Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 640

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي يَعْلٰی شدَّادٍ بْنِ اَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ: اِنَّ اللَّه كَتَبَ الْاِحسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُواالْقِتْلَةَ وَ اِذَاذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُواالذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ.

عن ابي يعلی شداد بن اوس رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ان الله كتب الاحسان على كل شيء فاذا قتلتم فاحسنواالقتلة و اذاذبحتم فاحسنواالذبحة وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو یعلیٰ شداد بن اَوسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”بے شک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ہرچیز میں احسان کو لازم فرمایا ہے، پس جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ،جب کسی جانور کوذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور اپنی چھری کو خوب تیز کرلواور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ۔“

شرح حدیث

کسی پر ظلم جائز نہیں:مرآۃُالمناجیح میں ہے:”ہرچیز میں احسان لازم ہے۔یعنی انسان ہویاجانورمؤمن ہویا کافر سب کے ساتھ اس کے مناسب بھلائی و سلوک کرنا لازم ہے۔ظلم کسی پر جائز نہیں،یہ ہے حضور کےرَحْمَۃٌلِّلْعَالَمِینہونے کی شان۔قتل کرنے میں بھی اچھا طریقہ اختیار کرو۔یعنی اگر تم قاتل یا کافر کو قصاص یا جنگ میں قتل کرو تو ان کے اعضاء نہ کاٹو،مُثلہ نہ کرو،پتھر کی چُھری اور کھٹل تلوار سے ذبح نہ کرو کہ یہ رحم کے خلاف ہے۔جانور کواچھے طریقے سے ذبح کرو۔ مثلًا جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پِلا لیا جائے، ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے، اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے،ماں کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے،مَذْبَحْ(ذبح کرنے کی جگہ)کی طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے کہ یہ تمام باتیں ظلم و زیادتی ہیں۔ ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ۔تیز چھری سے ذبح کردینے میں راحت ہے،کُھنڈی چھری سے ذبح کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اس سے بچنا چاہیے،پوری گردن نہ کاٹ دے صرف حَلقوم اور رگیں کاٹے۔“مدنی گلدستہ’’اِحسان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر ایک سے اس کے منصب کے مطابق بھلائی و سلوک کرنا لازم ہے۔
(2) اسلام کا حکم یہ ہے کہ ظلم کسی پر بھی جائز نہیں ۔
(3) جنگ میں بھی مُثلہ یعنی کان ،ناک ، ہونٹ اور دیگر اعضاء کانٹا جائز نہیں۔
(4) جانور کو تیز چھری سے ذبح کیا جائے کہ اس میں جا نور کو تکلیف کم ہوتی ہے۔
(5) ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے ، اسی طرح بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر کسی کے ساتھ اس کے منصب کے مطابق بھلائی اور سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 640