باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اشج عبدالقیسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”تجھ میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپسند فرماتاہے:حلم اوراطمینان۔“

عَنِ ابْنِِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْس:اِنَّ فِيْكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ :الْحِلْمُ وَالْاَ نَاةُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 632 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :”بے شکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنرمی فرمانے والا ہے اور ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتاہے۔ “

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِنَّ اللَّهَ رَفِيْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِی الْاَمْرِ كُلِّهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 633 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنرمی فرمانے والا ہے، نرمی کو پسند فرماتاہے اور نرمی پر وہ انعامات عطافرماتاہے جوسختی پر عطا نہیں فرماتااور نہ ہی کسی اور چیز پر عطا فرماتا ہے۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفقِ مَالَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلٰی مَاسِوَاهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 634 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاسے مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”نرمی جس چیز میں ہو اسے زینت دیتی ہے اورجس چیز سے نکال لی جائے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔ “

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُوْنُ في شَيْءٍ اِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا شَانَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 635 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک اَعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا لوگ اسے سزادینے کے لئے دوڑے تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اسے چھوڑدو اور اس کے پیشاب پر پانی کا بھرا ہو اڈول بہا دو۔ کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کرنہیں بھیجے گئے۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:بَالَ اَعْرَابيٌّ في الْمَسْجِدِ فَقَامَ النَّاسُ اِلَيْهِ لِيَقَعُوْا فِيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:دَعُوْهُ وَاَرِيْقُوْا عَلٰى بَوْ لِهِ سَجْلًا مِنْ مَّاءٍ اَوْذَنُوْبًا مِّنْ مَاءٍ فَاِنَّما بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ ولَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِيْنَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 636 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”آسانی کرو سختی نہ کرو،خوشخبری سناؤ نفرت نہ دِلاؤ۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:يَسِّرُوْاوَلَا تُعَسِّروْاوَبَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 637 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سیدناجَریررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:” جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ تمام خیر سے محروم کیا گیا۔“

عَنْ جَر ِيْر ِبْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:مَنْ يُّحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ كُلَّهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 638 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ایک شخص نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:مجھےنصیحت کیجئے۔ارشادفرمایا:”غصہ نہ کرو۔“اس نے کئی مرتبہ یہی سوال کیا ،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”غصہ نہ کرو۔“

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَوْصِنِيْ قَالَ:لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا قَالَ: لَا تَغْضَبْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 639 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو یعلیٰ شداد بن اَوسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌرحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”بے شک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ہرچیز میں احسان کو لازم فرمایا ہے، پس جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ،جب کسی جانور کوذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو اور اپنی چھری کو خوب تیز کرلواور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ۔“

عَنْ اَبِي يَعْلٰی شدَّادٍ بْنِ اَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ: اِنَّ اللَّه كَتَبَ الْاِحسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُواالْقِتْلَةَ وَ اِذَاذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُواالذِّبْحَةَ وَلْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 640 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہِرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں :حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جب بھی دوکاموں میں اختیاردیاگیا تو آپ نے اُن میں سے زیادہ آسان کو اختیار فرمایاجبکہ وہ گناہ پرمشتمل نہ ہواوراگر وہ گناہ ہوتا توآپ سب سے زیادہ اُس سے دور رہنے والے ہوتے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقا م نہ لیا مگر جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی حرمت کو توڑا جاتا تو آپاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے انتقام لیتے۔

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاقَالَتْ:مَاخُيِّررَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَينَ اَمْرَيْنِ قَطُّ اِلَّا اَخَذَ اَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ اِثْماً فَاِنْ كانَ اِثْمًا كَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْـتَقَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ في شَيْءٍ قَطُّ اِلَّااَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ تَعَالٰی.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 641 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو آگ پر حرام ہے یا آگ اس پرحرام ہے ؟ آگ حرام ہے قریب رہنے والے ،نرم طبیعت، نرم زبان اور درگُزر کرنے والے پر۔“

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟ تَحْرُمُ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ ليِّنٍ سَهْلٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 642 ، باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان