Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 100

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُوْ مِنِ الضَّعِیْفِ، وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ، اِحْرِصْ عَلَی مَا یَنْفَعُکَ، وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ، وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْء ٌ فَلَا تَقُلْ:لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا، ولٰکِنْ قُلْ:قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَاء َ فَعَلَ، فَاِنَّ ”لَوْ“ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :المؤمن القوی خیر واحب الی اللہ من المو من الضعیف، وفی کل خیر، احرص علی ما ینفعک، واستعن باللہ ولا تعجز، وان اصابک شیء فلا تقل:لو انی فعلت کان کذا وکذا، ولکن قل:قدر اللہ وما شاء فعل، فان ”لو“ تفتح عمل الشیطان. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک قوی مؤمن ضعیف مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے البتہ ہر ایک میں بھلائی ہے۔ تو تم اُس چیز کی خواہش کرو جو تمہارے لیے نفع بخش ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرو اور عاجز نہ ہو جاؤاور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہوکہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا بلکہ یوں کہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مقدر فرمایا اور جو چاہا وہ کیا۔کیونکہ لفظ ”اگر“شیطانی عمل کھولتا ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

قوی مؤمن کون ہے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں قوت سے مراد آخرت کی تیاری میں انسان کی طبیعت اور نفس کا پختہ ارادے کے ساتھ کوشش کرنا ہے۔ پس جس شخص میں یہ صفات ہوتی ہیں وہ کثرت سے جہاد میں شریک ہوتا ہے، دشمن کے خلاف پیش قدمی کرنے میں جلدی کرتا ہے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں بہت زیادہ کوشش کرتا ہے اور ان تمام کاموں میں پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کر تا ہے ۔نیز صوم و صلاۃ، ذکر و اَذکار اور تمام عبادات میں نشاط کے ساتھ رغبت رکھتا اور ان پر محافظت کرتا ہے۔ ان صفات کا حامل شخص قوی مؤمن ہے۔ ‘‘ ( )حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابنے قوی مؤمن کی دو تعریفات ذکر فرمائی ہیں : ایک تو وہی ہے جو شرح نووی کے حوالے سے ابھی ذکر ہوئی اور دوسری تعریف یہ ہے کہ ’’ قوی مؤمن وہ شخص ہے جو مالی اعتبار سے مستحکم ہواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کثرت سے خرچ کرنے والا ہونیز اس مال سے دنیا کا طلبگار اور دُنیاوی مال و متاع جمع کرنے پر حریص نہ ہو۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن سے مرادوہ شخص ہے جو اپنے ایمان اور یقین میں اس طرح مضبوط اور کامل ہوکہ اسے اَسباب پر نہیں بلکہمُسَبِّبُ الْاَسْبَابیعنیاللہ عَزَّوَجَلَّپر بھروسہ ہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق ’’ قوی مؤمن سے مراد وہ ہے کہ جو لوگوں کی صحبت و ہم نشینی اور ان کی طرف سے پیش آنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور انہیں خیر و بھلائی کی تعلیم دے۔ ‘‘ اس تعریف کی تائید اُس حدیث پاک سےبھی ہوتی ہے جو حضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مرفوعاً مروی ہے کہ ’’ وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے افضل ہے جو نہ لوگوں سے اِختلاط رکھتا ہے اور نہ ان کی اَذِیَّت پر صبر کرتا ہے۔ ‘‘ ( )
