Main Icon

باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 175

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الْعَبَّاسِ سَہۡلِ بۡنِ سَعْدٍالسَّاعِدِیِّ، رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ اَنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ:لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًارَجُلًا یَفْتَحُ اللہُ عَلَی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوۡلَہُ وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوۡلُہُ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوۡکُوۡنَ لَیْلَتَہُمْ اَ یُّہُمْ یُعْطَاہَا، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُوۡلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کُلُّہُمْ یَرْجُوۡ ا اَنْ یُّعْطَاہَا، فَقَالَ اَ یْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ؟ فَقِیۡلَ:یَا رَسُوۡلَ اللہِ ھُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ، قَالَ فَاَرْسِلُوۡا اِلَیْہِ، فَاُ تِیَ بِہِ، فَبَصَقَ رَسُوۡلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، وَدَعَا لَہُ فَبَرَاَ، حَتَّی کَاَنْ لَّمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَاَعْطَاہُ الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنۡہُ: یَا رَسُوۡلَ اللہِ اُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَکُوۡنُوۡا مِثْلَنَا؟ فَقَالَ:انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ، حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ، وَاَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللہِ تَعَالٰی فِیۡہِ، فَوَاللہِ لَاَنْ یَّہْدِیَ اللہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ . ( )

عن ابی العباس سہل بن سعدالساعدی، رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال یوم خیبر:لاعطین الرایۃ غدارجلا یفتح اللہ علی یدیہ، یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللہ ورسولہ فبات الناس یدوکون لیلتہم ا یہم یعطاہا، فلما اصبح الناس غدوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کلہم یرجو ا ان یعطاہا، فقال ا ین علی بن ابی طالب؟ فقیل:یا رسول اللہ ھو یشتکی عینیہ، قال فارسلوا الیہ، فا تی بہ، فبصق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی عینیہ، ودعا لہ فبرا، حتی کان لم یکن بہ وجع، فاعطاہ الرایۃ، فقال علی رضی اللہ عنہ: یا رسول اللہ اقاتلہم حتی یکونوا مثلنا؟ فقال:انفذ علی رسلک، حتی تنزل بساحتہم، ثم ادعہم الی الاسلام، واخبرہم بما یجب علیہم من حق اللہ تعالی فیہ، فواللہ لان یہدی اللہ بک رجلا واحدا خیر لک من حمر النعم . ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے غزوۂ خیبر کے دن ارشادفرمایا: ’’ کل میں یہ جھنڈا اُس شخص کودوں گا جس کے ہاتھ پراللہ عَزَّوَجَلَّخیبر فتح فرمائےگا۔ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمبھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانساری را ت یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں صبح آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس کو جھنڈا عطا فرماتے ہیں ۔جب صبح ہوئی تو تمام لوگ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوگئے، ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ کاش یہ جھنڈااُسے دیاجائے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاستفسارفرمایا: ’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا: ’’ انہیں بلاؤ۔ ‘‘
چنانچہ سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکولایا گیاتو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی آنکھوں میں اپنا لُعاب مبارک لگایا اور دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں اس طرح ٹھیک ہوگئیں گویا کبھی دردتھاہی نہیں ۔پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو جھنڈا عنایت فرمایا۔سَیِّدُنَا مولاعلی شیرخدارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیامیں کفارسے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل ( مسلمان ) نہ ہوجائیں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم اُن کے میدان میں اُتر جاؤ ، پھراُنہیں اسلام کی دعوت دواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں انہیں آگاہ کرو، خدا کی قسم! اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے‏لیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول سے محبت:حدیث پاک میں ہے: ’’ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمبھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی وہ دو وَصفوں کا جامع ہے اور دو متلازم شرفوں کو پانے والا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّان سے محبت فرماتا ہے اوروہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتے ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّان سے راضی ہے اور وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی ہیں ۔بندے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت یہ ہےکہ وہ اسے اپنی رضاکے کاموں کی توفیق دےاور اس پر ثابت قدمی عطافرمائےاور بندے کیاللہ عَزَّ وَجَلَّورسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت یہ ہے کہ وہ ان کے حکم پر عمل پیرا ہواور جن چیزوں سے انہوں نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے۔ ‘‘ ( )جنگ خیبرکاپس منظروفتح خیبر:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں فرماتے ہیں کہ یہ سات ( 7) ہجری کے ابتدا کا واقعہ ہے۔سَیِّدُنَا موسیٰ بن عُقبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبیان فرمایاکہ جبرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں تقریباً 20روزقیام فرمایا، پھر خیبر کی طرف خروج فرمایا جس کی فتح کااللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ سےوعدہ فرمایا تھا۔سَیِّدُنَاعَمروبن اکوعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو خیبر کےایک قلعے کی طرف بھیجا انہوں نے جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی اور وہ لوٹ آئے، پھر اگلے دن حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھیجاانہوں نے بھی جنگ کی لیکن فتح نہ ہوئی تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کودوں گا جس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّممحبت کرتے ہیں اور وہ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے رسو لصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے، اس کے ہاتھ پراللہ عَزَّ وَجَلَّقَلعۂ خیبر فتح فرمائےگااور وہ خالی ہاتھ واپس نہ آئے گا۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَا سَلْمَہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان فرماتے ہیں کہ پھر آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی بن ابی طالبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوبلایااور اُس دن اُن کو آشوبِ چشم تھاتو نبی پاکصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اُن کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا پھر فرمایا: ’’ یہ جھنڈالواور خیبر کی طرف روانہ ہوجاؤ،اللہ عَزَّوَجَلَّتمہارے ہاتھوں پر فتح عطافرمائے گا۔ ‘‘ حکم ملتے ہی سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتیزی سے روانہ ہوئے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تھاحتی کہ آپ نےقلعہ کے نیچے پتھروں میں جھنڈاگاڑدیا۔ایک یہودی نےقلعے کے اوپر سے دیکھاتو پوچھا: ’’ تم کون ہو؟ ‘‘ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میں علی بن ابی طالب ہوں ۔ ‘‘ یہودی نےکہا: ’’ اس کتاب کی قسم جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامپر نازل فرمائی ہے! تم غالب آجاؤگے۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماسی وقت واپس تشریف لائے جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح فرمادیا۔ ( )نبوت کی دو2علامتیں :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اِکْمَالُ الْمُعْلِمْمیں فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت کی علامتوں میں سے دوعلامتوں کا بیان ہے:قولی وفعلی: (1) قولی تو یہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس بات کی غیبی خبر دی کہاللہ عَزَّوَجَلَّحضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ہاتھ پر خیبر فتح فرمائے گا اور پھر بفضل الٰہی ایسا ہی ہوا۔ (2) فعلی یہ کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیرخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی دُکھتی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا اور ان کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہوگئیں ۔ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدسُرخ اُونٹوں کی مثال دینےکامقصد:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیشرح مسلم میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سُرخ اُونٹ عربوں کے نزدیک انتہائی قیمتی اور پسندیدہ مال شمار کیا جاتا تھا، عرب لوگ اس کونفیس (قیمتی) چیزکی مثال دینے کے ‏لیے بطورِمُحاورہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں پرآخرت کے اُمورکودنیاکی چیزسے تشبیہ دینا فقط بات سمجھانے کے‏لیےہےورنہ حقیقۃً دونوں میں کوئی برابری نہیں کیونکہ باقی رہنے والی آخر ت کاایک ذرہ بھیدُنْیَاوَمَافِیْھَاسے بہترہے۔ ‘‘ ( )شیر خدا کی طاقت وجُرأت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس حدیث پاک کےتحت لکھتےہیں کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غلام حضرت سَیِّدُنَا ابو رافعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جس دن حضورسَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃُ الِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو جھنڈےکےساتھ بھیجا اس دن میں بھی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ہی تھا، جب ہم قلعے کے قریب پہنچےتو یہود خیبر کےقلعے سے نکل آئے، سخت جنگ ہوئی، ایک یہودی نے آپ کے ایک ہاتھ پر کوئی چیز ماری جس سے ڈھال گر گئی آپ نے قلعے کا دروازہ اٹھالیااور اُسے ڈھال کی طرح استعمال فرمایا ، خیبر فتح فرمانے کے بعد اُسے سات آدمیوں نے اُٹھانا چاہا میں اُن میں آٹھواں تھا مگر بہت کوشش کے باوجودوہ ہل نہ سکا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے اس دروازے کو چالیس آدمیوں نے اٹھانا چاہا مگر نہ اٹھا سکے۔بعض روایات میں ہے کہ اس دروازے کو ستر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی نہ اٹھا سکے۔ ( )حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لُعاب دہن کی برکتیں :امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’ جب سے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا لُعاب دَہَن میری آنکھوں میں لگا تب سے میری آنکھیں کبھی نہ دُکھیں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن یعلیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسردیوں کے کپڑے گرمیوں میں اور گرمیوں کے کپڑے سردیوں میں پہنتے تھے۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا : ’’ جب حضورِ اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتح خیبر کے موقع پر میری آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ دَہَن لگایا تو ساتھ میں یہ دعا بھی دی: یااللہ عَزَّ وَجَلَّعلی سے ٹھنڈک اور گرمی دُور کردے۔بس اُس دن سے مجھے نہ سردی لگتی ہے نہ گرمی۔‘‘ ( )سَیِّدُنَاعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاجذبۂ جہاد:نزہۃ القاری میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی آنکھوں میں تکلیف تھی اس ‏لیے آپ غزوۂ خیبر میں اسلامی لشکر کے ساتھ تشریف نہیں لائے تھے بلکہ مدینہ طیبہ ہی رہ گئےتھے۔مگر بعد میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں ایسا اِضطراب پیدا ہواکہ آشوبِ چشم کے باوجود خیبر آگئے۔بعدازاں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو جھنڈا عطا فرمایا، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ دہن لگایا، آپ کو روانہ فرمایا اور آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قلعۂ خیبر فتح فرمایا۔ ( )حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکاعلم غیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پارہ۲۱سورہ لقمان کی آخری آیت میں ارشاد ہوتاہے:اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ (۳۴)(پ۲۱، لقمان:۳۴)ترجمۂ کنزالایمان: بیشکاللہکے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بیشکاللہجاننے والا بتانے والا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں کل کے کسب یعنی کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کرے گی؟ کا بھی ذکر ہے۔ حالانکہ مذکور بالا حدیث پاک میں صراحتاً حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو بتادیا کہ کل قلعۂ خیبر کیسے فتح ہوگا؟ آیت مبارکہ اور حدیث پاک دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ آیت مبارکہ میں جو یہ فرمایا گیا کہ پانچوں علوماللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ہیں اس سے مراد ذاتی علم ہے کہ بذاتِ خود ان پانچ علوم کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی نہیں جانتا، ہاں اگراللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کو ان پانچوں علوم کی خبر دے دے تو اس کے بتائے سے ، اس کی عطا سےوہ بھی ان کو جانتا ہے۔ چنانچہ تفہیم البخاری میں ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتاہےکہ قرآنِ کریم میں سورۂ لقمان کی آخری آیت میں جو مذکورہےکہ پانچ اشیاء کااللہکے سواکسی کو علم نہیں ، وہ ذاتی علم پر محمول ہے کہ بذات خود ان کواللہکے سواکوئی نہیں جانتا کیونکہ ان پانچ میں کل کے کسب کا بھی علم ہے کہ اس کو خداہی جانتاہےحالانکہ سیدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سارے صحابہ کو ببانگ دہل فرمایا:میں کل ایک شخص کو جھنڈادوں گااوروہ خیبر فتح کرےگا۔چنانچہ ایساہی ہوا۔لیکن یہ خبراللہ تَعَالٰیکے علم عطاکرنے سےتھی۔ تو آیت کا معنی یہ ہواکہاللہکے بتائے بغیران پانچوں کو کوئی نہیں جانتاہے۔اس معنیٰ کی طرف آیت کے آخری لفظ میں اشارہ ہے کہ:(اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ (۳۴)) (پ۲۱، لقمٰن:۳۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشکاللہجاننے والا بتانے والا ہے۔ ‘‘ ملاجیونرَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰینے تفسیر اتِ احمدیہ میں اس کا معنیٰ یہ بیان کیا کہ ’’اللہ تَعَالٰیجاننے والااور خبر دینے والاہے۔یعنیاللہان پانچوں کو جانتا ہے اور اپنے خاص بندوں کو بھی خبر دارکرتاہے۔ ‘‘ ( )
¥
جنگ سے پہلےدعوت اسلام دینےکی شرعی حیثیت:فیوض الباری میں ہے: ’’ اس حدیث سے واضح ہواکہ اسلام کا مقصد صرف یہ نہیں کہ کفار اور مشرکین کو قتل کردیاجائےبلکہ ان کی بھلائی اور آخرت میں کامیابی کے‏لیے ان کی ہدایت مقصود ہے۔ اسی ‏لیےنبیعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے ‏لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔جمہورفقہائے اسلام کا مذہب یہ ہے کہ کفار سے جہاد کرنے سے پہلے انہیں دعوت اسلام دینا واجب ہے اور اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دی جاچکی ہے تو جنگ سے پہلے دوبارہ دعوتِ اسلام دینا مستحب ہے۔سَیِّدُنَا امام مالک کا صحیح مذہب اور امام شافعی کا قول جدیداور سَیِّدُنَا امام ابوحنیفہ، امام اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ملک العلماء علامہ کاشانیعَلَیْہِ الرَّحْمَہنے لکھا ہے کہ اگر کفار کو پہلے دعوتِ اسلام نہ پہنچی ہو تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ زبانی اُنہیں دعوتِ اسلام دیں ۔سورۂ نحل کی آیت 125میںاللہ تَعَالٰینے فرمایا ہے:اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-(پ۱۴، النحل :۱۲۵)ترجمہ: حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دیجئے اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو کہ جو سب سے بہتر ہو۔
اگر اُن کے کچھ شکوک وشبہات ہوں تواُن کو دُور کردوتاکہ حجت تمام ہوجائےنیز جہاد کا مقصد کفار کو قتل کرنانہیں ہے بلکہ جہاددعوتِ اسلام کی بنا پر فرض ہے۔اگر تبلیغ سے وہ اسلام کو قبول کرلیں تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟ زیر بحث حدیث میں حضورکا یہ ارشاد کہ: اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت ہوجائے وہ تمہارے ‏لیے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔اسی امر کا آئینہ دار ہے۔ ‘‘ ( )
حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکالُعَاب دَہن:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کےمختلف اجزاء کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
٭… ’’ تقدیر الٰہی یہ ہے کہ حضرت علی (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) فاتح خیبر ہوں اور اس فتح کا سہرا اُن کے سر رہے ورنہ اور صحابی بھی فتح کرسکتے تھے۔جس پر حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہاتھ رکھ دیتے وہ ہی فتح کرلیتا، اِنہیں صحابہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) نے یرموک اور قادسیہ جیسی جنگیں فتح فرمائی ہیں ۔
٭… (
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسو لصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے محبت کرتے ہیں ۔) یعنیاللہرسول اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہونا پسند کرتے ہیں۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتواللہرسول کو پیارے ہیں باقی تمام صحابہ اورحضرت فاطمۃ الزہرا، حسنین کریمین (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) خدا کو پیارے نہیں ، خداتعالٰیان سب سے ناراض ہےنَعُوْذُ بِاللّٰه۔
٭… (صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے وہ را ت اس غوروخوض میں گزاری کہ جھنڈا کس کو عطا کیا جائے گا۔) یعنی تمام صحابہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) نے رات بھر صبح کا انتظار کیا کہ دیکھیں کس کی قسمت چمکتی ہے، صبح کو تمام صحابہ اِسی امید میں حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے سامنے پیش ہوگئے مگر یہ سعادت تو حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے نصیب میں تھی، چونکہ اس سعادت کے ملنے کی تمنا کرنا، اس کا رات بھر انتظار کرنا بھی عبادت تھا اس لیے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے صراحۃً حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کا نام نہیں لیا تاکہ سب لوگ انتظار اور تمنا کرکے ثواب پائیں ۔
٭… (آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ ) حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اس لیے وہ فجر کی نماز میں حاضر نہ ہوسکے، اپنے خیمے میں رہے، حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے بطورِ تعجب پوچھا کہ اِس مبارک موقعے پر علی کیوں نہیں ، یہ نہیں ہوا تھا کہ حضرت علی (اس وقت) مدینہ منورہ میں تھے، حضور نے پکارا: اے علی! میری مدد کو پہنچو، میرا ساتھ صحابہ نے چھوڑ دیا، آپ مدینہ سے اُڑ کر خیبر پہنچے۔نَعُوْذُ بِاللّٰه! یہ سب روافض کا بہتان ہے۔
٭… (حضرتِ سَیِّدُناعلی
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکولایا گیا۔) یعنی آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ دوسرے صحابہ آپ کو پکڑ کر حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تک لائے ، حضور نے آنکھوں کی تکلیف دیکھ کر لعابِ دہن لگایا، یہ ہےلعابِ رسول کا معجزہ۔حضرت علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کی آنکھ کا سرمہ ہے، حضرتعبداللہابن عتیک کی ٹوٹی ہڈی کا سریش ہے، کھاری کنویں میں پڑے میٹھا کردے ، خشک کنویں میں پڑے اس میں پانی پیدا کردے غرضیکہ معجزات کا مجموعہ ہے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس کے بعد آپ کی آنکھوں میں کبھی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔خیال رہے کہ حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو یہ خبر تھی کہ خلافت حیدری میں اسلامی فتوحات نہ ہوں گی، خانہ جنگی رہے گی، اس لیے فتح خیبر کے لیے آپ کو چنا گیا تاکہ تاقیامت خیبر کا ہر ذرہ آپ کی شجاعت کے خطبے پڑھے۔عتَعَالَی اللہتری شوکت تری صولت کا کیا کہنا
کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرہ
٭… (حضرت علی
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیا میں ان سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری مثل ( مسلمان) نہ ہوجائیں ؟ ) یعنی کیا میں اہلِ خیبر کو جبرًا مسلمان بناؤں کہ وہ یا تومسلمان ہوجائیں یا قتل کردیئے جائیں ، خیبر کے عام باشندے یہودی تھے۔
٭…
(حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: نرمی سے جاؤ یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اُتر جاؤ تو پھرانہیں اسلام کی دعوت دواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کے بارے میں اُنہیں خبردو، خدا کی قسم! اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری وجہ سے کسی ایک کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے‏لیے سُرخ اُونٹوں سے بہتر ہے۔) یعنی ان پر ایک دم حملہ مت کرو، بلکہ پہلے انہیں مسلمان ہوجانے کی رغبت دو، اسلام پر مجبور نہ کرو۔ایک کافر کو مسلمان بنانا دنیا کی بڑی دولت سے بھی بہتر ہے بلکہ کافر کو قتل کرنے سے بہتر ہے کہ اسے رغبت دے کر مسلمان کرلیا جاوے کہ اس سے اس کی ساری نسل مسلمان ہوگی۔ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ شانِ
عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی‘‘ کے13حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے13مدنی پھول
(1)
حضور نبی کریم، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، علومِ خمسہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
(2) قرآن واحادیث میں جہاں بھی مخلوق سے علم غیب کی نفی ہے یا ذات باری تعالی کے لیے اثبات ہے وہاں ذاتی علم غیب مراد ہے کہ بالذات
اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کو غیب کا علم ہے ، ذاتی طور پر کوئی بھی مخلوق علم غیب نہیں رکھتی اور جہاں مخلوق کے لیے علم غیب کا اثبات ہے وہاں عطائی علم غیب مراد ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اس کی مخلوق، اس کے بندے، انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی غیب جانتے ہیں۔
(3) بندے کی اپنے ربّ
عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت لازم وملزوم ہے کہ جب بندہ اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اس سے محبت فرماتے ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا غیب کی خبر دینا اور اپنے مبارک لعابِ دہن سے مولاعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں کو ٹھیک کردینا دونوں نبوت کی علامتیں ہیں ۔
(5) سُرخ اونٹوں کی مثال عرب لوگ بطورِ تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک یہ قیمتی مال ہے۔
(6) قرآن وسنت میں جہاں بھی اُخروی اُمور کو دُنیوی اُمور سے تشبیہ دی جاتی ہے وہاں سمجھانا مقصود ہوتا ہے نہ کہ اِن اُمور کی حقیقت مراد ہوتی ہے۔
(7) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا جذبۂ جہاد صدکروڑ مرحباکہ شدیدمرض کی حالت میں بھی جہادفی سبیل اللہمیں شرکت کے لیے حاضر ہوجایا کرتے تھے۔
(8) کسی دینی معاملے میں سوتے ہوئے بھی سوچ بچار کرنا عبادت ہےجیسا کہ صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانساری رات یہی سوچتے رہے کہ پتا نہیں وہ خوش نصیب کون ہوگا؟ جسے کل صبحرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجھنڈا عطا فرمائیں گے۔
(9) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبہت ہی عظمت وشان والے ہیں کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتح خیبر کے لیے آپ کا انتخاب فرمایا، نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو ایسی طاقت عطا فرمائی ہے کہ جس دروازے کو آپ نے اکیلے اکھاڑ لیا اسے ستر70آدمی بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔
(10) مولاعلی شیر خدا
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک لعابِ دہن سے 2دائمی برکتیں حاصل ہوئیں کہ ایک تو آپ کی آنکھیں دوبارہ کبھی نہ دُکھیں اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سردی گرمی کا احساس نہ ہوتاتھا۔
(11) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مبارک لعاب دہن پاکیزہ اور بیماریوں سے نجات دینے والا ہے۔
(12) جنگ کرنے سے قبل کفار کو دعوت اسلام دینا واجب ہے، اگر پہلے دے چکے ہیں تو اب دعوت دینا مستحب ہے، کیونکہ جہاد کا مقصود اسلام کی دعوت کو عام کرنا ہے۔
(13) اسلام دہشت گردی، بدامنی وجنگ وجدال پر نہیں اُبھارتا بلکہ اسلام تو امن وآشتی اور بھائی چارے کا درس دیتاہے، جبھی تو آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو جنگ سے قبل نرمی سے بات کرنے اور اسلام کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکےنقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی دینی امور میں ان جیسا عظیم جذبہ عطا فرمائے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے فیضان سے ہمیں بھی مالا مال فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 175