Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 106

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ اَلْاََسْلَمِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاٰتِیْہِ بِوَضُوْئِہِ وَحَاجَتِہِ فَقَالَ: سَلْنِیْ، فَقُلْتُ: اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِیْ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ:اَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ: فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ. ( )

عن ابی فراس ربیعۃ بن کعب الاسلمی خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومن اھل الصفۃ رضی اللہ عنہ قال:کنت ابیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاتیہ بوضوئہ وحاجتہ فقال: سلنی، فقلت: اسالک مرافقتک فی الجنۃ، فقال:او غیر ذلک؟ قلت ہو ذاک قال: فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو فِرَاس رَبیعہ بن کَعْب اَسْلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خادِم اور اہل صُفَّہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ میں رات کو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو اور دیگر حاجات کے لیے پانی لایا کرتا تھا، ایک دن آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کے جودوکرم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور آپ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ (اے ربیعہ!) مانگ کیا مانگتا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جنت میں آپکا ساتھ مانگتا ہوں ۔“آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اس کے علاوہ اور کچھ؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ بس یہی۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔ ‘‘

شرح حدیث

سَیِّدُنَا ربیعہ بن کعب کامختصرتعارف:آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کنیت ابوفراس ہے، اسلمی ہیں ، اصحاب صفّہ میں سے تھے، قدیم الاسلام صحابی ہیں ، حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سفر وحضر کے خاص خادم ہیں ، سن ۶۳ ہجری میں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاوصال ہوا۔ ( )
¥
رسول اللہکی کرم نوازی کی وجوہات:مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا : ’’ مانگو! کیا مانگتے ہو؟ “شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ،عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا:”مانگوکیا مانگتے ہو؟ یعنی مجھ سے اپنی حاجت بیان کرو۔ ‘‘
علامہ ابن حجر ہیتمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”یعنی تم نے جو میری خدمت کی ہے اُس خدمت کے صلے میں ، میں تمہیں تحفہ دوں ۔ کیونکہ کریموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ جو اُن کی خدمت کرتا ہے اُسے اِنعامات سے نوازتے ہیں اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ کریم کوئی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
رسول اللہکے اِختیارات کی وُسعت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا صراحتاً بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مطلقاً فرمایا کہ ”مانگو جو مانگنا ہے۔“اس سے معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو زمین وآسمان ودنیا وآخرت کے تمام خزانوں پر ایسا اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ جسے چاہیں جو چاہیں عطا فرمادیں اسی وجہ سے ہمارے ائمہ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں اس بات کو شمار فرمایا ہےکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس بات کا اختیار ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی حکم کے ساتھ چاہیں تو خاص فرمادیں ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا خزیمۃ بن ثابترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی گواہی کو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوشخصوں کی گواہی کے برابر فرمایا۔حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو ایک خاص خاندان کے لیے نوحے کی اجازت عطا فرمائی۔علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شارِعیعنی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعام حکم سے جس کو چاہیں خاص فرمادیں ۔ جیسے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابوبُردہ بن نیاررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاور اُن کے علاوہ بعض صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے لیے چھ ماہ کے بکرے کی قربانی کو جائز فرمایا۔ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصیات میں اس بات کو بھی ذکر کیا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جنت کی زمین کا مالک کردیا ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں ۔ ‘‘ ( )فضل و کرم وکمال کے دریا:لمعات التنقیح میں ہے:آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مطلقاً فرمانا کہ ”مجھ سےمانگو۔“اس سے معلوم ہوتاہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے خزانوں میں سے ہر اس چیز کے عطاکرنے کا اختیار دیا ہے جوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعطا کرنا چاہیں اور یہ بھی اختیار دیا کہ آپ مانگنے والوں میں سے جس کو چاہیں جس چیز کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں ، کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفضل و کرم اور کمال کے ایسے دریا ہیں جس کا کوئی ساحل نہیں ہے۔ ‘‘ ( )
¥
تمام کامرسول اللہکے دست اقدس میں :شیخ عبد الحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مطلقاً فرمایا: ”مانگو“اور کسی مطلوبِ خاص کی قید نہ لگائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کامرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دستِ ہمت و کرامت میں ہیں جو کچھ چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں اپنے پروردگار کے اِذْن سے عطا فرماتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں
¥
