Main Icon

باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 176

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ ، اَنَّ فَتًی مِنْ اَسْلَمَ قَالَ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ، اِنِّی اُرِیۡدُ الْغَزْ وَ وَلَیْسَ مَعِی مَا اَتَجَہَّزُ بِہٖ، قَالَ: ائْتِ فُلَانًا، فَاِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ، فَمَرِضَ، فَاَتَاہُ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ: اَعْطِنِی الَّذِی تَجَہَّزْتَ بِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ، اَعْطِیہِ الَّذِی تَجَہَّزْتُ بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی مِنْہُ شَیْئًا، فَوَاللہِ لَا تَحْبِسِیْنَ مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارَکَ لَکِ فِیۡہِ. ( )

عن انس رضی اللہ عنہ ، ان فتی من اسلم قال: یا رسول اللہ، انی ارید الغز و ولیس معی ما اتجہز بہ، قال: ائت فلانا، فانہ قد کان تجہز، فمرض، فاتاہ، فقال: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقرئک السلام، ویقول: اعطنی الذی تجہزت بہ، فقال: یا فلانۃ، اعطیہ الذی تجہزت بہ، ولا تحبسی منہ شیئا، فواللہ لا تحبسین منہ شیئا فیبارک لک فیہ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ قبیلہ َ اسلم کے ایک نوجوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں جہادکرنے کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا۔ ‘‘ وہ نوجوان اس شخص کے پاس آیا اور کہا کہ ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے آ پ کو سلام ارشاد فرمایا ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ مجھے وہ سامان دے دیں جو آپ نےجہاد کے ‏لیے تیار کیا ہے۔ ‘‘ اس شخص نےاپنی زوجہ سے کہا: ’’ اے فلانی !اس کو وہ سامان دے دو جو میں نے جہاد کے لیے تیارکیا ہے اور اس میں سے کوئی چیز مت رکھنا،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اگر تم نے اس میں سے کوئی چیز بھی نہ رکھی تو اس میں تیرے‏لیے برکت ہوگی۔ ‘‘

شرح حدیث

قبیلہ اسلم کا مختصر تعارف:عَلَّامَہْ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ اسلم، قبیلے کےبڑےکانام ہے۔نسب کچھ اس طرح ہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارِثہ بن عَمرو بن عامربن عُوَیْمِربن عمر۔برقی نےیہ نسب اسی طرح بیان کیاہےاورخلیفہ بن خیاط نےیوں بیان کیاہے:اسلم بن اَفْصٰی بن حارثہ بن اِمرؤُالقیس بن ثعلبہ بن المازن بن الازد بن الغوث۔اس قبیلے میں کثیرصحابہ اورتابعین پیدا ہوئے ہیں اور اس کے بعدوالےطبقےمیں کئی علماءاورراوِیانِ حدیث اس قبیلے میں پیداہوئےہیں ۔ ( )صحابۂ کرام کی حکم کی تعمیل میں جلدی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل میں جلدی کیا کرتے تھے۔ کیونکہ جیسے ہی وہ صحابی وہاں پہنچے اور اپنا مدعا بیان کیا تو دوسرے صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فوراً اپنی زوجہ کو وہ سامان دینے کے لیے کہا۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس شخص نےنبی پاکصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےحکم کی تعمیل میں جلدی کرتےہوئے اپنی زوجہ سے کہا کہ اس شخص کوسواری، زادِراہ اورجوسامان میں نےتیارکیاتھااورمسافرکوجس چیزکی حاجت ہوتی ہےوہ تمام اشیاء دےدواوراس سامان میں سے کوئی چیزبھی اپنے پاس نہ روکنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگرتونےاس میں سےکچھ بھی نہ روکاتواللہ عَزَّ وَجَلَّتجھےاس میں برکت عطا فرمائے گااور (اگرتونےاس میں سے کوئی چیز بھی اپنے پاس رکھی تو اس میں برکت نہ ہوگی) کیونکہ اِس صورت میں یہ مالک کی رضامندی اور خواہش کےبغیر تصرف کرنا ہےکیونکہ اُس نےتو وہ تمام چیزیں اس شخص کودینے کا حکم دیا ہےجسے سرکارصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے بھیجا ہےپس جب تم نےاس کےحکم کی مخالفت کی اوراس شخص کے‏لیےان اشیاکوزیادہ گمان کرتےہوئےان میں سےبعض چیزوں کواس سے روک لیاتو تمہارے ‏لیے اس میں برکت نہ ہوگی۔ ‘‘ ( )نیکی کی طرف رہنمائی اور باب سے مناسبت:اِس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس شخص کی بھلائی کی طرف رہنمائی فرمائی جوجہادمیں شریک ہونےکاخواہش مندتھالیکن سازوسامان نہ ہونےکی وجہ سےجہادمیں جانے سے قاصرتھاایک ایسے شخص کی طرف جس نےجہادمیں جانےکی تیاری کی تھی مگربیماری کےباعث جہادمیں شریک ہونے سے قاصر ہوگیا تھا۔اس حدیث پاک کی اس باب سےیہی مناسبت ہےکہ اس میں بھلائی کی طرف رہنمائی کاذکرہے۔ ( )کوئی نیک کام مُتَعَذَّرہوجائے تو۔۔۔!عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں بھلائی پر رہنمائی کرنے کی فضلیت کو بیان کیاگیا ہےاور اس بات کو بھی بیان کیاگیاہےکہ انسان جب اپنےمال کوکسی نیک کام میں خرچ کرنے کی نیت کرلےاورپھرکسی عذرکی بناپروہ نیکی اس کے ‏لیےمُتَعَذَّر (بہت مشکل) ہو جائے تو اس شخص کے لیے مستحب ہے کہ اپنےمال کوکسی دوسرےنیک کام میں خرچ کر دے بشرطیکہ اس نےاس نیکی کی نذرنہ مانی ہوجواس کے‏لیےمُتَعَذَّرہوگئی۔ ( ) (اگراس نےاس نیک کام کی نذر مان رکھی ہےتوعذرختم ہونےکاانتظار کرےاورمانع ختم ہوتےہی اپنی نذرکوپوراکرے، وہ مال کسی دوسرے نیک کام میں خرچ نہ کرے۔)نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والوں کے چمکتے چہرے:حضرت سَیِّدُنَا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ بھلائی کے کاموں میں لوگوں کی سربراہی کرنے والے کوقیامت کے دن بلاکرکہا جائے گا: ’’ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکواپنے اعمال کے بارے میں جواب دو۔ ‘‘ پھراسے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا،اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے بلا حجاب ملاقات فرمائے گااور اسے جنت کا مژدہ سنا یا جائے گا، پھروہ اپنا اور نیکی کے کاموں میں ساتھ دینے والوں اور اس پر مُعَاوَنَت کرنے والوں کا مقام ومرتبہ دیکھے گا، اسے کہا جائے گا: ’’ یہ فلاں کا ٹھکانا ہے اور یہ فلاں کا ٹھکاناہے۔ ‘‘ پھر وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ان کے لیے تیار کردہ اِنعام و اِکرام دیکھےگااوراپنا مقام سب رُفقاءسے افضل پائے گا، پھراسے جنتی لباس پہنایا جائے گا، اس کی تاج پوشی کی جائے گی، اس کاچہرہ چاند کی طرح چمکنے لگے گا۔ اسے دیکھنے والی ہر جماعت کہے گی: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!اِسے ہم میں شامل فرمادے۔ ‘‘ وہ آگے بڑھتا رہے گا حتی کہ نیکی کے کاموں میں مُعَاوَنَت کرنے والے ساتھیوں سے آکر کہےگا: ’’ اےفلاں !تمہیں مبارک ہو!اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہارے‏لیے جنت میں یہ یہ انعامات تیار کررکھے ہیں ۔ ‘‘ وہ انہیں ربّتعالٰیکے ان کے لیے جنت میں تیار کیے گئے انعام واکرام کی خبریں دےرہا ہوگا توان کے چہرے بھی اس کی طرح نور سے چمکنے لگیں گے۔اہل محشر ان کےچہروں کی نورانیت دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے۔ ( )مدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل میں بہت جلدی کیا کرتے تھے۔
(2) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننیکیوں کے حریص ہوا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس اگرچہ جہاد کے اسباب نہ تھے مگر بارگاہ ِرسالت میں اپنی نیت پیش کردی۔
(3) جس طرح نیکیاں کرنا حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے اسی طرح نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنا بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت مبارکہ ہے۔
(4) کسی شخص نے امر خیر کی تیاری کی مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکا تو اسے چاہیے کہ اس نیکی کی طرف کسی کی رہنمائی کردے، اس کی معاونت کردے تو
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اس نیکی کرنے والے کی طرح ثواب ملے گا۔
(5) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والوں اور نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے لیے
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آخرت میں نہایت ہی عظیم الشان انعامات تیار کررکھے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیاں پھیلانے، نیکیوں کی ترغیب دینے، نیکیوں کی طرف رہنمائی کرنے ، برائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں گناہوں سے سچی پکی توبہ نصیب فرمائے، ہماری تمام جائز حاجات کو پورا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 176