Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1054

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ تَطَهَّرَ في بَيْتِهِ ثُمَّ مَضٰى اِلٰى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيْضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ كَانَتْ خُطُوَاتُهُ اِحْدَاهَا تَحُطُّ خَطِيْئَةً وَالْاُخْرٰى تَرْفَعُ دَرَجَةً.

عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ ان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:من تطهر في بيته ثم مضى الى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله كانت خطواته احداها تحط خطيئة والاخرى ترفع درجة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جواپنے گھر سے اچھی طرح طہارت کرکےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےفرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی کے لئے کسی مسجد کی طرف جائے توایک قدم اس کے گناہ مٹاتا اور دوسرا قدم اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔

شرح حدیث

کبائر کی معافی کی امید:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد اُن صغیرہ گناہوں کی معافی ہے جن کاتعلقحقوقُ اﷲسے ہو۔پھراگران گناہوں کی معافی کےبعدبھی اس کے قدموں کی تعداد بڑھ جائے اوراس کے کبیرہ گناہ نہ ہوں تواس کےدرجات بلند کردئیے جاتے ہیں۔اگر کبیرہ گناہ ہوں توامید کی جاسکتی ہے کہ صغائر کے برابر وہ بھی معاف ہوجائیں۔جس کااصلاًکوئی گناہ نہ ہویا صغیرہ گناہ ہوں مگرمعاف ہوچکے ہوں تو اس کے درجات بلند کئےجاتے ہیں ۔نیک کاروں کے لئےہر قدم پر دو نیکیاں:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ گھر سے وضوکرکےمسجدکوجاناثواب ہے کیونکہ یہ چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل۔( یہاں ہر قدم پر گناہوں کی معافی) گنہگاروں کے لیےہے۔نیک کاروں کے لئےہر قدم پر دو نیکیاں اور دو درجے بلند (ہوتے ہیں)کیونکہ جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔ہر قدم پرتین اجر:علامہ ابنِ کمال پاشا حنفیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قدم چلنے سے ایک ہی درجہ حاصل ہوتا ہے جس سے گناہ معاف ہوتا ہے یا درجہ بلند ہوتا ہے ۔بعض نے کہا ہے : مسجد کی طرف ایک قدم چلنے سے تین چیزیں حاصل ہوتی ہیں جیساکہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ ”جو اچھی طرح وضو کرکے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اسے ہر قدم پر ایک نیکی ملتی ہے،اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’طھارت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) گھر سے نماز کے لئے مسجد کی طرف جانے والے کے ہر قدم پر صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(2) جس کاکوئی گناہ نہ ہویا صغیرہ گناہ ہوں مگرمعاف ہوچکے ہوں تو اس کے درجات بلند کئےجاتے ہیں ۔
(3) گھر سے وضو کرکے مسجد کی طرف جانا چاہیے کیونکہ مسجد کی طرف چلنا عبادت ہے اورعبادت باوضو افضل ہے۔
(4) جس چیز سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اس سے بے گناہوں کے درجے بڑھتے ہیں۔
(5) گھر سے وضو کرکے مسجد کی طرف جانے والے کو ہر قدم پر تین اجر ملتے ہیں:(1)نیکی ملتی ہے (2) درجہ بلند ہوتا ہےاور(3)گناہ معاف ہوتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں پابندی کے ساتھ مسجد کی حاضری کی توفیق عطافرمائے اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1054