مُرَافَقَت سے مراد قریبی مَرتبہ ہے:مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جنت میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت کا سوال کیاتو کیا حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جنت میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برابری کا درجہ مانگا تھا ؟ چنانچہ اس کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مقام تو مقامِ وسیلہ ہے جو کہ صرف آپ کے ساتھ خاص ہے وہاں تو کوئی نبی بھی نہیں پہنچ سکتے چہ جائیکہ کوئی دوسرا وہاں پہنچے؟ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی مراد یہ تھی کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریبی مراتب میں سے کوئی ایک مرتبہ مل جائے۔انہوں نے اس مرتبے کو مُرَافَقَت سے تعبیر فرمایا۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمرافقت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں ، جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
حضور کے مُسَاوِی کسی کا مقام نہ ہوگا:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَّادفرماتے ہیں کہ جب حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جنت میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا:”اس کے علاوہ اور کچھ مانگ۔“ تو حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی کہ ’’ بس یہی چاہیے۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے میری مدد کرو۔“ تاکہ کثرت سجود سے میرے قُرب اور تمہارے درجات کی بلندی میں اضافہ ہویہاں تک کہ تم جنت میں میرے درجے کے قریب آجاؤ لیکن وہ میرے درجے کے مُسَاوی نہ ہوگا۔ بے شک سجدہ قُرب حاصل کرنے اور دَرَجات کی بلندی کا ذریعہ ہے۔فرمان باری تعالی ہے: (وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ (۱۹)) (پ۳۰، العلق:۱۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ۔ ‘‘اور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے: ”بندہ جب سجدہ کرتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا ایک درجہ بلندفرما دیتاہے۔“ ( )
¥
قُربِ خدا اور قُربِ حبیب خدالازم ومَلْزوم:حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ ’’ اگر تم جنت میں میری رَفاقت چاہتے ہو تو پھر کثرت سجود کے ذریعے میری مدد کرو اور نفسانی خواہشات کی مخالفت کرو۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ شرط کیوں بیان فرمائی؟ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کی بہت پیاری توجیہ بیان فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ’’ اے غورو فکر کرنے والے! اس شرط پر غور کر، ان دونوں باتوں (حضور کی رفاقت اور کثرت سجود) کو باہم مربو ط کرنے سے تُو ایک دقیق راز سے آگاہ ہوگا، وہ یہ کہ اگر کوئی شخصرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت چاہتا ہے تو وہ اس رفاقت کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے قُرب (کثرت سجود) کے بغیر حاصل نہیں کرسکتااور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب پانا چاہتا ہے وہ اس کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قُرب کے بغیر نہیں پا سکتا کیونکہ خوداللہ عَزَّوَجَلَّاپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ۳، آل عمران:۳۱)ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماللہکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ۔اللہتمہیں دوست رکھے گا۔
پس
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اتباع کو دو محبتوں (بندے کی ربّعَزَّ وَجَلَّسے محبت اور ربّعَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت) کے درمیان رکھ دیا ہے وہ اس طرح کہ بندے کی ربّعَزَّوَجَلَّسے محبت حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِتباع سے مشروط ہے اور ربعَزَّوَجَلَّکی بندے سے محبت بھی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی پر موقوف ہے۔ ‘‘ ( )
¥
جنتی رفاقت کا سبب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ربیعہ اسلمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ فرمایا کہ ’’ سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔ ‘‘ یہ نہ فرمایا کہ ’’ سجدوں کی کثرت کرو تمہیں جنت میں میری رفاقت مل جائے گی۔ ‘‘ معلوم ہوا جنتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اوررسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نظر عنایت سے ہی ملے گی البتہ نیک اعمال اور کثرت سجود وغیرہ اس میں مُعاون ہیں ۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی جنت میں تمہیں اعلیٰ مقام پرپہنچانا میرے کرم سے ہے نہ کہ محض تمہارے سجدوں سے، تم اپنے سجدوں سے مجھے اس کام میں اِمداد دو۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ کثرتِ سجود سے بتایا گیاکہ فقط نمازِ پنجگانہ پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل کثرت سے پڑھو تاکہ میرے قُرب کے لائق ہوجاؤ۔ جیسے بادشاہ کہے کہ ’’ میرے پاس آناہے تو اچھا لباس پہنو۔حاضری بادشاہ کے کرم سے ہے اور اچھا لباس دربار کے آداب میں سے۔ ‘‘
مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے ( )
¥
سَیِّدُنَا ربیعہ پر بارگاہِ رسالت کی عطائیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جبرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ مانگو تو انہوں نے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فقط ایک ہی چیز مانگی اور وہ ہے: ’’ جنت میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت۔ ‘‘ لیکن اس ایک چیز کے ضمن میں سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہ رسالت سے بہت سی چیزیں عطا ہوئیں ۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جگہ حضور تاجدار کائنات، فخر موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے حسب ذیل چیزیں مانگیں : ٭٭زندگی میں ایمان پر استقامت٭٭نیکیوں کی توفیق، ٭٭گناہوں سے کنارہ کشی،٭٭مرتے وقت ایمان پر خاتمہ، ٭٭قبر کے حساب میں کامیابی، ٭٭حشرمیں اعمال کی قبولیت، ٭٭پل صراط سے بخیریت گزر، ٭٭جنت میں ربّ کا فضل و بلندیٔ مراتب۔یہ سب چیزیں صحابی نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مانگیں اور حضور نے صحابی کو
بخشیں ، لہذا ہم بھی حضورسے ایمان، مال، اولاد، عزت، جنت، سب کچھ مانگ سکتے ہیں ، یہ مانگنا سنت صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہیں گے۔صوفیاءفرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے، لہذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔ ‘‘ ( )
