- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- حدیث نمبر 567
حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اِمْرَاَةً جَاءَتْ اِلٰى رَسُوْل اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوْجَةٍ، فَقَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدَيَّ لِاَ كْسُوَكَهَا، فَاَخَذَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًااِلَيْهَا، فَخَرَجَ اِلَيْنَا وَ اِنَّهَا اِزَارُهُ، فَقَالَ فُلانٌ: اُ كْسُنِيْهَا مَا اَحْسَنَهَا! فَقَالَ: نَعَمْ! فَجَلَسَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في المَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَواهَا، ثُمَّ اَرْسَلَ بِهَا اِلَيْهِ: فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا اَحْسَنْتَ! لَبِسَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحتَاجاًاِلَيْهَا، ثُمَّ سَاَلْتَهُ وَعَلِمْتَ اَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: اِنّي وَاللهِ مَا سَاَلْتُهُ لِاَلْبِسَهَا، اِنَّمَا سَاَلْتُهُ لِتَكُوْنَ كَفَنِيْ . قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
عن سهل بن سعد رضي الله عنه ان امراة جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ببردة منسوجة، فقالت: نسجتها بيدي لا كسوكها، فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجااليها، فخرج الينا و انها ازاره، فقال فلان: ا كسنيها ما احسنها! فقال: نعم! فجلس النبي صلى الله عليه وسلم في المجلس، ثم رجع فطواها، ثم ارسل بها اليه: فقال له القوم : ما احسنت! لبسها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجااليها، ثم سالته وعلمت انه لا يرد سائلا، فقال: اني والله ما سالته لالبسها، انما سالته لتكون كفني . قال سهل: فكانت كفنه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاسہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک خاتون حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہ میں بُنی ہوئی چادر لے کر حاضر ہوئی اورعرض کی:’’میں نے اِسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ میں یہ آپ کو پہنانے کی سعادت حاصل کروں۔‘‘ حضور نبی پاک صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے قبول فرمالیا کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی ضرورت بھی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُسی چادر کو پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کرتے ہوئے کہا :’’کتنی اچھی ہے آپ یہ مجھے پہنادیجئے۔‘‘آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ٹھیک ہے۔‘‘پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہیں تشریف فرمارہے، جب واپس تشریف لے گئے تو چادر کو لپیٹا اوراُس شخص کےلئےبھجوادی۔ لوگوں نے اس سے کہا:’’یہ تم نے اچھا نہیں کیاکیونکہ سرکار ِ دوعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس چادر کو ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا پھر بھی تم نے یہ چادر مانگ لی اور تمہیں معلوم بھی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کا سوال رَدْ نہیں فرماتے۔‘‘ اس نے کہا:’’ خدا کی قسم! یہ میں نے پہننے کے لئے نہیں مانگی بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ میں اس مبارک چادر کو اپنا کفن بناؤں گا۔‘‘ راوی یعنی حضرت سَیِّدُناسہلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اُس خوش نصیب صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو اسی مبارک چادر کا کفن دیا گیا تھا ۔“
شرح حدیث
خوش نصیب صحابیہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں بیان ہواکہ ایک صحابیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی چادر پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں نذر کی،یقیناً اس صحابیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا چادر تیار کرنا بھی عبادت ، اسے بارگاہ رسالت میں لانا بھی عبادت اور اسے رسولاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں نذر کرنا بھی عبادت تھی اور یہ ان کی سعادتوں کی معراج اور انتہائی خوش نصیبی تھی کہ سرکار ِدوعالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن کا تحفہ قبول فرمالیا۔اِیثار کا عملی مظاہرہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِیثار کا عملی مظاہرہ ہے۔جو چادر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دی گئی وہ بہت خوبصورت تھی اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی ضرورت بھی تھی مگر جیسے ہی سائل نےمانگی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُسے عطا فرمادی۔اس حدیثِ پاک میں جہاں حضور نبی رحمت،شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےایثار کا بیان ہے وہیں آپ کے حُسنِ اخلاق اور سخاوت کا تذکرہ بھی ہے۔مبارک چادر حاصل کرنے والے صحابی:”حدیثِ مذکور میں جس صحابیٔ رسول کا ذکر وہ حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُیا حضرت سَیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔‘‘واضح رہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعبدالرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا شمار اُن دس 10جلیل القدرصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتا ہےجنہیں تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری عطا فرمادی تھی۔