- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 105
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ. ( )
عن ابن مسعودرضی اللہ عنہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :الجنۃ اقرب الی احدکم من شراک نعلہ والنار مثل ذلک. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرما یا : ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘
شرح حدیث
جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ ( )¥جنت وجہنم کے قرب کی وجوہات:جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں اور جس طرح اس تسمے میں انگوٹھا داخل کرنا انسان کے لیے بہت آسان ہے یوں ہی جنت و دوزخ میں داخلہ بھی بہت سہل، اِسی قُرب و سَہل کو شارِحین نے مختلف انداز سے بیان کیاہے۔ چنانچہاِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طَیِّبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث میں جنت و دوزخ کی قُرْبَتْ کو جوتے کے تسمے کی قُرْبَتْ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ ثواب وعذاب کا حصول بندے کی اپنی کوشش سے ہوتا ہے اور کوشش قدموں کے ذریعے ہوتی ہے۔ توجو شخص کوئی نیک کام کرے گاوہاللہ عَزَّوَجَلَّکے وعدے کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوگااور جو بُرا عمل کرےگا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی وعید کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوگا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیعلامہ ابن جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اچھی نیت اور نیک اَعمال کے ساتھ جنت کا حصول نہایت آسان ہے اور اسی طرح خواہشاتِ نفس کی پیروی اور بُرے اعمال کے ذریعے جہنم کا داخلہ بھی۔ ‘‘ ( ) (یعنی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دائمی طورپر نیک اَعمال کرنے سے جنت میں داخل ہونا آسان ہوجاتا ہے اور اسی طرح نفس کی اتباع کرنے سے جہنم میں داخل ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوجاتے ہیں ۔)
¥فکر آخرت کی ترغیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں اس بات کو بیان کیا جارہا ہے کہ آدمی کو اپنی آخرت کے حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے اور ہر اُس فعل سے اِجتناب کرنا چاہیے کہ جو آخرت کے لیے نقصان دہ ہو کیونکہ آتشِ دوزخ کے بندے سے قریب ہونے کے بارے میں حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں آگاہ فرمادیا ہے اور اب اس صورت حال میں تھوڑی سی بھی لا پرواہی خسارے کا باعث بن سکتی ہے۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت جنت تک لے جاتی ہے اور نافرمانی دوزخ کے قریب کرتی ہے اور یہ جنت و دوزخ سے قریب ہونا کبھی کسی چھوٹے عمل کی وجہ سے بھی ہوتا ہے (یعنی عمل تو بظاہر بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس عمل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا یا ناراضی ہوتی ہے۔) حضور نبی اَکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ’’ بعض اوقات اِنساناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاوالا ایسا کلام کرتاہے کہ جس کو وہ خود بھی کوئی اَہمیت نہیں دیتا لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کلام کے سبب اِس بندے کے حق میں قیامت تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انساناللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی والا ایسا کلام کرتا ہے جس کی یہ کوئی پرواہ نہیں کرتا لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاُس بات کی وجہ سے قیامت تک اِس بندے سے ناراض ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥ایک لفظ میں جنت ودوزخ ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ کبھی منہ سے ایک بُری بات نکل جاتی ہے تو ساری عمر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے اور کبھی منہ سے ایک بات اچھی نکل جاتی ہے جو ربّ کو پسند ہو اس سے بندہ کے عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ جنتی ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے، چونکہ جنت ودوزخ اپنے عمل سے ملتی ہیں اور اُن کے راستے عمل کے قدموں سے طے ہوتے ہیں اِس لیے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس قُرب کو جوتے کے تسمے سے تشبیہ دی یعنی ایک قدم میں جنت ہے اور ایک قدم میں دوزخ۔ ‘‘ ( )
¥معمولی عمل سے دُخولِ جنت وجہنم:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جنت و دوزخ میں داخل ہونا اَعمالِ صالحہ اور گناہوں کی کثرت پر موقوف نہیں بلکہ معمولی نظر آنے والی بُرائی بھی جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بھی بندے کو جنت میں داخل کرواسکتی ہے۔ خداوندِ کریم کے یہاں اگر ایک نیکی بھی مقبول ہوجائے تو وہ بندے کی نجات کا سبب بن جاتی ہے۔ امام حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جس بندے کی کوئی ایک بھی نیکیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہوگئی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ ( )¥کسی بھی عمل کو معمولی نہ سمجھو:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اعمالِ صالحہ بندے کو بہشت تک پہنچا دیتے ہیں اور مَعَاصی کے اِرتکاب سے بندہ آتش دوزخ کے قریب تر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ بہشت و دوزخ کی نزدیکی بہت آسان دکھائی دینے والے عمل سے وقوع پزیر ہو جاتی ہے لہٰذا مؤمن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی نیک عمل کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑے اور کسی بھی بُرائی کو معمولی سمجھ کر نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جس گناہ کو وہ چھوٹا گمان کر رہا ہواللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک وہ بہت بڑا گناہ ہو۔بےشک مؤمن اس نیکی کو نہیں جانتا جس کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر رحم فرمادے اور
اُس گناہ کو بھی نہیں جانتا جس کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ناراض ہوجائے۔ (لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ہر قسم کے نیک اَعمال بجالائے اور ہر طرح کے گناہوں سے اجتناب کرے۔) ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقاتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں مقبول ہونے والی چھوٹی سی نیکی بڑے بڑے گناہوں پر غالب آجاتی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاکے لیے زبان سے نکلے ہوئے چند کلمات بارگاہِ ربُّ الْعِزَّت میں بندے کی نجات کا سبب بن جاتے ہیں ۔اسی ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ فرمائیے:
¥اللہ اکبرکہنے کی برکت:ابو بکر محمد بن ابراہیم کلاباذی نے ” بحر الفوائد“ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بھتیجا شراب پینے کا عادی تھا ، وہ بیمار ہوا تو اس نے مجھے ملاقات کے لیے پیغام بھیجا ، میں اس کے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو سیاہ رنگ کے فرشتے اس کے پاس بیٹھے ہیں ۔میں نے کہا :”اِنَّالِلّٰہِ(یعنیاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) میرا بھتیجا ہلاک ہو گیا۔ ‘‘ اتنے میں گھر کے روشن دان سے دو سفید فرشتوں نے اندر جھانکا۔ایک نے دوسرے سے کہا : ’’ نیچے اترو اور اس نوجوان کے پاس جاؤ۔ ‘‘ جب وہ نیچے آیا تو دونوں سیاہ فرشتے وہاں سے چلے گئے ، اس سفید فام فرشتے نے آ کر نوجوان کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی اور پاؤں کو سونگھالیکن اس میں بھی نماز کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر وہ فرشتہ اپنے ساتھی سے جا کرافسوس کرتے ہوئے کہنے لگا:”اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَیہ شخص اُمَّت ِ محمد یہ میں سے ہے لیکن میں نے اس میں کوئی بھلا ئی نہیں پائی۔ ‘‘ اس کے ساتھی فرشتے نے اس سے کہا : ’’ افسوس ہے تجھ پر!تو کیسی بات کہتا ہے، تو دوبارہ اس کے پاس جا اور غور سے جائزہ لے۔ ‘‘ وہ فرشتہ دوبارہ اس نوجوان کے پاس آیا اور اس نے پھر اس کے منہ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا کوئی ذکر نہیں پایا ۔ ‘‘ پھر پیٹ کو سونگھا اور کہا: ’’ میں نے اس میں روزے کی خوشبو نہیں پائی۔ ‘‘ پھر پاؤں کوسونگھااور کہا: ’’ اس میں بھی نماز کی خو شبو نہیں پاتا۔ ‘‘ یہ سن کر دوسرا فرشتہ کہنے لگا: ’’ یہ شخص اُمَّت محمد یہ میں سے ہے اور اس کے پاس ایک بھی نیکی اور بھلائی کی بات نہ ہو ، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بس تم اُوپر چڑھو میں خود جا کر دیکھتا ہوں۔ ‘‘ چنانچہ اس دوسرے فرشتے نے آ کر اس کے منہ، پیٹ اور قدموں کو سونگھا مگر اُن میں قرآن پڑھنے اور نماز روزے کی خوشبو نہ پائی تو پھر دوبارہ اُسے سونگھنا شروع کیا اور اس شرابی کی زبان کا کنارہ نکال کر سونگھا تو فوراً بول اُٹھا: ’’اللہ اکبر! میں نے دیکھا کہ اس نے مقامِ انتا کیہ میں جہاد کے دوراناللہ عَزَّ وَجَلَّکی رِضا کے لیے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔ ‘‘ پھر اس نوجوان کی روح پرواز کر گئی اور میں نے اس کے گھر کو کستوری کی خو شبو میں بسا ہوا پایا ۔اگلی صبح جب میں نماز فجر سے فارغ ہوا تو نمازیوں سے کہا: ’’ کیامیں تمہیں تم ہی میں سے ایک جنتی شخص کے بارے میں بتاؤں ؟ ‘‘ پھر میں نے اہل مسجد کو اپنے بھتیجے کا واقعہ سنا یا۔ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے فقط ایک باراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیےاَللہُ اَکْبَرکہنا ہی اس شرابی کے کام آگیا۔ اِس حکایت سےمعلوم ہوا کہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا اور معمولی سمجھتے ہوئے نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے بظاہر چھوٹی نظر آنے والی اُس نیکی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضاہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کے سبب جنت میں داخل فرمادے ۔اِسی طرح کسی بُرائی وگناہ کو ہلکا ومعمولی یا چھوٹا وصغیرہ سمجھ کر نہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ بظاہر چھوٹے نظر آنے والے اِس گناہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی ہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کے سبب جہنم میں داخل کردے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
¥مدنی گلدستہ
”اَحمد“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)جنت و دوزخ انسان کے بہت قریب ہیں پس اگر وہ نیکی کرےگا تو جنت میں داخل ہوجائے گا اور اگر گناہ کرے گا تو دوزخ میں داخل ہوجائے گا۔
(2) انسان کو اپنی گفتگو میں بہت محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ایک ایسا لفظ منہ سے نکل گیا جس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّناراض ہو گیا تو وہ اسے جہنم میں داخل کردے گا۔
(3) چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، ہوسکتا ہے کہ وہی نیکی جنت میں داخلے کا سبب بن جائے ، اسی طرح چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہی گناہ جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے۔
(4) یہ ضروری نہیں کہ نیک اعمال کی کثرت سے جنت میں داخلہ ملے بلکہ معمولی نظر آنے والی نیکی بھی جنت میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے، اسی طرح دوزخ میں داخل ہونا گناہوں کی کثرت پر موقوف نہیں بلکہ بظاہر معمولی نظر آنے والا گناہ بھی جہنم میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے، نیکیوں کی ترغیب دینے، گناہوں سے بچنے اور دیگر لوگوں کو گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے جنت میں داخلہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 105