Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 103

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً، فَاَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ہَمَمْتُ بِاَمْرِسُوْ ءٍ، قِیْلَ وَمَا ہَمَمْتَ بِہٖ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَہُ. ( )

عن ابن مسعودرضی اللہ عنہ قال: صلیت مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ، فاطال القیام حتی ہممت بامرسو ء، قیل وما ہممت بہ؟ قال: ہممت ان اجلس وادعہ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک راترسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کی، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت ہی طویل قیام فرمایا یہاں تک کہ میرے دل میں ایک بُرا خیال آیا۔ ‘‘ پوچھا گیا کہ کیا بُرا خیال آیا؟ تو فرمایا: ’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قیام میں چھوڑ کر بیٹھ جاؤں ۔ ‘‘

شرح حدیث

بیٹھ جانے کے اِرادے کی وجہ:فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُتندرست قوی جوان تھے اور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دیوانے اور اتباع کے شوقین تھے۔ پھر انہوں نے بیٹھنے کا ارادہ اسی وقت کیا ہوگا جبکہ وہ بہت تھک گئے ہوں گے اتنا کہ کھڑا رہنا دشوار ہوگیا ہوگا۔اوریہ اسی وقت ہوگا جبکہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قیام بہت طویل ہو۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ نمازِتہجدتھی اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعام طورپر جتنا قیام فرماتے اُس سے بہت زیادہ طویل قیام آپ نے اس نمازِتہجد میں فرمایا۔ ‘‘ ( )
¥
قلبی اِرادے کو بُرا سمجھنے کی وجوہات:حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجب تھک گئے تو بیٹھنے کا اِرادہ کیا لیکن بیٹھے نہیں اور اپنے اِس اِرادے کو بُرا خیال کیا جبکہ آپ نے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں جو نماز پڑھی وہ نفل نماز یعنی نمازِتہجدتھی اور نفل میں بیٹھنا جائز ہے تو پھر آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک جائز کام کے اِرادے کو بُراخیال کیوں کہا؟ شارِحینِ حدیث نے اس کی کئی وُجُوہات بیان فرمائی ہیں ۔چنانچہ،عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ہر چند کہ نفلی نماز میں بیٹھنا جائز ہے اس کے باوجودحضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نماز میں بیٹھنے کو بُرا خیال قرار دینا محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَدَب کے پیش نظرتھا کیوں کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے رہیں اورعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبیٹھ جائیں یہ امر اَدب کے خلاف تھا اور اِس میں ظاہری اِعتبار سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مخالفت بھی تھی۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ امام کی مخالفت بہت بری بات ہے جبھی تو حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے امام کی مخالفت میں آنے والے خیال کو بُرا فرمایا (اور اگر امام حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہوں تو یہ اور بھی زیادہ برا ہے کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مخالفت کرنے سے ربّعَزَّ وَجَلَّنے منع فرمایا ہے اور اس پر وعید ہے۔ چنانچہ)اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۶۳)(پ:۱۸، النور:۶۳)ترجمۂ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔ ( )عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرتعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمحضرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب کے پیش نظر نماز میں نہیں بیٹھے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرتعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نماز میں بیٹھنے کو بری بات قرار دینا اس وجہ سے تھا کہ یہ بات ادب کے خلاف تھی۔ ‘‘ ( )
¥
طویل قیام افضل یا کثرت رکوع و سجود؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نوافل میں طویل قیام افضل ہے یارکوع وسجود کی کثرت؟ اس سلسلے میں دونوں طرح کی روایات موجود ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بعض علماء کے نزدیک طویل قیام افضل ہے کہ بندہ اگرچہ کم رکعتیں پڑھے مگر ان میں لمبی قراءت کرے، طویل قیام کرے اور بعض علماء کے نزدیک کثرت رکوع وسجوداَفضل کہ بندہ اگرچہ قراءت مختصر کرے مگر زیادہ سے زیادہ رکعات پڑھے کہ جتنی رکعتیں زیادہ ہوں گی اتنے رکوع وسجدے زیادہ ہوں گے۔
¥
کثرتِ رکوع وسجود کی اَفضلیت پر تین اَحادیث:(1) حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ’’ اَعمال میں سب سے افضل عمل رکوع و سجود کی کثرت کرنا ہے۔ ‘‘ ( )
(2) حضرت سَیِّدُنَامخارق
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنَا ابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ آپ طویل قیام نہ کرتے بلکہ رکوع وسجود کی کثرت کرتے تھے۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ میں نےرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا کہ ’’ جس نے اچھی طرح رکوع کیا اور اچھی طرح سجدہ کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کا ایک درجہ بلند فرماتا اور اُس کا ایک گناہ مٹادیتا ہے۔ ‘‘ ( )
(3) حضرت سَیِّدُنَا
عبداللہبن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ انہوں نے ایک نوجوان کو نماز میں طویل قیام کرتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوکر پلٹا تو آپ نے فرمایا : ’’ اِسے کون جانتا ہے؟ ‘‘
ایک شخص نے کہا : ’’ میں جانتا ہوں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ اگر میں اسے جانتا تو ضرور رکوع و سجود کو طویل کرنے کا حکم دیتاکیونکہ میں نے
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر اور کندھوں پر آجاتے ہیں اور وہ جب بھی رکوع و سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ گِر جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )طویل قیام کی افضلیت پر تین احادیث:(1) حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ ’’ کونسی نماز افضل ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس میں قیام لمبا ہو۔ ‘‘ ( )
(2) حضرت سَیِّدُنَا
عبداللہبِنْ حُبْشِی خَثْعَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صاحب لَولَاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیاکہ ’’ کونسی نماز افضل ہے؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ طویل قیام والی نماز۔ ‘‘ ( )
(3) حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نماز ادا کی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران تلاوت فرمائی۔ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس حدیث پاک کے متعلق فرماتے ہیں ’’رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےیہ سب کچھ دو یا دو سے زائد گھنٹوں میں ادا فرمایا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپنے ساری رات شب بیداری فرمائی ہو۔بہر حال حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامعادتًا جو عبادت فرماتے تھے وہ اس کے برعکس تھی کیونکہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی شب بیداری کے متعلق جو روایات مروی ہیں ان میں تہائی رات کا ذکر ہے اور اس بات کی بھی وضاحت موجود ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامگیارہ 11 رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے تو تہائی رات میں گیارہ رکعت ادا کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطویل قیام فرماتے تھے۔ ‘‘ ( )
¥
ایک اہم مسئلے کی وضاحت:واضح رہے کہ جماعت میں قراءت مسنونہ پر زیادتی نہ کرنے کا حکم ہے، خصوصاً اس صورت میں جبکہ مقتدیوں پر زیادت گراں اور شاق ہو۔ چنانچہصَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (امام کو چاہیے کہ) قراء ت مسنونہ پر زیادت نہ کرے، جب کہ مقتدیوں پر گراں ہو اور شاق نہ ہو تو زیادتِ قلیلہ (یعنی تھوڑا سا زیادہ کرنے ) میں حرج نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
دونوں اقسام کی احادیث میں تطبیق:امام ابو جعفر احمد بن سلامہ طحاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جو شخصاللہ عَزَّوَجَلَّکے ‏لیے رکوع و سجدہ کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا ایک درجہ بلند کرے اور اس کا ایک گناہ مٹادے اور اگر رکوع و سجود کے ساتھ ساتھ وہ لمبا قیام بھی کرے تو یہ زیادہ افضل ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس لمبے قیام کی وجہ سے اور زیادہ ثواب عطا فرمائے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث کو اس معنی پر محمول کرنا زیادہ اَولیٰ ہے تاکہ وہ دوسری اَحادیث سے مُتَضَاد نہ ہو ۔ ( )عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ اس تمام بحث کا حاصل یہ ظاہر ہوا کہ یہ فضیلت اَشخاص و اَحوال کے مختلف ہونے سے بدل جاتی ہے۔ ‘‘ ( ) (یعنی کبھی طولِ قیام اور کبھی کثرتِ رکوع و سجود افضل ہے اور آدمی کا ذوق و شوق جس جانب زیادہ مائل ہو وہ چیز اس کے لیے افضل ہے۔)
¥
حدیث پاک سے ماخوذ چند مدنی پھولمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک کے تحت شارحین نے جہاں فقہی اِعتبار سے بحث کی ہے، وہیں اس حدیث سے کئی مدنی پھول بھی اخذ فرمائے ہیں ، چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں :
٭……علماء واکابرین کا ادب واحترام:
عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ علماء و اکابرین کا ادب کرنا چاہیے اور جب تک وہ خلافِ شرع کام نہ کریں قولی اور فعلی طور پر ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
٭……نفل کی جماعت اور نماز طویل کرنے کا جواز: اس حدیث پاک میں فرض نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں میں جماعت کے جائز ہونے اور رات میں نماز کو طویل کرنے کے مستحب ہونے کا ثبوت ہے۔ ( )
٭……فقط غلط وسوسے پر پکڑ نہیں : علامہ سید محموداحمدرضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ تہجد میں حضور قیام کو لمبا کرتے تھے ، (نیز یہ بھی پتا چلاکہ) جو غلط وسوسہ پیدا ہو اور وہ عملی جامہ نہ پہنے تو آدمی گناہ گار نہیں ہوتا، حضرتعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوامگراللہنے انہیں بچالیا۔ ( )
٭……اِمام کی مخالفت بُری ہے:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں امام کے کسی فعل کے خلاف کرنا بُرا کام ہے۔
٭……اِبہام کی وضاحت طلب کرنے کا جواز: یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے قول یا فعل میں کچھ ابہام ہو تو اس کے بارے میں دریافت کرنا جائز ہے، اسی لیے حضرت سَیِّدُنَا
عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اور پھر انہوں نے آپ کی بات کو سمجھ لیا، نیز سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی انہیں سوال کرنے سے منع نہ کیا۔ ( )
¥
نماز میںرسول اللہکا خیال اور ادب واحتراممیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں راویٔ حدیث یعنی حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے درج ذیل دو باتیں نہایت ہی ایمان افروز ہیں :
(۱) پہلی بات تو یہ کہ حضرت سَیِّدُنَا
عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز ادا کررہے ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں حاضر ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کررہے ہیں ، مگر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاخیال اور توجہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مبارکہ کی طرف لگے ہوئے تھے کہ ہوسکتا ہے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمابھی رکوع میں تشریف لے جائیں یہاں تک کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھک گئے اور آپ کے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھنے کا خیال آیا۔
