- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- حدیث نمبر 638
باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 638
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ جَر ِيْر ِبْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:مَنْ يُّحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ.
عن جر ير بن عبد الله رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من يحرم الرفق يحرم الخير كله.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدناجَریررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:” جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ تمام خیر سے محروم کیا گیا۔“
شرح حدیث
نرمی کی فضیلت وشرف:عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”یعنی جو خیر وبھلائی نرمی سے حاصل ہونی تھی اس سے محروم ہوگیا،اس حدیث میں نرمی کی فضیلت اور اس کے شرف کا بیان ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ معاملات میں نرمی کو وہ حیثیت حاصل ہے جو خوشبوؤں میں مشک کو،نرمی کے مقابل جوخیر ہے اس سے مراد خیرکثیر ہے۔“سختی اور شدت سے بچنا چاہیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر کام کو بہتر وآسان انداز سے سرانجام دینا چاہئے اور سختی وشدت سے بچنا چاہیے کیونکہ سختی وشدت خیر کے کا موں سے محرومی کاباعث بنتی ہے ۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے کہ اگر آپ مذہبی وضع قَطع کے مالِک ہیں تو سنجیدہ رہئے اور خوب ملنسار بن جایئے،آپ کامنصب ایسا ہے کہ آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کی آئندہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے اورایک بار کی بے رُخی یا جِھڑک کسی کی آنے والی نسلوں کومَعَاذَ اللّٰہگمراہی کے عمیق گڑھےمیں ڈال سکتی ہے۔لہٰذا ہرمِلنے جُلنے والے کے ساتھ نرمی نرمی اور نرمی سے پیش آیئے۔ کیاپتا آپ کا یہ محبت بھرا انداز کسی کے خاندان بھر کی اِصلاح کا باعِث بن جائے ۔ کسی کونرمی وشفقت سےسمجھانے کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا اندازہ ذیل میں دی گئی حکایت سےبخوبی لگایا جاسکتاہے۔میٹھے بول کی برکت :خُراسان کے ایک بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکو خواب میں حکم ہوا:”تا تا ری قوم میں اسلام کی دعوت پیش کرو۔“اُس وَقت ہلا کو خان کابیٹاتگودارخان بَرسرِاِقتِدارتھا۔وہ بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسفر کر کے تگودار خان کے پاس تشریف لے آئے۔ سنّتوں کے پیکر بارِیش مسلمان مبلِّغ کو دیکھ کراسے مسخری سوجھی اور کہنے لگا:میاں!یہ تو بتاؤتمہاری داڑھی کے با ل اچھے یا میرے کُتّے کی دم؟بات اگرچِہ غصّہ دلانے والی تھی مگرچونکہ وہ ایک سمجھدار مبلِّغ تھے لہٰذا نہایت نرمی کے ساتھ فرمانے لگے:” میں بھی اپنے خالق ومالِکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا کتّا ہوں اگر جاں نثاری اور وفاداری سے اسے خوش کرنے میں کامیاب ہوجاؤں تو میں اچّھا ورنہ آپ کے کُتّے کی دُم مجھ سے اچھی ہے جبکہ وہ آپ کا فرمانبردار و وفادار رہے۔“ چُونکہ وہ ایک باعمل مُبلِّغ تھے غیبت وچُغلی، عیب جوئی اور بد کلامی نیز فُضول گوئی وغیرہ سے دور رہتے ہوئے اپنی زَبان ذِکرُاللّٰہسے ہمیشہ تَر رکھتے تھے لہٰذا ان کی زَبان سے نکلے ہوئے میٹھے بول تا ثیر کا تیر بن کر تگودار خان کے دل میں پَیوَست ہو گئے جب اس نے اپنے”زہریلے کانٹے“ کے جواب میں اس باعمل مبلِّغ کی طرف سے”خوشبودار مَدَنی پھول“ پایا توپانی پانی ہوگیااور نرمی سے بولا:آپ میرے مہمان ہیں میرے ہی یہاں قِیام فرمایئے۔ چُنانچہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاس کے پاس مُقیم ہوگئے۔ تگودار خان روزانہ رات آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضِر ہوتا،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی شفقت کے ساتھ اسے نیکی کی دعوت پیش کرتے۔