سَیِّدُنَا عبدالرحمن بن عوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی مالدار صحابی تھے، لیکن اس کے باوجود سادہ زندگی بسر فرماتے تھے اورراہِ خدا میں خرچ کرنا آپ کی عادات میں شامل تھا۔ مال کی وجہ سے آنے والی آزمائش وسرکشی سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتے، خوشی ہو یا غمی ہر حال میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ سے لو لگائے رکھتے، قلب ونگاہ کے ذریعے عبرت حاصل کرتے رہتے، نہایت ہی خوف خدا رکھنے والے تھے، غریبوں، مسکینوں پر اِحسان فرماتے ہوئے انہیں اپنے ہاتھوں سے عطیات دیتے، نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں تمام شُرَفاء کا سردار قرار دیا، آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماوراہلِ بیتِ اَطہار کی خوب خدمت کرتے، بارگاہِ رسالت سے آپ کو زمین وآسمان میں امین ہونے کی سند عطا ہوئی، زمین میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے وکیل ہونے کا لقب بھی عطا ہوا، الغرض آپ کی ذاتِ مبارکہ خیروبھلائی کا مجموعہ تھی، عشقِ رسول آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی نس نس میں بھرا ہوا تھا، نہ صرف سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات سے محبت فرماتے بلکہ ہر اس چیز سے بھی محبت فرماتے جس کو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےنسبت ہو جاتی۔ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرتِ طیبِّہ کیلئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔ایثار کی پانچ مختصر حکایات:(1)امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بکری کی سری تحفہ میں پیش کی گئی تو انہوں نے یہ سوچ کرکہ میرے فلاں بھائی کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہوگی سری اس کی طرف بھیج دی،اس نے بھی یہی سوچ کر آگے بھجوادی حتی کہ وہ سری سات گھروں میں گھومتی ہوئی پھر پہلے گھر میں آگئی۔“یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے پر ایثار کیا۔
(2)حضرت سَیِّدُناعبد اللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابیمار ہوئےتوانگور کھانے کی خواہش ہوئی، آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سَیِّدَتُنا صفیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے ایک درہم کے انگور منگوالیے، اتنے میں ایک سائل آیا تو آپ نے وہ انگور اسے دے دیے، زوجہ محترمہ نے دوبارہ انگور منگوائے، پھر سائل آ گیا تو آپ نے وہ انگور بھی سائل کودے دئیے۔(3) حضرت سَیِّدُنا عباس بن دہقانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:” حضرت سَیِّدُنا بشر حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیکے علاوہ کوئی شخص دنیا سے ایسے نہیں گیا جیسے آیا تھا۔ آپ مرض الموت میں مبتلا تھے کہ ایک شخص نے آکر سوال کیا، آپ نے اپنی قمیص اتار کر اسے دے دی اور اپنے لیے ادھار کپڑا لے لیا، پھر اسی میں انتقال فرمایا۔“(4)مروی ہے کہ امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت سَیِّدُنا امام شعبہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس ایک سائل آیا، اس وقت آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس کچھ نہ تھا، آپ نے گھر کی چھت سے ایک لکڑی نکال کر سائل کو دے دی اور ساتھ میں معذرت بھی کی۔(5)حضرت سَیِّدُنا ابوجہم بن حذیفہ عدویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میں جنگِ یرموک میں اپنے چچازاد بھائی کو تلاش کررہا تھا، میرے پاس ان کے لیے کچھ پانی تھا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو وہ زندہ تھے۔ میں نے پوچھا پانی پلاؤں تو انہوں نے اشارے سے ہاں میں جواب دیا، لیکن قریب سے کسی کے کراہنے کی آواز آئی تو انہوں نے اس کی جانب اشارہ کیا، میں وہاں گیا تو وہ حضرت ہشام بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے میں نے ان سے پانی پلانے کا پوچھا ، اتنے میں قریب سے کسی اور کے کراہنے کی آواز آئی تو انہوں نے وہاں اشارہ کیا، جب میں تیسرے کے پاس پہنچا تو وہ انتقال کرچکا تھا، میں واپس حضرت ہشامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا تو وہ بھی انتقال کرچکے تھے،پھر میں اپنے چچا زاد بھائی کی طرف آیا تو وہ بھی انتقال کرچکے تھے،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان تمام پر رحمت نازل فرمائے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو!آمینمدنی گلدستہاسلام کے پانچ ارکان کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حاکمِ اسلام یا کسی بھی دِینی معزز شخصیت سے بطورِتَبَرُّککوئی چیز مانگنا جائز ہے۔
(2) اپنی زندگی میں ہی اپنا کفن تیار کر کے رکھنا جائز ہے۔
(3) حضور نبی رحمت شَفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے در سے کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ جاتا تھا۔
(4) حضور نبی پاک صاحب لَولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَقدس سے لگنے والی بلکہ آپ سے نسبت رکھنے والی ہر شے بابرکت ہے۔
(5) اپنی ضرورت کی چیزیں دوسروں پر اِیثار کرنا بلند ہمت لوگوں کا کام ہے ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایثار،ادب،عِلم وحکمت اور دِین پر اِستقامت کی دولت سے مالا مال فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 567