علامہ قرطبی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن وہ ہے جو بدن اور نفس کے اعتبار سے طاقتور ہو اس طور پر کہ اس کا نفس پختہ ارادے کے ساتھ نیکیوں پر ابھارنے والا ہو اور اس کا بدن تمام عباداتِ بدنیہ جیسےحج، روزہ، نیکی کی دعوت اور ان جیسے وہ نیک اَعمال جن پر دین کی بنیاد ہے، ان تمام کو بجا لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ ‘‘ ( )ضعیف مؤمن کون ہے؟شارحین حدیث نے ضعیف مؤمن کی کوئی خاص تعریف بیان نہیں کی بلکہ مؤمن قوی کی ضد کو مؤمن ضعیف کہا ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ضعیف مؤمن کی کیفیت قوی مؤمن کے برخلاف ہوتی ہے (یعنی اُس کا اعتقاد مُسَبِّبُ الاَسْبَاب پر کمزور اور اَسباب پر زیادہ ہوتا ہے) تو یہ شخص ایمان کے ادنیٰ درجہ پرہے ۔ ‘‘ ( )¥قوی اور ضعیف دونوں مؤمنوں میں بھلائی ہے:مؤمن قوی ہو یا ضعیف دونوں میں خیر ہے کیونکہ دونوں صاحبِ ایمان ہیں ۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ خواہ مؤمن قوی ہو یا کمزور کوئی مسلمان صفات خیر سے خالی نہیں ہوتا اور ایمان صفات خیر میں سب سے افضل ہےلہٰذا دونوں میں بھلائی ہے۔ ‘‘ ( )
¥
قوی وضعیف مؤمن کا جنتی درجات میں فرق:قوی اور ضعیف مؤمن اگرچہ دونوں میں بھلائی ہے لیکنعنداللہدونوں کا مقام و مرتبہ جدا جدا ہے۔حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن اور ضعیف مؤمن صفت ایمان کی وجہ سے بھلائی میں دونوں برابر ہیں لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی جنت میں ان دونوں کے مراتب میں فرق رکھا ہے اور ان کو ایک دوسرے پر درجوں میں بلندی عطا فرمائی ہے۔‘‘ ( )
¥
حرص کسے کہتے ہیں ؟حدیث پاک میں قوی اور ضعیف مؤمن کے بیان کے بعد نفع دینے والے چیزوں پر حرص کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ ص۱۱۶پر ہے: ’’ خواہشات کی زیادتی کے اِرادے کا نام حرص ہے اوربُری حرص یہ ہے کہ اپنا حصہ حاصل کرلینے کے باوجود دوسرے کے حصے کی لالچ رکھے ۔ یا کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص ، اور حرص رکھنے والے کو حریص کہتے ہیں ۔ ‘‘ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حرص کا تعلق صِرْف ’’ مال ودولت ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حرص تو کسی شے کی مزید خواہش کرنے کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہوسکتی ہے، چاہے مال ہو یا کچھ اور!چنانچہ مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو ’’ مال کا حریص ‘‘ کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو ’’ کھانے کا حریص ‘‘ کہا جائے گااور نیکیوں میں اِضافے کے تمنائی کو ’’ نیکیوں کا حریص ‘‘ جبکہ گناہوں کا بوجھ بڑھانے والے کو ’’ گناہوں کا حریص ‘‘ کہیں گے ۔ ‘‘
¥
نیکیوں کی حرص:حدیثِ مذکور میں جس حرص کا حکم دیا گیا ہے وہ نیکیوں اور آخرت اور دنیا کی ان چیزوں کی ہے جو ہمارے دین اہل و عیال اور اچھے اَخلاق میں مُعاوِن ثابت ہوں ۔چنانچہعلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سے ان چیزوں کو حاصل کرنے میں حرص کرو جو تمہارے دین ، اہل وعیال اور اچھے اخلاق میں تمہاری معاونت کریں اور اس میں کوتاہی نہ کرو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے نفع مند چیزوں کے حصول میں مدد چاہو اور اسی پر تَوَکُّل کرو اور اپنی کوششوں اور اسباب پر اعتماد نہ کرو بلکہ ہر معاملہ میں اس سے امیدرکھو اور اسی پر بھروسہ کرو جس نے اس سے مدد چاہی اس کی مدد کی گئی۔ ‘‘ ( )علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس کا معنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت و فرمانبرداری پر حرص کرواور اس کے ہاں جو انعام و اکرام ہیں اُن میں رغبت کرو، ان کے حصول میں اس کی مدد طلب کرو اور اس کی فرمانبرداری ومدد طلب کرنے میں سستی نہ کرو۔ ‘‘ ( )اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ یہاں حرص کا حکم مؤمن قوی کے لیے ہو کہ وہ ان چیزوں پر حرص کرتا رہے جو اس کے لیے نفع بخش ہیں اور کسی بھی صورت اپنی کوشش کو ترک نہ کرےاور ضعیف مؤمن کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے اعمال کی قلت پر نظر رکھ کر عاجز نہ ہو بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد مانگے۔ ‘‘ ( ) (تاکہ وہ بھی کامل مؤمنین کی فہرست میں شامل ہو جائے۔)عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ جو اعمال تمہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچانے والے ہیں تم ان پر حریص ہوجاؤاور اپنے افعال پراللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرو کیونکہ نیک اعمال کی طاقت و قدرت عظمت والےاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سے ہے نیز اس حرص اور مددطلب کرنے سے عاجز نہ ہو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس پرہرطرح قادر ہے کہ وہ تمہیں اپنی اطاعت کی قوت عطا فرمائے بشرطیکہ تم استقامت سے مدد طلب کرتے رہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ’’ تم ان چیزوں پر عمل کرنے سے عاجز نہ آؤ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور ان نیک اعمال کواللہ عَزَّ وَجَلَّسے توفیق طلب کرنے میں کمی کرنے کی وجہ سے ترک نہ کرو۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ جو چیز تم کو دینی نفع دے اس میں قناعت نہ کرو، خوب حرص کرو، اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو مگر اپنی کوشش پر بھروسہ نہ کرو،اللہپر تَوَکُّل کرو۔ خیال رہے کہ دنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلیٰ ہے دین کے کسی درجے پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو، آگے بڑھنے کی کوشش کرو ، ربّ فرماتاہے: (فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-) (پ:۲، البقرۃ:۱۴۸) (ترجمۂ کنزالایمان:تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں ۔) حریصِ مال برا مگر حریصِ عمل اچھا، ربّتعالٰینے اپنے محبوبصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تعریف میں فرمایا: (حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ) ( ) (پ:۱۱، التوبۃ:۱۲۸) (ترجمۂ کنزالایمان: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔)جو کچھ ہوتا ہے مشیت الٰہی سے ہوتا ہے:حدیث پاک کے آخر میں قوی مؤمن کی ایک اعلیٰ صفت یعنی ربّ تعالی کی مشیت پر ہر حال میں راضی رہنے اور اپنے تمام معاملات اس کے سپرد کرنے کا بیان ہے۔ کامل مسلمان کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اسباب پر نہیں بلکہمُسَبِّبُ الْاَسْبَابیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرتا ہے اگرچہ وہ اسباب بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس کا بھروسہ اسباب و وسائل پیدا فرمانے والے ربّعَزَّ وَجَلَّپرہی ہوتا ہے۔وہ اپنی تدبیر سے زیادہ مشیت الٰہی پر یقین رکھتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس بات پر کامل اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ سب مشیت الٰہی سے ہے، میرا مالک قادرمطلق ہے وہ جیسے چاہے تصرف فرماتاہے۔چنانچہ،عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اگرتمہیں تمہارے دینی یا دنیاوی اُمور میں کوئی مصیبت آپہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں اس طرح کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا کہ ایسا کہنا درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمادیا:قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-(پ۱۰، التوبۃ:۵۱)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ ’’ تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جواللہنے ہمارے ‏لیے لکھ دیا۔ ‘‘
حدیث پاک میں ہے، حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو تجھے ملناہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ تجھے نہ ملے اور جو تجھے نہیں ملنا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ تجھے مل جائے۔ ‘‘ (یعنی جس کا ملنا مقدر ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور جس کا نہ ملنا مقدر ہے وہ مل نہیں سکتا۔) اور قرآن پاک میں ایک اور مقام پراللہ عَزَّوَجَلَّنےارشاد فرمایا:لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ(پ۲۷، الحدید:۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اس ‏لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے۔“
ہاں لیکن تم زبان حال یا زبان قال سے یہ کہو کہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ ہی مُقَدَّر فرمایا تھا لہٰذا جو بھی ہوااللہ عَزَّوَجَلَّکے فیصلے اور اس کی تقدیرکے مطابق ہی واقع ہوا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّجو چاہتا ہے کرتا ہے کیونکہ وہ (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ (۱۶)) (پ۳۰، البروج:۱۶) ہے۔ (یعنی جب جو چاہے کرے) اس کے فیصلے کو کوئی رَد اور اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ‘‘ ( )
¥
لفظ ”اگر“کے استعمال پر ثواب کی صورت:حدیث پاک میں تقدیر کا انکار کرنے اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرتے ہوئے ’’ اگر ‘‘ کہنے سے منع کیا گیاہے کہ اگر میں یوں کرلیتا توایسا ہوجاتاوغیرہ وغیرہ کیونکہ اس سے انسان کا تَوَکُّل اپنی تدبیر پر زیادہ اور مشیت الٰہی پر کم ہوتا ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے، ربّتعالٰیناراض بھی ہوتا ہے، اگر میں اپنا مال فلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ، ہائے بڑی غلطی کی، یہ بُرا ہے۔لیکن دینی معاملات میں ایسی گفتگو اچھی، یہاں دُنیاوی نقصانات مراد ہیں ۔ اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ ربّتعالٰیپر نہیں رہتا، اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے دینی کاموں میں اگر مگر اور افسوس و ندامت اچھی چیز ہے۔ (مثلاً) ”اگر میں اتنی زندگیاللہکی اطاعت میں گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ۔ہائے افسوس !“یہ اگر مگر عبادت ہے۔”اگر میں حضور کے زمانہ پاک میں ہوتا توحضور کے قدموں پر دل و جان قربان کردیتا مگر میں اتنے عرصے بعد پیدا ہوا، ہائے افسوس !“یہ عبادت ہے۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ نے فرمایا:
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نَصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے ( )
¥
لفظ ”اگر“کے بارے میں تحقیق:حدیث مذکور میں ”اگر“ کہنے سے منع کیا گیا ہے۔حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں کہ بعض علما ءنے کہا کہ ’’ یہ ممانعت اس وقت ہے کہ جب کوئی شخص یقین و وُجوب کے ساتھ کہے کہ اگر وہ یہ کام کرلیتا تو اس کو یہ مصیبت ہرگز نہ پہنچتی اور جو شخص اس معاملے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیّت پر چھوڑ دے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اسے جو کچھ مصیبت پہنچی ہے اس کے کرنے یا نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیّت اور اس کی تقدیر سے پہنچی ہے تو یہ اس ممانعت کے تحت داخل نہیں ۔ ‘‘ ان کی دلیل وہ تمام احادیث ہیں جن میں لفظ ’’ اگر ‘‘ والی عبارات موجود ہیں ۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ حدیث میں ممانعت عمومی ہے لیکن یہ ممانعت بطریقِ ندب وتنزیہی ہے (یعنی ”اگر“ نہ کہنا مستحب ہے اور کہنا مکروہ تنزیہی) اور اس بات پر حضور کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے کہ ”اگر“ کا لفظ شیطانی عمل کھولتا ہے یعنی دل میں تقدیر کے مُعَارِض و مُخَالِف خیالات ڈالتا ہے اور اس سے شیطانی وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘ ( ) (لہذا اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔)عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ظاہر یہ ہی ہے کہ بے فائدہ لفظ”اگر“ کا استعمال کرنا مطلقًا ممنوع ہے (چاہے ماضی میں ہو یامستقبل میں ) اور یہ ممانعت مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں ۔بہر حال جو شخص کسی عبادت کے فوت ہوجانے یا کوئی نیک عمل خود پر مُتَعَذَّر (بہت مشکل) ہونے کی بنا پر افسوس کرتے ہوئے ”اگر“ کا استعمال کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور احادیث میں اس طرح ”اگر“ کا استعمال کثرت سے موجود ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
لفظ ”اگر“ کا استعمال کب ممنوع ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیعلامہ شاطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سےنقل فرماتے ہیں کہ ’’ اگر ‘‘ اور ’’ کاش ‘‘ کے الفاظ دل میں تَرَدُّدْ پیدا کرتے ہیں ۔ مشکاۃ المصابیح کے بعض شارحین نے فرمایا کہ ’’ اگر ‘‘ کا لفظ یقین کے ساتھ بولا جائے تو یہ بندے کو تقدیر کے انکار یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پر راضی نہ رہنے کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ جب تقدیر بندے کی مرضی کے خلاف ظاہر ہو (یعنی جیسا بندہ چاہتا تھا اس کے خلافِ واقع ہوجائے) تو اس وقت بندہ یہ کہتا ہے کہ ’’ اگر میں ایساکرتا تو اس طرح نہ ہوتا ۔ ‘‘ جبکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے علمِ اَزَلی میں یہ مُقَدَّر ہوچکا تھا کہ یہ ایسا ہی کرے گا جیسا اس نے کیااور اس کا نتیجہ بھی وہی ہوگا جیسا ہوا اسی لیے نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا کہ جب تمہارا کوئی کام تمہاری تَوَقُّع کے خلاف واقع ہوجائے تو اس وقت تم یہ کہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مُقَدَّر فرمایا اور جو چاہا وہ کیا۔ نیزلفظِ ”اگر“ کا استعمال تمام احوال اور تمام صورتوں میں مکروہ نہیں بلکہ اسی صورت میں مَمْنُوع ہےکہ جس میں تقدیر سےمخالفت اور دُنیاوی مُعاملات میں سے کسی چیز کے ضائع ہونے پر افسوس کیا جائے۔علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ہاں اگراللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت فوت ہونے پر افسوس کرتے ہوئے ”اگر“ کالفظ استعمال کرے تو اس پر ثواب ہے اور مناسب ہے کہ اسے مستحب چیزوں میں شمار کیا جائے۔ ‘‘ امام فخر الدین رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسَیِّدُنَا ابو عَمرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جس نے اپنی دنیاوی چیز فوت ہونے پر افسوس کیا وہ جہنم سے ایک ہزار سال کی مسافت قریب ہو گیا اور جس نے اپنی آخرت میں سے کسی چیز کے فوت ہونے پر افسوس کیا تو وہ جنت سے ایک ہزار سال کی مسافت قریب ہو گیا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالک اشجعیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’ جس پر تقدیر غالب آجائے اسے چاہیے کہ وہ کہے: ”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلیعنی مجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ”فاروقِ اعظم“کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)
ہرحال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنا، اِطاعت خداوندی میں مشقت اٹھانا، لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرنا اور ہر حال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا پرراضی رہنا قوی مؤمن کی صفات ہیں لہٰذا ان ہی صفات کو اختیار کرنا چاہیے۔
(2) بھلائیوں میں سے سب سے افضل بھلائی ایمان ہے اور ہرمسلمان صاحبِ ایمان ہوتا ہے لہٰذا مسلمان چاہے قوی ہو یا ضعیف وہ بھلائی ہی میں ہے۔البتہ
عند اللہدونوں کے مراتب جدا ہیں ۔
(3) حرص فی نفسہٖ بُری شے نہیں اس کا اچھا یا بُرا ہونا اس کے استعمال پر ہے، اگر حرص نیکیوں پر ہو تو یہ قابلِ تعریف ہے اور اگر دنیا وی معاملات میں (بُری نیت کے ساتھ ) ہو تو یہ قابل مذمت ہے لہذا دُنیوی غَرض سے بچتے ہوئے اُخروی یعنی نیکیوں کا حریص بنناچاہیے۔
(4) نیک اَعمال کی توفیق
اللہ عَزَّ وَجَلَّہی دیتا ہے جب تک اس کی مدد شامل نہ ہو اَعمالِ صالحہ یعنی نیک اَعمال بجالانا بھی ممکن نہیں ، لہذا ہردم توفیقِ الٰہی طلب کرنی چاہیے۔
(5)
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمارے مُقَدَّر میں جو آزمائش لکھی ہے اس پر صبر کرنا چاہیے اورناشکری کے الفاظ اپنی زبان پر لا کر اجر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(6)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیت پر ہر حال میں راضی رہنا چاہیے اور چاہے کیسی ہی آزمائش آئے تقدیر پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
(7) اپنے ہر ہر معاملے میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقدیر پر یقین رکھنا چاہیے۔
(8) اگر، مگر اور کاش وغیرہ کے الفاظ استعمال کرنے سے تقدیر کے انکار کا وہم پیدا ہوتا ہے لہذا یسے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
(9) دینی کاموں کے چھوٹ جانے پر لفظِ” اگر“ کہنا اور افسوس و ندامت کرنا اچھی بات ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قوی مؤمن بنائے اور ہردم اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں تقدیر اِلٰہی پر اعتراض کرنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 100