- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
باب : مجاھدہ کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 2
حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار شہنشاہ ابرارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ”مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْاٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ، وَمَاتَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہِ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 95 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ربّعَزَّوَجَلَّسے روایت کرتے ہیں کہ ربّعَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو گز قریب ہوجاتا ہوں اورجب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ ‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْوِیہِ عَنْ رَبِّہِ قَالَ:اِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ اِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَاِذَا تَقَرَّبَ مِنِّی ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا، وَاِذَا اَتَانِیْ مَشْیًا اَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 96 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ تندرستی اورفراغت دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اُن کی وجہ سے خسارہ اٹھاتے ہیں یا ان سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ، اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 97 ، باب : مجاھدہ کا بیان
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدمین شریفین شق ہو جاتے۔ میں نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ ایسا کیو ں کرتے ہیں ! حالانکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ ‘‘
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاہُ، فَقُلْتُ لَہُ: لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟ ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 98 ، باب : مجاھدہ کا بیان
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ: ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو زندہ کرتے (یعنی شب بیداری فرماتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے۔ ‘‘ (یعنی عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔)عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ“ سے مراد رمضان کا مہینہ ہےاور”المِئْزَرُ“سے مراد اِزار یعنی تہبند ہے۔اور اس جملے میں ازواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے اجتناب کرنے کے متعلق کنایہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے اس سے مراد عبادت میں کوشش کرنا ہےجیساکہ کہاجاتاہے میں نے اس کام کے لیے اپنی کمر کس لی۔ یعنی میں اس کام کے لیے تیار ہوں اور فارغ ہوں ۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُُ عَنْہَا اَنَّہَاقَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اَحْیَا اللَّیْلَ، وَاَیْقَظَ اَہْلَہُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ. ( )
وَالْمُرَادُ: اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ.وَ”المِئْزَرُ“اَلْاِزَارُ، وَ ہُوَ کِنَایَۃٌ عَنْ اِعْتِزَالِ النِّسَاءِ. وَقِیْلَ: اَلْمُرَادُ تَشْمِیْرُہُ لِلْعِبَادَۃِ .یُقَالُ: شَدَدْتُ لِھٰذَا الْاَمْرِ مِئْزَرِیْ، اَیْ تَشَمَّرْتُ ، وَتَفَرَّغْتُ لَہُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 99 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک قوی مؤمن ضعیف مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے البتہ ہر ایک میں بھلائی ہے۔ تو تم اُس چیز کی خواہش کرو جو تمہارے لیے نفع بخش ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرو اور عاجز نہ ہو جاؤاور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہوکہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا بلکہ یوں کہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مقدر فرمایا اور جو چاہا وہ کیا۔کیونکہ لفظ ”اگر“شیطانی عمل کھولتا ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُوْ مِنِ الضَّعِیْفِ، وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ، اِحْرِصْ عَلَی مَا یَنْفَعُکَ، وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ، وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْء ٌ فَلَا تَقُلْ:لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا، ولٰکِنْ قُلْ:قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَاء َ فَعَلَ، فَاِنَّ ”لَوْ“ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 100 ، باب : مجاھدہ کا بیان
: حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ دوزخ کو شہوتوں سے اور جنت کو تکالیف ومشقتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ”حُجِبَتْ“کی جگہ”حُفَّتْ“ کا لفظ آیا ہے اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی ’’ بندے اور جنت و دوزخ کے درمیان یہی (مصیبتیں اور شہوات) حائل ہیں پس جب وہ اِن اَعمال کو کرے گا تو ان میں داخل ہوجائےگا۔ ‘‘
عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ:”حُفَّتْ“ بَدَلَ ”حُجِبَتْ“ وَہُوَ بِمَعْنَاہُ، اَیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ھٰذَا الْحِجَابِ، فَاِذَافَعَلَہُ دَخَلَہَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 101 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابوعبد اللہحذیفہ بن یمان انصاریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجو کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صاحبِ سِر یعنی ہمراز ہونے کے لقب سے معروف ہیں ، فرماتے ہیں کہ میں نے ایک راتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کا
شرف حاصل کیا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ بقرہشروع فرمائی، میں نے دل میں کہا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو 100آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل پڑھتے رہے۔میں نے خیال کیا کہ اب آپ رکوع میں جائیں گے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سورۂ نِساء شروع فرما دی اور اسے مکمل پڑھا پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ آلِ عمرانشروع فرما دی اور اسے بھی مکمل پڑھا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، جب آپکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح ہوتی تو آپ تسبیح پڑھتے (یعنیسُبْحٰنَ اللہِکہتے) اور جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال (اللہ عَزَّوَجَلَّسے مانگنے) کا ذکر ہوتا تو آپ سوال فرماتے اور جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میںتَعَوُّذْ(یعنی پناہ مانگنے ) کا ذکر ہوتا تو آپاللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے ۔پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رکوع فرمایا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِپڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور تقریبًا اتنی دیر کھڑے رہے کہ آپ کا قومہ رکوع کے برابر ہوگیاپھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سجدہ کیا اورسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھتے رہے آپ کا سجدہ بھی تقریبًا قیام کے برابر تھا۔