(۲) دوسری بات یہ کہ طویل قیام اور تھکاوٹ کے سبب آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں قیام چھوڑ کر بیٹھ جانے کا خیال پیدا ہوا جسے آپ نے بُرا خیال تصور کیا مگررسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب واحترام اور تعظیم کی خاطراُسے عملی جامہ نہ پہنایا۔
¥
علم وحکمت کے مدنی پھول:مذکورہ بالا دونوں ایمان افروز باتوں سے علم وحکمت کے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
(۱) نماز میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال دل میں آنے اور اپنی توجہ کورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف لگادینے سے نماز میں کوئی فرق نہیں آتا۔
(۲) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھی اپنی توجہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگائے رکھتے تھے۔
(۳) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ نماز میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، جبھی تو سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی توجہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف لگی ہوئی تھی۔
(۴) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات مبارکہ کی طرف توجہ کرنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ نماز کی معراج اور عینِ ایمان ہے، کیونکہ اگر یہ کوئی معیوب بات ہوتی تو سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجیسے جلیل القدر صحابی کبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔
(۵) جس طرح بیرونِ نماز
رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم ضروری ہے ویسے ہی دورانِ نماز بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم بہت ضروری ہے۔
(۶) نماز میں
رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ہمیں یہ عظیم تحفہ نماز بھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طفیل ملا ہے، نیز اگر اس سے کوئی خلل واقع ہوتا تو سَیِّدُنَاعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکبھی بھی ایسا نہ فرماتے۔
(۷) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کرام، محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسب کا یہ مبارک عقیدہ ہے کہ نماز میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام اورتعظیم وتکریم کرنا عینِ ایمان اور شریعت کے مطابق ہے۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا شمار بڑے فقہاء صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ہوتاہے، کئی صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کے شاگرد تھے، پھر ان کے بھی کئی شاگرد تھے، سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اس حدیث مبارکہ کو ہزاروں محدثینِ کرام نے بیان کیا لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ نماز میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا یا ان کا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم کرناغلط ہے، بلکہ اس بات کی صراحت کی کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ فعلرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب کی وجہ سے تھا۔
¥
تین ایمان افروز احادیث مبارکہواضح رہے کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ایک کثیر تعداد ہے جنہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ کی کئی نمازیںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں ادا کیں ، اور یہ تمام حضرات نماز میں اپنی توجہ اور خیال رسولِ اکرم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی طرف رکھا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آج ہم تکرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نمازوں کا ایک ایک مبارک فعل بعینہ ویسا ہی پہنچا ہے جیسا آپ نے ادا فرمایا کیونکہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی ہرہرادا کو بغور دیکھا کرتے تھے اور اسے یاد رکھا کرتے تھے، نیز دیگر نئے مسلمانوں کو اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ذخیرۂ احادیث میں ایسی کثیر احادیث موجود ہیں جن میں اس بات کا بیان ہے کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال نماز میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک ذات کی طرف ہوتا تھا اور صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز میں بھیرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ادب واحترام وتعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔تین احادیث مبارکہ پیشِ خدمت ہیں :
¥
پہلی حدیث مبارکہ:حضرت سَیِّدُنَا سہل بن ساعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنی عَمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا اور عرض کی کہ ’’ حضور! میں اقامت کہوں تو آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ چنانچہ سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جماعت کروائی، دورانِ نمازرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے آئے۔رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ہاتھ پر ہاتھ مار کر سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مُتَوَجِّہ کیا کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لاچکے ہیں لیکن آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز میں ایسے منہمک ہوتے تھے کہ اِدھر اُدھر توجہ ہی نہ فرماتے۔ پس جب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زیادہ آواز پیدا کی تو انہوں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ لیااور اپنی جگہ چھوڑنے لگے لیکنرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اِشارے سے منع فرمایاکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہلیں ، وہیں کھڑے رہیں ۔ اس پر انہوں نے ہاتھ بلند کیے اور ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں شکر ادا کیا۔ پھر آپ پیچھے ہٹے یہاں تک کہ صف کے برابر کھڑے ہوگئے اوررسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے تشریف لے گئے اورنماز پڑھائی۔ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوئے تو سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے استفسار فرمایا: ’’ اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا تھا تو تم پیچھے کیوں ہٹے؟ ‘‘ عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے یہ رَوا نہیں کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگے نماز پڑھائے۔ ‘‘ ( )