¥
اختیاراتِ مصطفےٰپر تین اَحادیث مبارکہ
(1) زمین کے خزانوں کی کنجیاں :
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے جوامع الکلم بنا کر مبعوث فرمایا گیا ہے اور رُعب کے ساتھ میری مدد فرمائی گئی ہے ایک روز جبکہ میں سو رہا تھا تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں دے دی گئیں ۔ ‘‘ ( )
¥
(2) صحابی رسول اور روزے کا کفارہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں ہلاک ہوگیا۔ ‘‘رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے استفسار فرمایا: ’’ كس چیز نے تمہیں ہلاک کیا ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ میں نے روزے کی حالت میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس ایک غلام ہے کہ جسے تم کفارہ کے طور پر آزاد کردو؟ ‘‘ اس نےعرض کی : ’’ نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کیا تم لگاتار دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’ کیا تم ساٹھ 60مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ نہیں ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرما ہوگئے۔ کچھ دیر بعد آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بار گاہ میں ایک کھجوروں سے بھرا ہوا ٹوکرا پیش کیا گیا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص سے فرمایا : ’’ یہ ٹوکرا اٹھالو اور اس کی تمام کھجوریں صدقہ کردو۔ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی فقیر ہے؟ مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کوئی گھر والامجھ سے زیادہ محتاج نہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماتنا مسکرائے کہ آپ کی مبارک ونورانی داڑھیں ظاہر ہوگئیں ۔ ارشاد فرمایا: ’’ جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلادو۔ ‘‘( )(3) صحابی رسول اور قربانی کا جانور:حضرتِ سَیِّدُنا بَراء بن عازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو بُردَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عید کی نماز سے پہلے اپنی قربانی کرلی تو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے ارشادفرمایا: ’’ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔ ‘‘ وہ عرض گزار ہوئے: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے پاس تو چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا شعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بہتر ہے۔ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اسی کی قربانی دے دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے ایسا کرنا کافی نہ ہوگا۔ ‘‘ ( )
¥
اِختیاراتِ مصطفےٰ کا تفصیلی عقیدہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حبیب، ہم گناہگاروں کے طبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ہر طرح کے اِختیارات سے نوازا ہے۔صدرالشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاِختیاراتِ مصطفےٰ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ حضورِ اَقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے نائب مطلق ہیں ، تمام جہان حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے تحت تصرف کردیا گیا، جو چاہیں کریں ، جسے جو چاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں ، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں ، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے ربّ کے سوا کسی کے محکوم نہیں ، تمام آدمیوں کے مالک ہیں ، جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے، ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زیرِ فرمان، جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دے دی گئیں ، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں ، دنیا و آخرت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی عطا کا ایک حصہ ہے، اَحکامِ تشریْعیَّہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے قبضہ میں کر دیئے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ حسن بن علی ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے تمام خزانوں پر ایسی قدرت عطا فرمائی ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجسے چاہیں ، جو چاہیں ، جتنا چاہیں عطا فرمادیں ۔
(2) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے ایسے مالک ومختار ہیں کہ احکامِ شرعیہ میں بھی جس کے لیے جو چاہیں خاص فرمادیں ۔
(3) دنیا وآخرت دونوں میں حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بادشاہی ہے، جنت اور اس کی تمام نعمتیں تو حضور سرورِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں ۔
(4) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنت میں جس مقام پر فائز ہوں گے اس مرتبے پر کوئی نبیعَلَیْہِ السَّلَامبھی نہیں پہنچ سکتا چہ جائیکہ کوئی غیر نبی اور اُمَّتی اُس تک پہنچے۔
(5) جنت
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم اوررسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رحمت سے ہی ملے گی، البتہ عبادات اور کثرت سجود قرب حاصل کرنے اور درجات کی بلندی میں اضافے کا ذریعہ ہیں ۔
(6)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب اورحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قُرب دونوں لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں پائے جاسکتے۔
(7) بندے کی ربّ سے محبت اور ربّ کی بندے سے محبت دونوں رسولِ خدا، حبیب کبریاء، احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِتباع پر موقوف ہیں ۔
(8) حضور سید المرسلین، رحمۃ اللعالمین
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایمان، مال اولاد ، جنت اور عزت سب کچھ مانگ سکتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو یہ تمام چیزیں عطا فرمائی ہیں اور آپ کو اِن کا مالک بنا دیاہے اب آپ جسے چاہیں عطا فرمادیں ۔صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑی بڑی نعمتیں مانگا کرتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قُرب عطا فرمائے اور دنیا میں ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس قُرب کو حاصل کرنے میں مُعاوِن ہوں ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 106