Main Icon

باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 566

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ ،فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ.‘‘ فَذَكَرَ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَاَيْنَا اَنَّهُ لَا حَقَّ لِاَحَدٍ مِنَّا فِيْ فَضْلٍ.

عن ابي سعيد الخدري رضی اللہ عنہ قال: بينما نحن في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاء رجل على راحلة له، فجعل يصرف بصره يمينا وشمالا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’من كان معه فضل ظهر ،فليعد به على من لا ظهر له، ومن كان له فضل من زاد، فليعد به على من لا زاد له.‘‘ فذكر من اصناف المال ما ذكر حتى راينا انه لا حق لاحد منا في فضل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر آیا اوردائیں بائیں دیکھنے لگا، سرکارِ دوعالَم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ جس کے پاس اضافی سواری ہو تو وہ اُسے دے دے جس کے پاس سواری نہ ہو اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہووہ اُسے دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں ۔‘‘راو ی کہتے ہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسی طرح دیگر مال کے بار ےمیں بھی فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کرلیا کہ ہمارے زائد مال میں ہماراکوئی حق نہیں ۔

شرح حدیث

ضرورت مند کی داد رسی:حدیثِ مذکور میں اونٹ پر سوار ایک شخص کا ذِکر ہے۔ وہ شخص اِدھراُدھر اس لئے دیکھ رہا تھا کہ اسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے مطلوبہ شے مل جائے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ کسی بھی طرح کا کوئی سا بھی مال ہو تو وہ اسے دے دے جس کے پاس وہ مال نہ ہو ۔وه شخص جس اونٹنی پر سوار تھا یا تو اونٹنی اتنی زیادہ کمزور تھی کہ اب مزید وہ اس سوار شخص کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی تھی جس کی بنا پر اسے پیدل سفر کرنا پڑتا۔ یا پھر اونٹنی کمزور تو نہ تھی لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ مزید سفر نہیں کر سکتی تھی تو حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کے لئے لشکر والوں سے اِضافی سواری طلب فرمائی ۔اگرچہ حضور نبی کریم ،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مُطلقاًتمام لوگوں کو ایک دوسرے پر اپنی زائد چیزیں ایثار کرنے کی ترغیب دلائی لیکن حقیقتاً آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِس اونٹ سوار کی ظاہری کیفیت کو دیکھ کر اُس پر رحمت وشفقت کرتے ہوئے اُس کی داد رسی فرمائی۔اِیثار کی ترغیب دلانا سنت ہے:حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کی حالت اور کیفیت دیکھ کر دیگر لشکر والوں کو اپنی زائد چیزیں اپنے بھائیوں پر ایثار کرنے کی ترغیب دلائی۔ معلوم ہوا کہ قافلے کا سپہ سالار یا بڑا نگران اپنے ماتحتوں کو ایثار کی ترغیب دلائے کہ ایثار کی ترغیب دلانا سنت ہے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث پاک میں دوستوں اور ساتھیوں پر صدقہ کرنے، سخاوت کرنے، ان کے ساتھ ہمدردی اور احسان کرنے اور ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرنےپر ابھارا گیا ہے، نیز اس بات کا بھی بیان ہے کہ قوم کا بڑا (سردار یا نگران یا سپہ سالار وغیرہ) اپنے ساتھیوں کو بغیر احسان جتائے محتاجوں کی مدد کرنے اورانہیں بِلا سوال دینے کی ترغیب دلائے۔‘‘سخی وہ نہیں جو صرف مانگنے پر دے:حضرت سَیِّدُنَاامام زین العابدینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ’’سخی وہ نہیں جو مانگنے والوں کو دیتا ہے بلکہ سخی وہ ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمانبرداروں کے حقوق کی ادائیگی میں پہل کرتا ہےاور اپنی تعریف کا خواہشمند نہیں ہوتا بشرطیکہ بارگاہِ خداوندی سے کامل ثواب کا یقین رکھے۔‘‘دوست کی خبرگیری نہ کرنے پرافسوس:ایک شخص اپنے دوست کے پاس گیا اور اس کادروازہ کھٹکھٹایا، دوست نے پوچھا: ’’کیسے آنا ہوا؟‘‘ اس شخص نے کہا: ’’مجھ پر چار سودرہم قرض ہیں۔‘‘دوست نے چار سودرہم اس کے حوالے کردیئے اور پھر گھر کے اندر روتا ہوا پلٹا۔ اس کی بیوی نے کہا: ’’اگر درہموں سے اتنی ہی محبت تھی تو دئیے کیوں؟‘‘اس نے کہا: ’’میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میں اس سے بے خبر کیوں رہا حتی کہ اسے مجبور ہوکر میرے دروازے پر آنا پڑا ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!” کمال یہ نہیں کہ دوستوں کے مانگنے پر اُن کی مدد کی جائے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ انکے حالات سے باخبر رہاجائے اور اس سے پہلے کہ وہ شرماتے لجاتے ہم سے اپنا حال کہیں ہم خود جاکر ان کی مدد کردیں۔
ہمیں اپنے فضل و کرم سے تو کردے …… سخاوت کی نعمت عطا یاالٰہی
مدنی گلدستہ’’جبریل‘‘ کے 5 حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ایثار کرنا اور ایثار کی ترغیب دلانا دونوں سنت مبارکہ ہیں۔
(2) ضرورت سے زائد مال ہو تو اسے رضائے الٰہی کے لیے کسی ضررت مند پر ایثار کردینا چاہیے۔
(3) قوم کا امیر یا نگران جب اپنے کسی ماتحت کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو اسے چاہیے کہ دیگر لوگوں کو اس کی مدد و داد رَسی کی ترغیب دلائے۔
(4) سخی وہ نہیں جومانگنے پر دے بلکہ سخی وہ ہے جو رضائے الٰہی کے لیے بن مانگے محتاجوں کو دے اور ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرے۔
(5) بندے کو چاہیے کہ وہ رضائے الٰہی کے لیے اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں دوست واَحباب کی مالی ضرورتوں پر نظر رکھے اور ان کے مانگنے سے پہلے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوست واَحباب ودیگر ساتھیوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور اُن کی مالی ضرورتیں پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 566