Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 638

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَر ِيْر ِبْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:مَنْ يُّحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ.

عن جر ير بن عبد الله رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من يحرم الرفق يحرم الخير كله.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناجَریررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:” جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ تمام خیر سے محروم کیا گیا۔“

شرح حدیث

نرمی کی فضیلت وشرف:عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”یعنی جو خیر وبھلائی نرمی سے حاصل ہونی تھی اس سے محروم ہوگیا،اس حدیث میں نرمی کی فضیلت اور اس کے شرف کا بیان ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ معاملات میں نرمی کو وہ حیثیت حاصل ہے جو خوشبوؤں میں مشک کو،نرمی کے مقابل جوخیر ہے اس سے مراد خیرکثیر ہے۔“سختی اور شدت سے بچنا چاہیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہر کام کو بہتر وآسان انداز سے سرانجام دینا چاہئے اور سختی وشدت سے بچنا چاہیے کیونکہ سختی وشدت خیر کے کا موں سے محرومی کاباعث بنتی ہے ۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے کہ اگر آپ مذہبی وضع قَطع کے مالِک ہیں تو سنجیدہ رہئے اور خوب ملنسار بن جایئے،آپ کامنصب ایسا ہے کہ آپ کی ایک مسکراہٹ کسی کی آئندہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے اورایک بار کی بے رُخی یا جِھڑک کسی کی آنے والی نسلوں کومَعَاذَ اللّٰہگمراہی کے عمیق گڑھےمیں ڈال سکتی ہے۔لہٰذا ہرمِلنے جُلنے والے کے ساتھ نرمی نرمی اور نرمی سے پیش آیئے۔ کیاپتا آپ کا یہ محبت بھرا انداز کسی کے خاندان بھر کی اِصلاح کا باعِث بن جائے ۔ کسی کونرمی وشفقت سےسمجھانے کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا اندازہ ذیل میں دی گئی حکایت سےبخوبی لگایا جاسکتاہے۔میٹھے بول کی برکت :خُراسان کے ایک بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکو خواب میں حکم ہوا:”تا تا ری قوم میں اسلام کی دعوت پیش کرو۔“اُس وَقت ہلا کو خان کابیٹاتگودارخان بَرسرِاِقتِدارتھا۔وہ بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسفر کر کے تگودار خان کے پاس تشریف لے آئے۔ سنّتوں کے پیکر بارِیش مسلمان مبلِّغ کو دیکھ کراسے مسخری سوجھی اور کہنے لگا:میاں!یہ تو بتاؤتمہاری داڑھی کے با ل اچھے یا میرے کُتّے کی دم؟بات اگرچِہ غصّہ دلانے والی تھی مگرچونکہ وہ ایک سمجھدار مبلِّغ تھے لہٰذا نہایت نرمی کے ساتھ فرمانے لگے:” میں بھی اپنے خالق ومالِکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا کتّا ہوں اگر جاں نثاری اور وفاداری سے اسے خوش کرنے میں کامیاب ہوجاؤں تو میں اچّھا ورنہ آپ کے کُتّے کی دُم مجھ سے اچھی ہے جبکہ وہ آپ کا فرمانبردار و وفادار رہے۔“ چُونکہ وہ ایک باعمل مُبلِّغ تھے غیبت وچُغلی، عیب جوئی اور بد کلامی نیز فُضول گوئی وغیرہ سے دور رہتے ہوئے اپنی زَبان ذِکرُاللّٰہسے ہمیشہ تَر رکھتے تھے لہٰذا ان کی زَبان سے نکلے ہوئے میٹھے بول تا ثیر کا تیر بن کر تگودار خان کے دل میں پَیوَست ہو گئے جب اس نے اپنے”زہریلے کانٹے“ کے جواب میں اس باعمل مبلِّغ کی طرف سے”خوشبودار مَدَنی پھول“ پایا توپانی پانی ہوگیااور نرمی سے بولا:آپ میرے مہمان ہیں میرے ہی یہاں قِیام فرمایئے۔ چُنانچہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاس کے پاس مُقیم ہوگئے۔ تگودار خان روزانہ رات آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضِر ہوتا،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی شفقت کے ساتھ اسے نیکی کی دعوت پیش کرتے۔آپ کی سَعیِ پیہم نے تگودار خان کے دل میں مَدَنی انقِلاب بر پا کردیا۔ وُہی تگودار خان جو کل تک اسلام کو صَفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے تھا آج اسلام کا شیدائی بن چکا تھا۔ اسی باعمل مبلِّغ کے ہاتھوں تگودار خان اپنی پوری تاتاری قوم سمیت مسلمان ہوگیا۔ اس کا اسلامی نام ”احمد“ رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک مبلِّغ کے میٹھے بول کی بَرَ کت سے وسط ایشیا کی خونخوار تاتاری سلطنت اسلامی حکومت سے بدل گئی ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔آمین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ؟ مبلّغ ہو تو ایسا! اگر تگودار کے تیکھے جملے پروہ بُزرگ
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہغصّے میں آجاتے تو ہر گز یہ مَدَنی نتائج برآمدنہ ہوتے۔ لہٰذا کوئی کتنا ہی غصّہ دلائے ہمیں اپنی زَبان کو قابو میں ہی رکھنا چاہئے کہ جب یہ بے قابو ہوجاتی ہے تو بعض اوقات بنے بنائے کھیل بھی بگاڑ کررکھ دیتی ہے۔میٹھی زَبان ہی توتھی کہ جس کی شیرینی اور چاشنی نے تگودار خان جیسے وحشی اور خونخوار انسا ن بدتر از حیوان کو انسانیت کے بلند و بالا منصب پر فائز کردیا۔اِصلاح کا بہترین انداز:ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنَا امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیبغداد شریف کے کسی عَلاقے سے گزر رہے تھے کہ ایک نوجوان کودیکھاجو اچّھے طریقے سے وُضو نہ کر رہا تھا آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے بڑے پیار بھرے انداز میں اُس سے فرمایا:اے نوجوان! وُضُو ٹھیک سے کرواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّدُنیاوآخرت میں تم پراِحسان فرمائے۔ وہ نوجوان آپ کے اس میٹھےاورپیارے انداز سے بے حدمُتاثِّر ہوااور وُضُو کے بعد حاضِرِ خدمت ہو کر نصیحت کاطالِب ہوا،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنےاسےنصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:(1)جس نے ربِّ کائنات کو پہچان لیاوہ نَجات پا گیا(2)جس نے اپنے دِین کے مُعامَلے میں خوف کیاوہ تباہی سے بچ گیا(3) دُنیا سے بے رَغبتی اختیارکرنے والا جب بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ملنے والا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔پھر فرمایا:مزید کچھ بتاؤں؟عرض کی : ضَرورارشادفرمائیے۔فرمایا : جس میں تین خوبیاں جمع ہوجائیں اُس کا ایمان مکمَّل ہوجاتا ہے :(1) نیکی کا حکم دینا اور خود بھی اُس پر عمل کرنا(2) بُرائی سے منع کرنا اور خود بھی اُس سے بازرہنا(3)شَرعی اَحکامات بجا لانا اورممنوعاتِ شرعیہ سےبچنا۔پھر فرمایا:کچھ اوربھی بتاؤں؟ عرض کی: ضَروراِرشاد فرمائیے۔ فرمایا: دُنیا سے بے رغبت ہو کر آخِرت کے طالب ہوجاؤاور اپنے ہر کام میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے سچ کا مُعامَلہ رکھو تم نَجات پاجاؤ گے۔
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کروڑوں شافعیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنامحمد بن اِدریس، اَلمعروف”امامِ شافعی“
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِینے کتنی مَحَبَّت وشفقت کے ساتھ انفرادی کوشِش فرمائی اوراچّھے طریقے سے وُضونہ کرنے والے نوجوان کے وُضو کی اِصلاح بھی کی اور اسے نیکی کی دعوت بھی دی ۔کاش! ہم بھی یِہی انداز اختیار کرنےمیں کامیاب ہو جائیں۔مدنی گلدستہسیدنا ’’شافعی‘‘کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جس میں نرمی نہ ہووہ بھلائیوں سے محروم ہوجاتاہے ۔
(2) بسا اوقات ایک میٹھا بول کسی کی دنیا وآخرت سنوار دیتاہےاورایک دفعہ کی بے جا سختی کسی کی زندگی برباد کردیتی ہے۔
(3) کسی کی غلطی دیکھ کر اَحسن انداز سے اس کی اصلاح کرنا بزرگوں کا طریقہ ہے۔
(4) جسے رب تعالیٰ کی معرفت نصیب ہوگئی وہ نَجات پا گیا۔
(5) دُنیا سے بے رَغبتی اختیارکرنے والا جب بروزِقیامت
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ملنے والا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 638