Main Icon

باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 642

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟ تَحْرُمُ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ ليِّنٍ سَهْلٍ.

عن ابن مسعودرضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الا اخبركم بمن يحرم على النار او بمن تحرم عليه النار؟ تحرم على كل قريب هين لين سهل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو آگ پر حرام ہے یا آگ اس پرحرام ہے ؟ آگ حرام ہے قریب رہنے والے ،نرم طبیعت، نرم زبان اور درگُزر کرنے والے پر۔“

شرح حدیث

مرآۃُ المناجیح میں ہے:(مذکورہ صفات کے حامل شخص کاآگ پر حرام ہونایا آگ کا اُس پر حرام ہونا یہ )دونوں لازِم و مَلزوم ہیں کہ دوزخ کی آگ پر وہ حرام ہوجائے اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہوجائے کہ نہ آگ اس تک پہنچے نہ آگ تک وہ پہنچے اور اگر وہ کسی وقت دوزخیوں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں جائے تو اس کو آگ کی گرمی نہ پہنچے۔ھَیِّناورلَیِّندونوں کے معنیٰ ہیں نرم مگر جب یہ دونوں جمع ہوجاویں تو ایک سے مراد نرم طبیعت ہوتا ہے دوسرے سے مراد نرم زبان۔سَهْلٌکے معنیٰ ہیںسَمْحٌیعنی لوگوں کی زیادتیوں سے درگُزر کر جانے والا،قَرِيبکے معنیٰ ہیں لوگوں سے نزدیک رہنے والا کہ جب اس کی ضرورت پڑے تو حاضر ہو جائے اگر لوگ اس سے مُستغنی ہوں تو یہ بھی بے نیاز رہے۔نرم گفتگو کی وصیت:حضرت سیِّدُنامُعاذبن جبلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ پیارے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا:’’میں تمہیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے، سچی بات کرنے ، عہد پورا کرنے، امانتوں کو ادا کرنے، خیانت ترک کرنے ، یتیم پر رحم کرنے، پڑوسی کی حفاظت کرنے، غصہ پی جانے،سلام عام کرنے اور نرم گفتگو کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘شیطان اور اُس کےلشکر سے حفاظت:حضرت سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ یَمانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:بنی اسرائیل کے عابد نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کی: اِلٰہی! مجھے دکھا کہ شیطان لوگوں کو کیسےبہکاتا ہے؟پس اسےدکھایا گیا کہ شیطان کے لشکروں نے زمین کا اِحاطہ کیا ہواہے اورہر شخص کے اِردگردشَیاطین مکھیوں کی طرح موجود ہیں۔تواُس نےعرض کی: اے پروردگار!اِن سے کون بچ پائے گا؟ارشاد ہوا:’’پرہیزگاراورنرم مزاج شخص۔ ‘‘مدنی گلدستہ’’حِلْم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) لوگوں کے کام آنے والے ،نرم طبیعت، نرم زبان اور درگُزر کرنے والےپر جہنم کی آگ حرام ہے۔
(2) جس پر دوزخ کی آگ حرام ہوگی اسے آخرت میں دوزخ کی آگ کی گرمی نہ پہنچے گی۔
(3) پرہیز گار اور نرم مزاج بندے شیطان اور اس کے لشکر سے محفوظ رہتےہیں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نرم طبیعت والا اور درگزر کرنے والا بنائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 642