Main Icon

باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 565

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِى الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِى الْاَرْبَعَةِ. وَفِیْ رِوَایَۃ ٍلِمُسْلِمٍ، عَنْ جَابِر ٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْاَ رْبَعَةَ وَطَعَامُ الْاَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:’’طعام الاثنين كافى الثلاثة، وطعام الثلاثة كافى الاربعة. وفی روایۃ لمسلم، عن جابر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم:طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الا ربعة وطعام الاربعة يكفي الثمانية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہے۔‘‘مسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی پاک صاحِب لَولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھا نا آٹھ کو کافی ہے ۔‘‘

شرح حدیث

کفایت کا معنی برکت کا بڑھ جانا ہے:عَلَّامَہ اَبُوحَفْص سِرَاجُ الدِّیْن عُمَر بِنْ عَلِیْ اِبْنِ مُلَقَّن رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’مراد یہ ہے کہ جس کھانے سے دو آدمی سیر ہوسکتے ہیں وہ تین کو بھی کفایت کرے گا اور جس کھانے سے تین آدمی سیر ہوسکتے ہیں وہ چار کو کفایت کرے گا،اسی طرح دوکا چار کو اورچار کا آٹھ کوکفایت کرتا ہےاور کفایت کے معنی سیر ہونا یا پیٹ بھرجانا نہیں ہے جس طرح غنی اور بہت زیادہ مالدار ہونا کفایت نہیں ہے۔ یہ کفایت لوگوں کی کثرت اور ان کے ہاتھوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ(اس کے سبب)برکت بڑھادیتا ہے۔ ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب باہم ہمدردی اورخیر خواہی ہوتی ہے تو برکت بڑھ جاتی ہے۔امام مُہَلَّبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ان تمام احادیث سے کھانے میں اچھا سلوک، ہمدردی اور اپنی جان پر دیگر لوگوں کو ترجیح دینا مراد ہے۔اوریہ ایثار ایسی صفت ہے جس پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اصحاب کی قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں تعریف فرمائی ہے۔ اس سے کھانے میں برابری وغیرہ مراد نہیں ہےکیونکہ سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان کہ ’’دو کاکھانا تین کو کافی ہے۔‘‘یہ بقدرِ کفایت پرقناعت اختیار کرنے اور ایثار کرنے پر دلیل ہےجس کی وجہ سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تعریف بیان کی گئی ہےاور امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی بھوک والے سال عامُ الرَّمادہ میں اِسی کا اِرادہ فرمایا تھا کہ آپ نے ہرگھروالوں کو فرمایا:’’آدھی خوراک سے کوئی ہلاک نہیں ہوگا۔‘‘ (یعنی وہ اپنی پوری خوراک میں اپنے بھائی کو بھی شریک کرلے کہ ایک کا کھانا دو کو کفایت کرے گا۔)مل کر کھانا مستحب ہے:امام اِبن مُنذررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’یہ حدیث اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مل کرکھانا مستحب ہےاور بندے کو چاہیے کہ وہ اکیلا نہ کھائے کیونکہ برکت مل کر کھانے میں ہے جیسا کہ حضرت سیدنا وَحشیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی حدیثِ پاک میں ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکہیں دعوت پر تشریف لے گئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دس دس مہمانوں کو گھرمیں داخل فرماکر کھانا کھلایا۔‘‘مدنی گلدستہ’’غم مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) کھانا کم ہونے کی صورت میں دوشخصوں کا کھانا تین کو کافی ہوتا ہےیعنی جتنے کھانے سے دو آدمیوں کا پیٹ بھرے گا اتنا کھانا قناعت کے ساتھ تین آدمیوں کو کافی ہوجائے گا۔
(2) اسلام میں قناعت وکفایت شعاری کا درس دیا گیا ہے حتی کہ کھانے میں بھی قناعت وکفایت شعاری سے کام لینا اور اپنے بھائیوں کے لیے کھانا وغیرہ ایثار کردینا باعثِ فضیلت ہے۔
(3) جہاں چند مسلمان جمع ہوتے ہیں، مل کر کھانا کھاتے ہیں تو وہاں کھانے میں برکت بڑھادی جاتی ہے۔
(4) مل کر کھانے سے چونکہ کھانے میں برکت ہوتی ہے اس لیے بندے کو چاہیے کہ اکیلے نہ کھائے بلکہ کسی کو شریک کرلے۔
(5) کھانا کھاتے ہوئے بھی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ عمدہ بوٹیاں وغیرہ اپنے بھائیوں پر ایثار کرکے کثیر اجروثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(6) اگر بندہ غور کرے تو کھانے کے علاوہ بھی دیگر کئی جگہوں پر اپنی آسانی اور سہولت والی چیز یا جگہ کو دیگر مسلمان بھائیوں کے لیے ایثار کرکے ثواب کمایاجاسکتا ہے۔
(7) بندے کو جتنا رزق ملے اسی پر صبر و شکر کے ساتھ قناعت اختیار کرنی چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قناعت اختیار کرنے، اپنی پسندیدہ چیزیں رضائے الٰہی کے لیے اپنے دیگر مسلمان بھائیو ں پر ایثار کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمیں اخلاص کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 565