Main Icon

باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1058

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:بَشِّرُواالْمَشَّائِيْنَ فِي الظُّلَمِ اِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِالتَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عن بريدةرضی اﷲ عنہ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:بشرواالمشائين في الظلم الى المساجد بالنورالتام يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا بُریدہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تاریکی میں مسجد کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری سنا دو۔ “

شرح حدیث

نبی پاکصَلَّی اﷲ ُعَلَیْہِ وَسَلَّماور صحابہ کے ساتھ حشر:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ خطاب عام ہے اور ہوسکتا ہے کہ حقسُبْحَانَہ تَعَالیٰکی طرف سے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حکم ہو تو اس صورت میں یہ حدیثِ قُدسی ہوگی۔حدیثِ پاک میں نور تام سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے:یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗۚ-نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا(پ۲۸،التحریم:۸)ترجمۂ کنز الایمان: جس دناﷲرسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آ گے اور ان کے دہنے عرض کریں گے اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارا نور پورا کردے۔
معلوم ہوا کہ جوباجماعت نماز پڑھنے کے لئے اندھیرے میں مسجد کی طرف جاتاہووہ بروزِقیامت نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ ہو گا۔تاریکی سےمراد:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حدیث پاک میں تاریکی سے مراد عشا اور فجر کی تاریکی ہے اور ایک حدیث پاک میں رات کی تاریکی کی صراحت ہے۔ تاریکی میں مسجد جانے والوں کا نور قیامت کے دن پل صراط پر ہر جانب سے ہوگا اور اعمال کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔علامہ ابنِ رسلانرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:یہ احتمال بھی ہے کہ نور سے مراد یہاں نور کے منبر ہوں ۔چنانچہ طبرانی کی روایت میں ہے:”رات کی تاریکیو ں میں مسجد کی طرف جانے والوں کو نورکے منبروں کی خوشخبری دو، جب لوگ گھبراہٹ میں مبتلا ہو ں گے تو یہ گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔اس حدیث میں مسجد کی طرف جانے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے خواہ مسافت تھوڑی ہو یا زیادہ ۔یونہی رات کی تاریکی میں جماعت کی حاضری کے لئے مسجد جانے کی بھی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔“عَلَّامَہ فَقِیہ اِبنِ مَلِکحنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”اگر کوئی شخص تاریکی میں روشنی لے کر مسجد کی طرف جائے تاکہ اندھیرے کے سبب اسے کوئی آفت نہ پہنچے تو اسے بھی یہ فضیلت حاصل ہوگی ورنہ روشنی میں جانے والے کو یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدرات کی تاریکی میں مسجد جانے والوں کے فضائلقیامت کے دن نور ملنا:شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:”جو رات کے اندھیرے میں مسجد کی طرف جائے گااﷲ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اسے نورعطا فرمائے گا۔رحمتِ الٰہی میں غوطے:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”رات کی تاریکیوں میں مسجد کی طرف آمدورفت رکھنے والےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت میں غوطے لگاتے ہیں۔“جنت میں لے جانے والاعمل:حضرت سیدناامام نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانتاریک رات میں مسجد کی طرف چلنے کو جنت واجب کرنے والاعمل سمجھا کرتے تھے۔مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) باجماعت نماز پڑھنے کے لئے اندھیرے میں مسجد کی طرف جانے والےبروزِقیامت نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ ہو ں گے۔
(2) تاریکی میں مسجد جانے والوں کا نور قیامت کے دن پل صراط پر ہر جانب سے ہوگا۔
(3) رات کی تاریکی میں مسجد جانے والوں کو نور کے منبروں کی خوشخبری دی گئی ہے۔
(4) مسافت تھوڑی ہو یا زیادہ مسجد کی طرف چل کے جانا یا تاریکی میں مسجد جانا دونوں کی بہت فضیلت ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں تاریکی میں بھی مسجد کی طرف چل کے جانے اور باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1058