Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1060

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِی رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذا رَاَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوْا لَهُ بالْاِيمَانِ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ:﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾. الآية.

عن ابي سعيد الخدری رضی اﷲ عنہ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:اذا رايتم الرجل يعتاد المساجد فاشهدوا له بالايمان قال الله عزوجل:﴿ انما یعمر مسجد الله من امن بالله و الیوم الاخر ﴾. الآية.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:جب تم کسی شخص کو مسجد کا عادی دیکھو تو اس کے ایمان دار ہونے کی گواہی دو کہاﷲ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے:﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ﴾(پ۱۰،التوبۃ:۱۸)ترجمۂکنز الایمان:”اﷲکی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جواﷲاور قیامت پر ایمان لاتے۔“

شرح حدیث

مسجد کا عادی ہونے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(مسجد کا عادی ہونے سےمراد)ہرنماز کے لیے وہاں حاضرہو،وہاں کی صفائی کرے،مرمت کا خیال رکھے،جائززینت میں مشغول ہو،وہاں بیٹھ کردینی مسائل بیان کرے،وہاں درس دے ۔( )دلیل الفالحین میں ہے:مراد اس سے وہ ہے جومسجد کا ایسا عادی ہو کہ مسجد سے نکلنے سے لے کر واپسی تک اس کا دل مسجد میں لگارہے۔امام جلال الدین سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:مسجد سے اس کی محبت شدید ہو اوروہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا پابند ہو،یہ مطلب نہیں کہ وہ مسجد میں ہمیشہ بیٹھا رہے۔ ”اس کے ایمان کی گواہی دو۔“ اس کی شرح میں مرآۃ المناجیح میں ہے:یہ گواہی ایسی ہی ہے جیسے کسی کا لباس اورشکل دیکھ کر ہم اسے مؤمن سمجھتے اورکہتے ہیں۔گواہی سے مرادقطعی فیصلہ نہیں۔نیز اگرکسی کا کفر ظاہرہو اور وہ مسجدکی خدمت کرے تو اسے مؤمن نہ کہا جائے گا۔“آیت کی تفسیر :حدیثِ مذکور میں موجودآیت کی مرآۃ المناجیح میں دوتفسیریں بیان کی گئی ہیں:ایک یہ کہ مسجدیں آباد کرنے کی توفیق عمومًا مومنوں ہی کو ملتی ہے۔دوسرے یہ کہ مسجدیں بنانے اورآبادکرنے کا حق صرف مومنوں کوہے کفارکونہیں اسی لیے منافقوں کی مسجدِضَرَّار گرادی گئی تھی۔(صاحبِ)مرقاۃ نے فرمایاکہ یہاں مسجد کی آبادی میں مسجدوں میں چراغاں کرنا،اس کوسجانا سب داخل ہے۔
تفسیرِصراط الجنان میں ہے:اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجدیں آباد کرنے کے مستحق مؤمنین ہیں ، مسجدوں کو آباد کرنے میں یہ اُمور بھی داخل ہیں : جھاڑو دینا، صفائی کرنا، روشنی کرنا اور مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنا جن کے لئے وہ نہیں بنائی گئیں ، مسجدیں عبادت کرنے اور ذکر کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں اور علم کا درس بھی ذِکر میں داخل ہے۔
مسجد سے محبت اوراُس کی آبادکاری سےمتعلق5فرامینِ مصطفےٰ:(1)’’وہ سات افراد جنہیں روزِمحشر سایۂ عرش نصیب ہوگا ان میں سے ایک وہ خوش نصیب بھی ہے جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو۔‘‘ (2)’’مسجدہرمتَّقی کاگھر ہے اور جو شخص مسجد کو اپنا گھر بنالےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے لئے راحت،رحمت اور پل صراط سے گزار کر اپنی رضا اورجنت تک لے جانے کا کفیل ہے۔‘‘ (3) ’’بے شکاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں کواﷲوالے ہی آباد کرتے ہیں۔‘‘ (4)’’جو مسجد سے محبت کرتا ہےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے اپنا محبوب بندہ بنا لیتاہے۔‘‘(5)’’جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لئے مساجد کو ٹھکانا بنا لےتواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مشقت کے وقت کامل وضو کرنا،مسجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا اورایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
(2) اسلامی سرحدوں کو اسلام دشمن قوتوں کی دخل اندازی سے محفوظ رکھنےکے لئے حفاظتی انتظام کرنا، اسلامی سرحدوں پر پہرادینا، اسی طرح شیطانی لشکروں سے حفاظت کے لئے مسجد میں بیٹھنایا پھر مذکورہ بالاتینوں اعمال کے ذریعےشیطانی حملوں سےبچنے کے لئے اپنی خواہشات کومغلوب کرنا رباط کہلاتا ہے۔
(3) مسجدوں کو آباد کرنااور ان کی دیکھ بھال کرنا ایمان کی علامت ہے ۔
(4) جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہو اسے بروزِمحشر عرش ِ الٰہی کے سائے میں جگہ نصیب ہوگی۔
(5) مساجد کی آباد کاری ،مساجدسے محبت،وہاں بیٹھ کر ذِکرو اَذکار اور نمازوں کا انتطار،یہ ایسی عظیم نیکیاں ہیں کہ ان کی بدولت انسان کو مغفرت،جنت،ایمانداری کی ضمانت اوررضائے الٰہی جیسی انمول نعمتیں ملتی ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں مساجد کو آباد کرنے اور مسجد کی طرف کثرت سے آمدورفت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1060