آپ کی سَعیِ پیہم نے تگودار خان کے دل میں مَدَنی انقِلاب بر پا کردیا۔ وُہی تگودار خان جو کل تک اسلام کو صَفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا آج اسلام کا شیدائی بن چکا تھا۔ اسی باعمل مبلِّغ کے ہاتھوں تگودار خان اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا۔ اس کا اسلامی نام ”احمد“ رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔آمین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ مبلّغ ہو تو ایسا! اگر تگودار کے تیکھے جملے پروہ بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہغصّے میں آجاتے تو ہر گز یہ مَدَنی نتائج برآمدنہ ہوتے۔ لہٰذا کوئی کتنا ہی غصّہ دلائے ہمیں اپنی زَبان کو قابو میں ہی رکھنا چاہئے کہ جب یہ بے قابو ہوجاتی ہے تو بعض اوقات بنے بنائے کھیل بھی بگاڑ کررکھ دیتی ہے۔میٹھی زَبان ہی توتھی کہ جس کی شیرینی اور چاشنی نے تگودار خان جیسے وحشی اور خونخوار انسا ن بدتر از حیوان کو انسانیت کے بلند و بالا منصب پر فائز کردیا۔اِصلاح کا بہترین انداز:ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنَا امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیبغداد شریف کے کسی عَلاقے سے گزر رہے تھے کہ ایک نوجوان کودیکھاجو اچّھے طریقے سے وُضو نہ کر رہا تھا آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے بڑے پیار بھرے انداز میں اُس سے فرمایا:اے نوجوان! وُضُو ٹھیک سے کرواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدُنیاوآخرت میں تم پراِحسان فرمائے۔ وہ نوجوان آپ کے اس میٹھےاورپیارے انداز سے بے حدمُتاثِّر ہوااور وُضُو کے بعد حاضِرِ خدمت ہو کر نصیحت کاطالِب ہوا،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےاسےنصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:(1)جس نے ربِّ کائنات کو پہچان لیاوہ نَجات پا گیا(2)جس نے اپنے دِین کے مُعامَلے میں خوف کیاوہ تباہی سے بچ گیا(3) دُنیا سے بے رَغبتی اختیارکرنے والا جب بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ملنے والا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔پھر فرمایا:مزید کچھ بتاؤں؟عرض کی : ضَرورارشادفرمائیے۔فرمایا : جس میں تین خوبیاں جمع ہوجائیں اُس کا ایمان مکمَّل ہوجاتا ہے :(1) نیکی کا حکم دینا اور خود بھی اُس پر عمل کرنا(2) بُرائی سے منع کرنا اور خود بھی اُس سے بازرہنا(3)شَرعی اَحکامات بجا لانا اورممنوعاتِ شرعیہ سےبچنا۔پھر فرمایا:کچھ اوربھی بتاؤں؟ عرض کی: ضَروراِرشاد فرمائیے۔ فرمایا: دُنیا سے بے رغبت ہو کر آخِرت کے طالب ہوجاؤاور اپنے ہر کام میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے سچ کا مُعامَلہ رکھو تم نَجات پاجاؤ گے۔
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کروڑوں شافعیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنامحمد بن اِدریس، اَلمعروف”امامِ شافعی“عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِینے کتنی مَحَبَّت وشفقت کے ساتھ انفرادی کوشِش فرمائی اوراچّھے طریقے سے وُضونہ کرنے والے نوجوان کے وُضو کی اِصلاح بھی کی اور اسے نیکی کی دعوت بھی دی ۔کاش! ہم بھی یِہی انداز اختیار کرنےمیں کامیاب ہو جائیں۔مدنی گلدستہسیدنا ’’شافعی‘‘کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس میں نرمی نہ ہووہ بھلائیوں سے محروم ہوجاتاہے ۔
(2) بسا اوقات ایک میٹھا بول کسی کی دنیا وآخرت سنوار دیتاہےاورایک دفعہ کی بے جا سختی کسی کی زندگی برباد کردیتی ہے۔
(3) کسی کی غلطی دیکھ کر اَحسن انداز سے اس کی اصلاح کرنا بزرگوں کا طریقہ ہے۔
(4) جسے رب تعالیٰ کی معرفت نصیب ہوگئی وہ نَجات پا گیا۔
(5) دُنیا سے بے رَغبتی اختیارکرنے والا جب بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ملنے والا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 638