Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1059

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلَا اَدُلُّكُمْ عَلٰی مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟قَالُوا:بَلٰی يَارَسُولَ اللهِ؟قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَ كَثْرَةُ الْخُطَااِلَى الْمَسَاجِدِوَانْتِظَارُالصَّلَاةِ بَعْدَالصَّلَاةِ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ.

عن ابي هريرة رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال:الا ادلكم علی ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟قالوا:بلی يارسول الله؟قال:اسباغ الوضو ء على المكاره و كثرة الخطاالى المساجدوانتظارالصلاة بعدالصلاة فذالكم الرباط فذالكم الرباط.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” کیا میں تمہیں ایسے اعمال کے بارے میں نہ بتاؤں جن کے سبباﷲ عَزَّ وَجَلَّخطائیں مٹا تااور درجات بلند فرماتا ہے؟“صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: کیوں نہیںیارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرمایا:”مشقت کے وقت کامل وضو کرنا،مسجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا اورایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، پس یہی رِباط ہے ، یہی رِباط ہے ۔‘‘

شرح حدیث

مسجد کی طرف جانا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے:’’مسجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانا عام ہے۔ چاہے مسجد سے گھر کی دوری کے سبب ہویاپھر چھوٹے چھوٹےقدم چلنےکی وجہ سے ہواورمسجدکی طر ف جاناچاہے نماز کے‏لیے ہو یا پھر دیگر عبادات کے‏لیے(دونوں صورتوں میں یہ فضیلت پائے گا)۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدایک نماز کے بعددوسری نمازکا انتظار:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظارسےمراد یہ ہےکہ باجماعت یابوجہِ مجبوری تنہانمازادا کرنے کےبعد اگلی نماز یا جماعت کا انتظار کیا جائے ، چاہے یہ انتظارمسجد میں ہو ،گھر وبازار میں ہویا کسی اور کام میں مصروف رہتے ہوئے دل مسجد میں لگا رہے اور نماز کی فکر دامن گیر ہو کہ یہی دائمی حضورِ قلبی ہے۔فرشتوں کی طرف سے سلامتی:نبی مکرم ،شہنشاہ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے:’’ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اس شہسوار کی طرح ہےجس نے اپنا گھوڑااﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں باندھا،اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے فرشتے اس پر سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ کلام نہ کرے یا اپنی جگہ سے نہ اُٹھے۔‘‘رِباط سے کیا مراد ہے؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں مشقت کےوقت کامل وضو کرنے، مساجد کی طرف زیادہ قدم اٹھانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کو”رِبَاط“فرمایاگیا ،یہاں”رِبَاط“سے کیامراد ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اسلامی سرحدوں کو اسلام دشمن قوتوں کی دخل اندازی سےمحفوظ رکھنےکے لئے حفاظتی انتظام کرنا،اسلامی سرحدوں پر پہرا دینا،اِس مقصد کےلئے اپنی سواریوں کو چاک وچوبند رکھنا”رِبَاط“کہلاتا ہے۔اِسی طرح شیطانی لشکروں سے حفاظت کے لئے مسجد میں بیٹھنابھی”رِبَا ط“کہلاتا ہےیا پھرحدیث میں مذکور تینوں اَعمال یعنی تنگی وتکلیف میں وضو کرنا،مسجد کی طرف جانے میں تیزی کرنا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنے کے ذریعےشیطانی حملوں سےبچنے کے لئے اپنی خواہشات کومغلوب کردینےکویہاں”رِبَا ط“ کہا گیا ہے۔“نوٹ :مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح کے لیے فیضانِ ریاض الصالحین،جلد2، باب نمبر13، حدیث نمبر131، جلد7،باب نمبر185، حدیث نمبر 1030اور ان کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1059