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، اَلْاَنْصَارِیْ الْمَعْرُوْف بِصَاحِبِ سِرِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ:صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ، فَقُلْتُ یَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَۃِ، ثُمَّ مَضَی، فَقُلْتُ یُصَلِّیْ بِہَا فِیْ رَکْعَۃ، فَمَضٰی، فَقُلْتُ یَرْکَعُ بِہَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَاَہَا، ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَاہَا، یَقْرَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ، اِذَا مَرَّ بِسُوَالٍ سَاَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، فَکَانَ رُکُوْعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ قِیَاماً طَوِیْلًا قَرِیْبًا مِمَّا رَکَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، فَکَانَ سُجُوْدُہُ قَرِیْبًا مِنْ قِیَامِہِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 102 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک راترسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت ہی طویل قیام فرمایا یہاں تک کہ میرے دل میں ایک بُرا خیال آیا۔ ‘‘ پوچھا گیا کہ کیا بُرا خیال آیا؟ تو فرمایا: ’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قیام میں چھوڑ کر بیٹھ جاؤں ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً، فَاَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ہَمَمْتُ بِاَمْرِسُوْ ءٍ، قِیْلَ وَمَا ہَمَمْتَ بِہٖ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 103 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا: ’’ میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، گھر والے ، مال اور اس کاعمل، پس دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک چیز یعنی اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتاہے۔ ‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ: اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 104 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرما یا : ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 105 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو فِرَاس رَبیعہ بن کَعْب اَسْلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خادِم اور اہل صُفَّہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ میں رات کو حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو اور دیگر حاجات کے لیے پانی لایا کرتا تھا، ایک دن آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کے جودوکرم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور آپ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ (اے ربیعہ!) مانگ کیا مانگتا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں جنت میں آپکا ساتھ مانگتا ہوں ۔“آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اس کے علاوہ اور کچھ؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ بس یہی۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ اَلْاََسْلَمِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاٰتِیْہِ بِوَضُوْئِہِ وَحَاجَتِہِ فَقَالَ: سَلْنِیْ، فَقُلْتُ: اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِیْ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ:اَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ: فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 106 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےآزادکردہ غلام حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہیا ابوعبدالرحمٰن ثوبانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا: ’’ تم پر سجدوں کی کثرت کرنا لازم ہے کیونکہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے جب بھی سجدہ کروگے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس سجدے کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹادےگا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ ، وَیُقَالُ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ، فَاِنَّکَ لَنْ تَسْجُدَلِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً، وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیْئَۃً. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 107 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو صَفْوَانعبداللہبن بُسْر اَسْلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ صَفْوَانَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ اَلْاَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَیْرُ النَّاسِ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 108 ، باب : مجاھدہ کا بیان
:حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اس لیے انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے مشرکین سے جو پہلا قتال کیا (یعنی جنگ بدر) میں اس میں حاضر نہ تھا لیکن اب اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے مشرکوں کے خلاف جنگ کرنے کی توفیق بخشی تواللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا کہ میں کس طرح قتال کرتا ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ جب جنگِ اُحد کا دن آیا اور مسلمان پیچھے ہٹ گئے تو حضر ت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کی: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں نے جو کچھ کیا میں اس کی معذرت چاہتا ہوں اور جو مشرکین نے کیامیں اس سے بیزار ہوں ۔ ‘‘ پھر جب وہ آگے بڑھے تو سامنے سے حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآرہے تھے۔سَیِّدُنَااَنس بن نَضْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا: ’’ جنت اے سعد! میرے والد نضر کے ربّ کی قسم! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خو شبو آرہی ہے۔ ‘‘ (یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، بعدازاں ) حضرت سَیِّدُنَا سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کر دکھا یا وہ میں نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘ سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اَسّی 80 سے زیادہ تلوار، نیزے اور تیر کے زخم پائے اور ہم نے دیکھا کہ انہیں شہید کردیا گیا تھا اور مشرکین نے ان کا مُثلہ کردیا تھا ۔ (یعنی ان کے کان، ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے) فقط ان کی ہمشیرہ نے انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ہم گمان کرتے تھے کہ یہ آیت مبارکہ ان کے یا ان جیسے دیگر اصحاب کے حق میں نازل ہوئی ہے:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-(پ۲۱، الاحزاب:۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچّا کردیا جو عہداللہسے کیا تھا۔
