- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’میں بھوکا ہوں۔‘‘ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی کو پیغام بجھوایا تو انہوں نے جواب دیا :’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میرے پاس پانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوسری زوجہ ٔمحترمہ کی طرف پیغام بجھوایا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، یہاں تک کہ تمام اَزواجِ مُطَہَّرَات نے یہی جواب دیا کہ :’’اس ذات کی قسم جس نےآپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘حضور تاجدارِرِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حاضرین سے فرمایا :’’ آج رات اس شخص کی کون مہمان نوازی کرے گا ؟‘‘ایک انصاری صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کی:’’یارسولَاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں کروں گا۔‘‘∞پھر وہ اس شخص کو لے کر گھر چلے گئے اور اپنی زوجہ سے فرمایا: ’’رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مہمان کی عزت کرنا۔‘‘ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے اپنی زوجہ سے استفسار فرمایا: ’’کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟‘‘تو انہوں نے جواب دیا کہ :’’سوائے بچوں کے کھانے کے کچھ نہیں ۔‘‘فرمایا: ’’بچوں کو کسی چیز سے بہلادینا اور جب بچے کھانے کا کہیں تو انہیں سلا دینا اور جب مہمان آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر یہ ظاہر کرنا کہ ہم اس کے ساتھ کھا رہے ہیں۔‘‘ جب سب کھانے کے لئے بیٹھے تو مہمان نے کھا یا اور ان دونوں مقدس ہستیوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔اگلے دن صبح جب وہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ تم دونوں نے رات کو جو اپنے مہمان کے ساتھ (حُسْنِ سلوک)کیا وہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت پسند آیا ہے۔‘‘بعض روایات میں یوں ہے کہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوطلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’رات فلاں فلاں کے گھر میں عجیب معاملہ پیش آیا،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان لوگوں سے بہت راضی ہے۔‘‘ اور پھر سورۂ حشر کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹)(پ۲۸، الحشر:۹)ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنی جانوں پر اُن کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنّی مَجْهُوْدٌ، فَاَرْسَلَ اِلٰى بَعْضِ نِسَائِه فَقَالَتْ: وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِيْ اِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ اَرْسَلَ اِلٰى اُخْرٰى فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِكَ، حَتّٰى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذٰلِكَ: لَا وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِيْ اِلَّا مَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُضِيْفُ هٰذَا اللَّيْلَةَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ اِلٰى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِاِمْرَ أتِهِ: اَكْرِمِيْ ضَیْفَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: قَالَ لِاِمْرَأته هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: لَا اِلَّا قُوْتَ صِبْيَانِي، قَالَ: عَلِّلِيْهِمْ بِشَيْءٍ وَ اِذَا اَرَادُوْا الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيْهِمْ وَاِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَاَطْفِئِي السِّرَاجَ وَاَرِيْهِ اَنَّا نَاكُلُ، فَقَعَدُوْا وَاَكَلَ الضَّيْفُ وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ: لَقَدْ عَجِبَ اللهُ مِنْ صَنِيْعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 564 ، باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہے۔‘‘مسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی پاک صاحِب لَولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھا نا آٹھ کو کافی ہے ۔‘‘
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’طَعَامُ الاِثْنَيْنِ كَافِى الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِى الْاَرْبَعَةِ. وَفِیْ رِوَایَۃ ٍلِمُسْلِمٍ، عَنْ جَابِر ٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْاَ رْبَعَةَ وَطَعَامُ الْاَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 565 ، باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر آیا اوردائیں بائیں دیکھنے لگا، سرکارِ دوعالَم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’ جس کے پاس اضافی سواری ہو تو وہ اُسے دے دے جس کے پاس سواری نہ ہو اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہووہ اُسے دے دے جس کے پاس زادِ راہ نہیں ۔‘‘راو ی کہتے ہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسی طرح دیگر مال کے بار ےمیں بھی فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کرلیا کہ ہمارے زائد مال میں ہماراکوئی حق نہیں ۔
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ ،فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ.‘‘ فَذَكَرَ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَاَيْنَا اَنَّهُ لَا حَقَّ لِاَحَدٍ مِنَّا فِيْ فَضْلٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 566 ، باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاسہل بن سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک خاتون حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہ میں بُنی ہوئی چادر لے کر حاضر ہوئی اورعرض کی:’’میں نے اِسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ میں یہ آپ کو پہنانے کی سعادت حاصل کروں۔‘‘ حضور نبی پاک صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے قبول فرمالیا کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس کی ضرورت بھی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُسی چادر کو پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کرتے ہوئے کہا :’’کتنی اچھی ہے آپ یہ مجھے پہنادیجئے۔‘‘آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ٹھیک ہے۔‘‘پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہیں تشریف فرمارہے، جب واپس تشریف لے گئے تو چادر کو لپیٹا اوراُس شخص کےلئےبھجوادی۔ لوگوں نے اس سے کہا:’’یہ تم نے اچھا نہیں کیاکیونکہ سرکار ِ دوعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس چادر کو ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا پھر بھی تم نے یہ چادر مانگ لی اور تمہیں معلوم بھی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی کا سوال رَدْ نہیں فرماتے۔‘‘ اس نے کہا:’’ خدا کی قسم! یہ میں نے پہننے کے لئے نہیں مانگی بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ میں اس مبارک چادر کو اپنا کفن بناؤں گا۔‘‘ راوی یعنی حضرت سَیِّدُناسہلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اُس خوش نصیب صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو اسی مبارک چادر کا کفن دیا گیا تھا ۔“
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اِمْرَاَةً جَاءَتْ اِلٰى رَسُوْل اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوْجَةٍ، فَقَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدَيَّ لِاَ كْسُوَكَهَا، فَاَخَذَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًااِلَيْهَا، فَخَرَجَ اِلَيْنَا وَ اِنَّهَا اِزَارُهُ، فَقَالَ فُلانٌ: اُ كْسُنِيْهَا مَا اَحْسَنَهَا! فَقَالَ: نَعَمْ! فَجَلَسَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في المَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَواهَا، ثُمَّ اَرْسَلَ بِهَا اِلَيْهِ: فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا اَحْسَنْتَ! لَبِسَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحتَاجاًاِلَيْهَا، ثُمَّ سَاَلْتَهُ وَعَلِمْتَ اَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: اِنّي وَاللهِ مَا سَاَلْتُهُ لِاَلْبِسَهَا، اِنَّمَا سَاَلْتُهُ لِتَكُوْنَ كَفَنِيْ . قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 567 ، باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو مُوسٰیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اَشعری قبیلے کے لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جب جنگ میں اُن کا زاد ِراہ ختم ہوجاتا ہے یا مدینہ طیبہ میں اُن کے اَہل و عیال کی خوراک کم رہ جاتی ہے تو جو کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے اُسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر ایک برتن میں برابر تقسیم کرلیتے ہیں ، پس وہ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔‘‘
عَنْ اَبِيْ مُوْسٰى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الْاَشْعَر ِ یِّیْنَ اِذَا اَرْمَلُوْا فيِ الْغَزْ وِ اَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِيْنَةِجَمَعُوْا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوْهُ بَيْنَهُمْ فِي اِنَآءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِ يَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَاَنَا مِنْهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 568 ، باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان