہ نفلی عبادات یا ان فرائض میں آسانی کا حکم ہےجن میں بصورت عذرتخفیف دی گئی ہے جیسے قیام سے عاجز ہونے کی صورت میں بیٹھ کرنماز پڑھنا، حالت مرض یاسفرکی وجہ سےروزہ نہ رکھنا اور اسی طرح دیگر وہ اُمورجن میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےاپنے بندوں کے لئےرخصت رکھی ہے ۔ اسی طرح نوافل میں بھی آسانی کا حکم ہے کہ اسی قدر پڑھے جائیں جو آسانی سے ادا ہو سکیں تاکہ بندہ اکتاہٹ و دشواری میں مبتلا نہ ہو ۔ یہ حکم اس لئے ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائےاگرچہ تھوڑا ہو۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنےایک صحابیسے فرمایا:”فلاں شخص کی طرح نہ ہونا کہ پہلے وہ شب بیداری کرتا تھاپھر ترک کردی۔“حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی لوگوں کوآسانی دیا کرتے تھے ان آسانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسجد میں پیشاب کرنے والے پر سختی نہ کی بلکہ اس پر نرمی و شفقت فرمائی ۔علّامہ طَبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث مذکورمیں جو آسانی کاحکم دیا گیا ہے اس میں دو حکمتیں ہیں:(1)عمل سے اکتاہٹ نہ ہو۔(2)عمل کرنے والاعُجب (خود پسندی)سےمحفوظ رہے اور کسی کم عمل والے کوحقیرجان کر ہلاکت میں نہ پڑے جیسا کہ آقاکریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عبرت نشان ہے :” غُلُوّ وتکُّلف کرنے والے ہلاک ہوگئے۔‘‘اسی طرح نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ خبر پہنچی کہ ایک قوم خصی ہونے کا ارادہ رکھتی ہے اورانہوں نے بعض حلال وپاکیزہ غذا اورگوشت اپنےاوپرحرام کرلیا ہےتوآپعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں سختی سے منع کیااورشدید زجر و توبیخ کے بعد فرمایا:”میں رہبانیت کے ساتھ مبعوث نہیں کیا گیا ،بےشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے اچھا دِین سیدھا و آسان دِین ہے۔ بے شک اہل کتاب سختی کی وجہ سے ہلاک ہوئے انہوں اپنے اوپر سختی لازم کی توان پر سختی کی گئی۔“ پس سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ( دِینی امور کے ساتھ ساتھ )دُنیاوی اُمور میں بھی اعتدال کی راہ اختیار کی جائے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)) (پ۱۹،الفرقان،۶۷)(ترجمۂ کنزالایمان:اوروہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حدسے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اوران دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔)یہاں خرچ کے معاملے میں اسراف وکنجوسی کے ترک پر سراہا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: (وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶))(پ۱۵، بنی اسرائیل:۲۶)(ترجمۂ کنزالایمان:اور رشتہ داروں کو ان کا حق دےاور مسکین اور مسافر کواور فضول نہ اڑا۔)یہاں اُن جگہوں میں بھی اِسراف سے بچنے کا حکم ہے جہاں خرچ کرنا قربِ الٰہی کا باعث ہوتا ہے۔ پس ہر عقل مند پر لازم ہے کہ عبادت وریاضت، کسی سےمحبت وعدوات،کھانے پینے،پہننے الغرض تمام امور میں درمیانی راہ اختیار کرے کیونکہ بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِینبھی اسی راہ پر گامزن رہے ہیں۔ باقی رہا ہمارے پیارے آقا،مدینے والا مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاعبادت وریاضت میں کثرت کا معاملہ تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں ایسی قوت عطا فرمائی جو کسی اور کو نہ ملی لہٰذاآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے عبادت وریاضت سہل وآسان کر دی گئی۔ دوسرایہ کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ تو پوری رات قیام میں گزارتے نہ ہی رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کو روزوں کے لئے خاص فرماتے ۔ ہاں یہ روایتوں میں ملتاہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشعبان کاپورامہینہ روزہ رکھتےیہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے۔ اس کے علاوہ بقیہ مہینوں میں کبھی روزے رکھتے کبھی روزے نہ رکھتے اسی طرح رات کا کچھ حصہ عبادت میں اورکچھ حصہ آرام میں گزارتے اور جب کوئی عمل شروع کرتے تواس پر ہمیشگی فرماتے۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:’’جو اَعمالِ دینیہ میں نرمی کو چھوڑ کر اُن کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہے وہ عاجز آکر عمل چھوڑ دیتا ہے۔علامہ ابن منیررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:ہمارا اور سابقہ لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ جوبھی دِین میں سختی کر تا ہے اُس کے اَعمال اُس سے چھوٹ جاتے ہیں ۔دِین اِسلام آسان ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”دینِ اسلام پچھلے تمام اَدیان سے آسان ہے، اس‏∞لیےکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اس اُمَّت سے ان تمام سختیوں کو دورفرمادیا جوسابقہ اُمَّتُوں پر تھیں جیساکہ وہ مٹی سے ( تیمم کے ذریعے) طہارت حاصل نہیں کرسکتے تھے ،کپڑے پرجہاں نجاست لگ جاتی اسے کاٹنا پڑتا ، توبہ کی قبولیت کے‏∞لیے اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتااور اس جیسی کئی سختیا ں اُمَمِ سابقہ پرتھیں مگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اِس اُمَّت پرلطف و کرم فرمایا اوراس طرح کی تمام سختیاں دورفرمادیں۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے:(خوشخبریاں دو متنفرنہ کرو۔)یعنی لوگوں کو گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور نیک اعمال کرنے پر حق تعالیٰ کی بخشش و رحمت کی خوشخبریاں دو،ان کو گناہوں کی پکڑ پر اس طرح نہ ڈراؤ کہ انہیں
اللّٰہکی رحمت سے مایوسی ہوکراسلام سے نفرت ہوجائے۔بہرحالاِنْذَاراور،ڈرانا کچھ اور ہےاور مایوس کر کے متنفر کردینا کچھ اور لہٰذا یہ حدیث ان آیات و احادیث کے خلاف نہیں جن میںاللّٰہکی پکڑ سے ڈرانے کا حکم ہے کیونکہ یہاں مایوس کردینے،نفرت پھیلا دینے کی ممانعت ہے اور وہاں ڈرا کر ربّ کے دروازے پر لے آنے کا حکم ہے۔(آسانی کروسختی وتنگی نہ کرو۔)اس طرح کہ آسانی کے ساتھ انہیں نماز و زکوٰۃ وغیرہ اَحکامِ شرعیہ کا پابند بناؤ۔زکوٰۃ،عُشر،خراج وغیرہ آسانی سے وصول کرو بقدر ِحق وصول کرو۔“مدنی گلدستہ’’عفووکرم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) لوگوں کو جنت کی خوشخبری سنا کراَعمالِ صالحہ پر ملنے والے اجر و ثواب کی اہمیت بتا کر دِین سے قریب کرنا چاہئے ۔
(2)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائےاگرچہ تھوڑا ہو۔
(3) اہلِ کتاب نے اپنے اوپر سختی لازم کی توان پر سختی کی گئی اور اس طرح وہ خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مبتلا ہوئے ۔
(4) ہر عقل مند پر لازم ہے کہ تمام دِینی و دُنیاوی امور میں میانہ روی سے کام لے ۔
(5) جو اَعمالِ دِینیہ میں نرمی کو چھوڑ کر اپنے اوپر سختی کرتا ہے وہ عاجز آکر عمل چھوڑ دیتا ہے۔
(6) سابقہ اُمَّتوں پر اَحکامِ شرعیہ میں جو سختیاں تھیں وہ مصطفےٰ کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے اِس اُمَّت سے دور کر دی گئیں ۔
(7) مبلغ کو چاہیے کہ لوگوں کو گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور نیک اَعمال بجا لانے پر
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی بخششوں اوررحمتوں کی خوشخبریاں سنائےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس نہ کرے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوسروں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایسے اُمور سے بچائے جن سے دوسروں کے دِلوں میں ہماری نفرت بیٹھ جائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 637