حدیث پاک کےبعض الفاظ کے معانی: لفظ”لَیُرِیَنَ“اور”لَیَرَیَنَّ“دونوں طرح روایت کیا گیا ہے، پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّضرور لوگوں کو دکھا دےگا۔“اور دوسری صورت میں معنی ہوگا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّضرور دیکھے گا۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال غَابَ عَمِّیْ اَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! غِبْتُ عَنْ اَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِکِیْنَ لَئِنِ اللّٰہُ اَشْہَدَنِیْ قِتَالَ الْمُشْرِکِینَ لَیَرَیَنَّ اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ اُحُدٍ وَانْکَشَفَ الْمُسْلِمُوْنَ، فَقَالَ اللّٰہُمَّ اَعْتَذِرُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلَاءِ، یَعْنِیْ اَصْحَابَہُ، وَاَبْرَاُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہٰؤُلَاءِ، یَعْنِیْ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: یَا سَعْدُ بْنَ مُعَاذٍ!اَلْجَنَّۃُ وَرَبِّ النَّضْرِ، اِنِّی اَجِدُ رِیْحَہَا مِنْ دُوْنِ اُحُدٍ، قَالَ سَعْدٌ:فَمَا اسْتَطَعْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَنَعَ ، قَالَ اَنَسٌ: فَوَجَدْنَا بِہِ بِضْعًا وَثَمَانِینَ ضَرْبَۃً بِالسَّیْفِ اَوْ طَعْنَۃً بِرُمْحٍ اَوْ رَمْیَۃً بِسَہْمٍ وَوَجَدْنَاہُ قَدْ قُتِلَ وَقَدْ مَثَّلَ بِہِ الْمُشْرِکُوْنَ فَمَا عَرَفَہُ اَحَدٌ اِلَّا اُخْتُہُ بِبَنَانِہ، قَالَ اَنَسٌ: کُنَّا نَرَی اَوْ نَظُنُّ اَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْہِ وَفِیْ اَشْبَاہِہِ ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ﴾ (الاحزاب :۲۳ ) اِلیٰ آخِرِ ھَا . ( )
قَوْلُہُ”لَیُرِیَنَّ اللّٰہُ“رُوِیَ بِضَمِّ الْیَاءِ وَکَسْرِ الرَّائِ، اَیْ لَیُظْہِرَنَّ اللّٰہُ ذَالِکَ لِلنَّاسِ، وُرِوَیَ بِفَتْحِہِمَا وَ مَعْنَاہُ ظَاھِرٌ، وَاللہُ اَعْلَمُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 109 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بِن عَمرو اَنصارِی بَدریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ جب آیتِ صدقہ نازل ہوئی تو ہم لوگ مزدوری کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک شخص آیا اور اس نے کثیرمال صدقہ کیا تو منافقین بولے : ’’ یہ ریا کار ہے۔ ‘‘ ایک دوسرا شخص آیا، اس نے ایک صاع صدقہ کیا تو منافقین نے کہا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ایک صاع سے مستغنی یعنی بے پر واہ ہے۔ ‘‘ تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ(پ۱۰، التوبۃ:۷۹)ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍ واَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ اٰیَۃُ الصَّدَقَۃِ کُنَّا نُحَامِلُ عَلٰی ظُہُوْرِنَا، فَجَاءَرَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَیْء ٍ کَثِیْرٍ فَقَالُوْا: مُرَائٍ، وَجَاءَ رَجُلٌ اٰخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ فَقَالُوْا:اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَاعِ ہَذَا! فَنَزَلَتْ: (اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ ) اَلْاٰیَۃَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 110 ، باب : مجاھدہ کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابوذَرجُنْدُب بن جُنادہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا” اے میرے بندو !میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کردیا ہےاور میں نے تم پر بھی ظلم کو حرام کر دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔٭٭اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ، تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔٭٭اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ ٭٭اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔٭٭اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہاری بخشش کردوں گا۔٭٭اے میرے بندو! نہ تم مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی نفع۔٭٭اے میرے بندو !اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے متقی آدمی کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔٭٭اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے بدکار آدمی کی طرح ہوجائیں پھر بھی میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی ۔ ٭٭اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن کسی جگہ پر کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسے حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَرِی جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔٭٭اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لیے جمع کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہاللہکی حمد بیان کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ ‘‘
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِی، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا یَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہُ قَالَ: یَا عِبَادِی! اِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُہُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ اَہْدِکُمْ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَائِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہُ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِی! کُلُّکُمْ عَارٍاِلَّا مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ، یَا عِبَادِی! اِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ، یَا عِبَادِی!اِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضُرُّوْنِیْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلَی اَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَالِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْاعَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذَالِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْاً، یَا عِبَادِیْ!لَوْ اَنَّ اَوَّلَکمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ، فَسَاَلُوْنِیْ فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَسْاَلَتَہُ، مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ، یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمۡ اِیَّاہَا، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہُ، قَالَ سَعِیْدٌ: کَانَ اَبُوْ اِدْرِیْسَ اِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیْثِ جَثَا عَلٰی رُکْبَتَیْہِ . ( )
وَرَويْنَا عَنِ اْلاِمَامِ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: لَيْسَ لاَِهْلِ الشَّامِ حَدِيْثٌ اَشْرَفُ مِنْ هَذَا الْحَدِيْثِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 111 ، باب : مجاھدہ کا بیان