Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1057

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسٰى رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اَعْظَمَ النَّاسِ اَجْرًا فِي الصَّلَاةِ اَبْعَدُهُمْ اِلَيْهَا مَمْشًى فَاَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْاِمَامِ اَعظَمُ اَجْراً مِنَ الَّذِي يُصَلِّيْ ثُمَّ يَنَامُ .

عن ابي موسى رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: ان اعظم الناس اجرا في الصلاة ابعدهم اليها ممشى فابعدهم والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الامام اعظم اجرا من الذي يصلي ثم ينام .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں نماز کا زیادہ ثواب پانے والا وہ ہے جس کا راستہ (گھر سے مسجد کی طرف)طویل ہو پھراس کے بعد جس کا راستہ طویل ہو۔جونماز کا انتظارکرےیہاں تک کہ باجماعت نماز اداکرےتو وہ ثواب میں ا س سے زیادہ ہےجو تنہانماز پڑھ کر سوجائے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھنے کے لئے جو جتنی دورسے مسجدمیں آئےاسے اتنا ہی زیادہ ثواب ملتاہے کیونکہ جس عملِ خیر میں مشقت زیادہ ہواس میں ثواب بھی زیادہ ہوتاہے۔اسی طرح باجماعت نماز اداکرنے والے کا ثواب اکیلے پڑھنے والے سے زیادہ ہے اور جماعت کے انتظارمیں بیٹھنے پر بھی نماز کا ثواب ملتاہے ۔محلے کی مسجد چھوڑ کر دوسری جگہ جانا ؟مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی جس کا گھر اپنی مسجد سے دور ہو پھر وہ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھا کرے اسے بقدرِ قدم ثواب ملے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ محلے کی مسجد چھوڑکرخواہ مخواہ دورکی مسجدمیں پہنچا کرے۔ہاں اگرمحلے کی مسجد کا امام بدعقیدہ ہے تو اورجگہ جاسکتاہے۔“عمدۃُ القاری میں ہے:”یونہی محلے کی مسجد کا امام قراءت میں غلطی کرتا ہےیا اس کی امامت کو لوگ ناپسند کرتے ہیں تو بھی اور جگہ جاسکتا ہے۔“”باجماعت نماز ادا کرنے والے کا ثواب اس سے زیادہ ہے جو تنہانماز پڑھ کر سوگیا“ اس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:خواہ اکیلے نماز پڑھ کر،خواہ دوسرے امام کے پیچھے جماعت سے پڑھ کر کیونکہ جماعتِ اوّل کا زیادہ ثواب ہے اور جماعتِ اوّل وہی ہے جو امامِ مسجد کے ساتھ پڑھی جائے،ہاں اگر وہ امام وقتِ مکروہ میں نماز پڑھتاہوتو اکیلا ہی پڑھ لے۔نماز کا انتظار:حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرورَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی،نماز کے بعد جانے والے چلے گئے اور جنہیں وہیں بیٹھنا تھا وہ دوسری نماز کا انتظار کرنے لگے۔ پھررسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اورفرمایا:’’تمہیں خوشخبری ہو! تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّنے آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے اورفرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:میرے ان بندوں کودیکھو!جنہوں نے ایک فرض ادا کرلیا اور دوسرے کے انتظار میں ہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’بیتِ خدا‘‘کے6حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کے گھر مسجد سے دور ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کرتے ہیں۔
(2) جو اچھی طرح وضو کرکے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کا دایاں قدم اٹھنےسےپہلے
اﷲعَزَّ وَجَلَّاس کے ‏لیے نیکی لکھتا ہے اور بایاں قدم رکھنےسے پہلے اُس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔
(3) گھر کا مسجد سے دور ہونا غافلوں کے لئے نحوست ہےکہ وہ دوری کی وجہ سے گھر میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں ۔
(4) نماز پڑھنے کے لئے جو جتنی دورسے مسجدمیں آئےاسے اتنا ہی زیادہ ثواب ملتاہے۔
(5) جس عملِ خیر میں مشقت زیادہ ہواس میں ثواب بھی زیادہ ہوتاہے۔
(6) محلے کی مسجد چھوڑکرخواہ مخواہ دورکی مسجدمیں جانے کی اجازت نہیں البتہ اگرمحلے کی مسجد کا امام بدعقیدہ ہے یا اس کی قراءت صحیح نہیں ہے یا لوگ اس کی امامت کو ناپسند کرتے ہیں تو دوسری مسجد میں جاکر نماز پڑھے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں کثرت سے مسجد کی طرف آمدورفت رکھنے اور دور سے بھی مسجد کی طرف آنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1057