باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جوشخص صبح یاشام مسجد جاتا ہےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے صبح و شام جنت میں مہمانی کا سامان تیار فرماتاہے۔“

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ:اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ غَدَا اِلَى الْمَسْجِدِ اَوْرَاحَ اَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُ لًا كُلَّمَا غَدَا اَوْرَاحَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1053 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جواپنے گھر سے اچھی طرح طہارت کرکےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےفرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی کے لئے کسی مسجد کی طرف جائے توایک قدم اس کے گناہ مٹاتا اور دوسرا قدم اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ تَطَهَّرَ في بَيْتِهِ ثُمَّ مَضٰى اِلٰى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيْضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ كَانَتْ خُطُوَاتُهُ اِحْدَاهَا تَحُطُّ خَطِيْئَةً وَالْاُخْرٰى تَرْفَعُ دَرَجَةً.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1054 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ایک انصاری تھے، میں نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ کوئی مسجد سے دُور رہتا ہو۔ان کی کوئی جماعت فوت نہ ہوتی تھی ۔ اس سے کہا گیا :’’تم کوئی گدھا وغیرہ کیوں نہیں خریدلیتےکہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرو۔‘‘اس نے کہا: ’’مجھے تویہ بھی پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو کیونکہ میں چاہتاہوں کہ میرامسجد کی طرف آنااور مسجد سے گھر کی طرف جانا لکھا جائے ۔‘‘حضور نبی رحمتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے یہ سب تیرے ‏لیے جمع فرمادیاہے۔‘‘

عَن اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ لَا اَعْلَمُ اَحَدًا اَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَكَانَتْ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فَقيلَ لَهُ:لَوْ اِشْتَرَيْتَ حِمَارًا لِتَرْكَبَهُ في الظَّلْمَاءِ وَفِي الرَّمْضَاءِقَالَ:مَا يَسُرُّنِي اَنَّ مَنْزِلِي اِلٰى جَنْبِ الْمَسْجِدِ اِنِّي اُرِيْدُ اَنْ يُّكْتَبَ لِيْ مَمْشَايَ اِلَی الْمَسْجِدِوَرُجُوعِيْ اِذَارَجَعْتُ اِلٰى اَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1055 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ مسجدِ نبوی کے نزدیک کچھ جگہ خالی ہوئی تو بنو سلمہ نے مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کاارادہ کیا ۔ یہ بات نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک پہنچی توان سے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہےکہ تم مسجدکے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟“انہوں نے عرض کی :جی ہاں یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ارادہ تو یہی ہے۔ارشاد فرمایا:اے بنوسلمہ ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں،اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔ یہ سن کرانہوں نے عرض کی :”اب ہمیں وہاں سے منتقل ہونا پسند نہیں۔“

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:خَلَت الْبِقاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَاَرَادَ بَنُوْ سَلِمَةَ اَنْ يَّنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذٰلِكَ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ:بَلَغَنِيْ اَنَّكُم تُريْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ قَالُوْا: نَعَم يَارَسُولَ اللَّهِ قَدْ اَرَدْنَاذٰلِكَ فَقَالَ:بَنِيْ سَلِمَةَدِيَارَكُم تُكْتَبْ آ ثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آ ثَارُكُمْ فَقَالُوْا:مَا يَسُرُّنَا اَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1056 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں نماز کا زیادہ ثواب پانے والا وہ ہے جس کا راستہ (گھر سے مسجد کی طرف)طویل ہو پھراس کے بعد جس کا راستہ طویل ہو۔جونماز کا انتظارکرےیہاں تک کہ باجماعت نماز اداکرےتو وہ ثواب میں ا س سے زیادہ ہےجو تنہانماز پڑھ کر سوجائے۔

عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اَعْظَمَ النَّاسِ اَجْرًا فِي الصَّلَاةِ اَبْعَدُهُمْ اِلَيْهَا مَمْشًى فَاَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْاِمَامِ اَعظَمُ اَجْراً مِنَ الَّذِي يُصَلِّيْ ثُمَّ يَنَامُ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1057 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا بُریدہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تاریکی میں مسجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری سنا دو۔ “

عَنْ بُرَيْدَةرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَشِّرُواالْمَشَّائِيْنَ فِي الظُّلَمِ اِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِالتَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1058 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” کیا میں تمہیں ایسے اعمال کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے سبباﷲ عَزَّ وَجَلَّخطائیں مٹا تااور درجات بلند فرماتا ہے؟“صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: کیوں نہیںیارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا:”مشقت کے وقت کامل وضو کرنا،مسجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا اورایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، پس یہی رِباط ہے ، یہی رِباط ہے ۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلَا اَدُلُّكُمْ عَلٰی مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟قَالُوا:بَلٰی يَارَسُولَ اللهِ؟قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَ كَثْرَةُ الْخُطَااِلَى الْمَسَاجِدِوَانْتِظَارُالصَّلَاةِ بَعْدَالصَّلَاةِ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1059 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:جب تم کسی شخص کو مسجد کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان دار ہونے کی گواہی دو کہاﷲ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے:﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ﴾(پ۱۰،التوبۃ:۱۸)ترجمۂکنز الایمان:”اﷲکی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جواﷲاور قیامت پر ایمان لاتے۔“

عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِی رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذا رَاَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوْا لَهُ بالْاِيمَانِ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ:﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾. الآية.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1060 ، باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان