Main Icon

باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 568

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الْاَشْعَر ِ یِّیْنَ اِذَا اَرْمَلُوْا فيِ الْغَزْ وِ اَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِيْنَةِجَمَعُوْا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوْهُ بَيْنَهُمْ فِي اِنَآءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِ يَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَاَنَا مِنْهُمْ.

عن ابي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الاشعر یین اذا ارملوا في الغز و او قل طعام عيالهم بالمدينةجمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في اناء واحد بالسو ية فهم مني وانا منهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو مُوسٰیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اَشعری قبیلے کے لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جب جنگ میں اُن کا زاد ِراہ ختم ہوجاتا ہے یا مدینہ طیبہ میں اُن کے اَہل و عیال کی خوراک کم رہ جاتی ہے تو جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے اُسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر ایک برتن میں برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، پس وہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔‘‘

شرح حدیث

وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں:عمدۃ القاری میں ہے:’’اس حدیثِ پاک میں اشعری قبیلے والوں کے ایثار اور باہمی ہمددری کی تعریف بیا ن کی گئی ہے۔اللّٰہ1∞کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے ایثار کی گواہی دی، اور سب سے بڑھ کریہ کہ انہیں اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔یعنی طاعتِ اِلٰہی میں وہ میرے راستے پر ہیں،یا یہ مطلب ہےکہ جس طرح میں مسلمانوں سے ہمدردی کرتاہوں اسی طرح وہ بھی ایک دوسرے سے ہمدردی کرتے ہیں ‘‘سَیِّدُناابوذرغفاری کا عمدہ اونٹ:مشہور صحابی حضرت سَیِّدُنا ابوذرغفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمدینہ منورہ کی ایک قریبی بستی میں رہا کرتے تھے، گزر بسر کے لیے آپ کے پاس چنداونٹ تھے اور ایک کمزور سا چرواہا۔ ایک بار خاندانِ بنوسُلَیْم کے ایک صاحبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحاضرِ خدمت ہوکر عرض گزار ہوئے:’’حضور! مجھے اپنی صحبت میں رہنے کی اِجازت مرحمت فرمائیے۔فیض بھی حاصل کروں گا اور آپ جناب کے چرواہے کا ساتھ بھی دے دیا کروں گا۔‘‘سَیِّدُناابوذر غفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے ساتھ رہنے کی شرط یہ ارشاد فرمائی کہ آپ کو میری اطاعت کرنی ہوگی۔ عرض کی: ’’کس بات میں؟‘‘ فرمایا: ’’جب میں اپنے مال میں سے کوئی چیز راہِ خدا میں دینے کا کہوں تو سب سے بہترین شے دینی ہوگی۔‘‘انہوں نے منظور کرلیا اور صحبت سے فیضیاب ہونے لگے۔ ایک دن غرباء کی امدادکے لیے سیدنا ابوذرغفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں اونٹ لانے کا حکم دیا، اولاً انہوں نے عمدہ اونٹ لے جانے کا ارادہ کیا لیکن بعدازاں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی ضرورت وغیرہ کی وجہ سے اس کے بدلے بہترین اونٹنی پیش کردی۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’تم نے خیانت کی۔‘‘وہ گئے اور وہی عمدہ اونٹ ہی لے آئے۔ فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’کیا تم اپنا وعدہ بھول گئے تھے؟‘‘عرض کیا: ’’مجھے وعدہ یاد تھا لیکن آپ کی ضرورت کے پیش نظر اس عمدہ اونٹ کو چھوڑ دیا۔‘‘فرمایا: ’’کیا میں تمہیں اپنی ضرورت کا دن نہ بتادوں؟ سن لو میری ضرورت کا دن تو وہ ہے جس دن میں قبر کے گڑھے میں تنہا ڈال دیا جاؤں گا۔‘‘مدنی گلدستہ’’اِیثار ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مشکل وقت میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا اور انہیں اپنی ضرورت کی چیزوں سے حصہ دینا عظیم لوگوں کاشیوہ ہے۔
(2) جب خوراک کی قلت ہوتو سب اپنا اپنا کھاناساتھ ملا لیں اورمل کر کھائیں
اِنْ شَآءَ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّاس جمع شدہ کھانے میں برکت ہوگی اور وہ سب کو کفایت کرے گا۔
(3) قوم کا آپس میں مل جل کر رہنا اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا قابلِ تعریف عمل ہے۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانراہِ خدا میں اپنی بہترین چیز خرچ کیا کرتے تھے۔
(5) اِیثاروہمدردی کی ترغیب دلانا حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں خرچ کرنے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 568