اس حدیث پاک سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں موجود تمام صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال اور توجہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گئی اور انہوں نے آپ کی تعظیم کی خاطر جگہ چھوڑی، بعد اَزاں سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بھی توجہ اور خیالرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف گیا اور انہوں نے بھی اپنی جگہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کی خاطر چھوڑدی۔
¥
دوسری حدیث مبارکہ:حضرت سَیِّدُنَا مُغِیرہ بن شُعبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر ایک جگہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اِقتداء میں نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ایک رکعت مکمل ہوچکی تھی۔ جب سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اشارے سے منع فرمادیا۔ سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نماز جاری رکھی اور دوسری رکعت مکمل کرکے سلام پھیر دیا، سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوگئے اور اپنی نماز کو مکمل فرمایا۔ ( )اس حدیث پاک سے بھی صراحتاً معلوم ہوا کہ نماز میں موجود صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا خیال اور توجہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف تھی اور سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم کرتے ہوئے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا۔
¥
تیسری حدیث مبارکہ:اُمّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی تو حضرت سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز کی اطلاع دینے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوبکر بڑے رقیق القلب (نرم دل) ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوتے ہی ان پر رقت طاری ہو جائے گی اور لوگوں کوکچھ سنائی نہ دے گا۔بہترہے کہ آپ حضرت سَیِّدُنَا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکونماز پڑھانے کاحکم فرمائیں ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر ارشاد فرمایا: ’’ جاؤ ا بوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ بہرحال بعدازاں امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نماز پڑھائی، اسی دوران آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرض کی شدت میں کچھ کمی واقع ہوئی تو آپ دو اَصحاب کے ساتھ اپنے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لائے، سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جیسے ہی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو اپنی جگہ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اشارے سے منع فرمادیا۔ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے پہلو میں تشریف فرماہوگئے۔ ( )
اس حدیث پاک سے بھی صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں موجود صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور خود سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا خیال اور توجہ نماز میں ہیرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف تھی اور انہوں نے نماز میں ہی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم کرتے ہوئے جگہ چھوڑی۔
¥
مدنی گلدستہ
”عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ“ کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1)
نماز ِتہجد اداکرنا حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔
(2) سركار
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتہجد کی نماز میں طویل قیام فرماتے تھے۔
(3) نماز میں امام کی مخالفت کرنا بُرا فعل ہے اور بسا اَوقات اس سے نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے۔
(4) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز وغیرنماز دونوں حالتوں میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حد درجہ ادب واحترام وتعظیم وتکریم کیا کرتے تھے۔
(5) علمائے کرام واکابرینِ دین
رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکا ادب واحترام کرنا چاہیے۔
(6) نماز میں اگر قیام کرنا دشوار ہوجائے تو بیٹھنا جائز ہے۔
(7) فرض نمازوں کے علاوہ دیگر نفل نمازوں کی جماعت بھی جائز ہے۔
(8) دل میں بُرا وسوسہ آنے سے انسان گناہ گار نہیں ہوتا جب تک کہ اسے عملی جامہ نہ پہنائے۔
(9) اپنے دینی اور مسلمان بھائی سے اس کے متعلق ایسی بات پوچھنے میں کوئی حرج نہیں جس سے اس کے متعلق کوئی اِبہام دُور ہوجائے۔
(10) نماز میں حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خیال آنا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاادب واحترام کرنا، تعظیم وتکریم کرنا عینِ ایمان اور نماز کی معراج ہے، ان دونوں باتوں سے نماز میں کسی بھی قسم کا کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، یہ مبارک عقیدہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، تابعین، تبع تابعین، اولیائے عظام اور تمام اُمَّت مسلمہ کا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تہجد کی نماز پڑھنے اور عبادت کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حقیقی محبت عطا فرمائے، نماز وغیرنماز دونوں میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتکریم اور ادب واحترام نصیب فرمائے، عاشقانِ رسول کی صحبت عطا فرمائے، گستاخانِ رسول کی صحبت سے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 103