Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 98

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاہُ، فَقُلْتُ لَہُ: لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟ ( )

عن عائشۃ رضی اللہ عنہاان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یقوم من اللیل حتی تتفطر قدماہ، فقلت لہ: لم تصنع ہذا یا رسول اللہ!وقد غفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر؟ قال: افلا احب ان اکون عبدا شکورا؟ ( )

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدمین شریفین شق ہو جاتے۔ میں نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ ایسا کیو ں کرتے ہیں ! حالانکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ ‘‘

شرح حدیث

عبادت میں شدت کرنا:شارح حدیث حضرت علامہ ابن بطالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں کہ : ’’ انسان کا اپنے آپ پر عبادت میں شدت کرناجائز ہے اگرچہ وہ عبادت اس کے بدن کو تکلیف پہنچائے اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ شدت نہ کرے بلکہ صرف وہ عبادت کرے جو اس کے لیے آسان ہو۔ لیکن افضل یہی ہے کہ وہ کثرت سے عبادت کرے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ ‘‘ پھر جو شخص اس بات سے ہی بے خبر ہے کہ وہ جنت کا مستحق ہے یا جہنم کا تو اس کے لیے عبادت کی کثرت کیسے ضروری نہ ہوگی؟ پس جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکثرت سے عبادت کی توفیق دے تو اس کے لیے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت بہترین نمونہ ہے۔بے شک انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماوراللہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے اس کی صفات کے بارےمیں علم رکھنے اور اس کی بے شمار نعمتوں کے سائے میں ہونے کی بنا پر اس کے عذاب سے محفوظ ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے کثرتِ عبادت کو اپنے اوپر لازم کیا۔ ‘‘ ( )
¥
حضور کا رات بھر عبادت کرنے کی وجوہات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پا ک میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَاکا حضورنبی مکرم شفیع معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کرنا تعجب کے طور پر تھا کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامتو بخشے بخشائے ہیں تو پھر اتنی عبادت کس لیے؟ تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے جواباً ارشاد فرمایا : کیا مجھے شکر گزار بندہ بننا پسند نہیں ؟ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مغفرت اور اس کے مجھ پر جو انعامات ہیں اُن کا شکر ادا نہ کروں ؟ ‘‘ نیزعلامہ ابن حجررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشرح شمائل میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ کیا میں اس وجہ سے عبادت میں مشقت کوچھوڑ دوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے میری مغفرت فرمادی ہے اور میں اس کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ اگرچہ اس نے میری بخشش فرمادی ہے لیکن میں نے کثرت عبادت کو خود پر اس لیے لازم کرلیا ہے تاکہ میں اس کا شکر گزار بندہ بن جاؤں ۔ ‘‘ نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے قول ” کیا میں اس کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ “ کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’ میرااللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا گناہوں کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کثیر انعامات کا شکر ادا کرنے کے لیےہےجواللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے عطا فرمائے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
عبادت گزاروں کی تین اقسام:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عبادت میں مَشَقَّتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے حصول اوردرجات کی بلندی کا باعث ہے۔ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی رضائے الٰہی کی خاطر راتوں کو طویل قیام و سجود فرماتے۔ واضح رہے کہ عبادت گزاروں کی تین اقسام ہیں ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : (۱) ’’ جو قوماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اس لیےکرے کہ اس کے بدلےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے انعامات و مغفرت حاصل کرے تو یہ تاجروں کی عبادت ہے ۔ (۲) جو قوم جہنم کے خوف کی وجہ سے عبادت کرے تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ (۳) اور جو قوم فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر کرنے کے لیے عبادت کرے تو یہآزاد لوگوں کی عبادت ہے۔ ‘‘ ( )
¥
رات کی عبادت نے بخشوادیا:حضرت سَیِّدُنَاقَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سَیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو اُن کے انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’مَا فَعَلَ اللہُ بِکَیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکی بلا حجاب زیارت کی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ اے ابنِ سعید! تجھے مبارک ہو ، میں تجھ سے راضی ہوں کیونکہ جب رات ہوجاتی تھی تو تم آنسوؤں اور رقتِ قلبی کے ساتھ میری عبادت کرتے تھے۔ جنت تمہارے سامنے ہے جو محل لینا چاہو لے لو اور میری زیارت کرو کیونکہ میں تم سے دور نہیں ہوں ۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ مُجَاہَدَہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
عبادت میں ایسی کثرت کرنا جو فرائض ودیگر حقوق العباد کی ادائیگی میں خلل نہ ڈالے جائز ہے۔
(2) فرائض وواجبات کے علاوہ جس کی جتنی اِستطاعت ہو اُسے اتنی نفلی عبادت کرنی چاہیے۔
(3) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساری رات ربّ کی عبادت کرنا اِنعاماتِ الٰہیہ کے شکرکے لیےتھا۔
(4) جسے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکثرت سے عبادت کی توفیق دے تو اس کے لیے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت بہترین نمونہ ہے۔
(5) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سید المعصومین ہونے کے باوجود راتوں کو کثرت سے عبادت کی ، ہم گنہگاروں کو تو زیادہ ضرورت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خوب عبادت کریں ۔
(6) حصولِ انعامات کے لیے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا تاجروں ، جہنم سے بچنے کے لیے عبادت کرنا غلاموں اور اِنعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کرنا آزاد لوگوں کا طریقہ ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے خوب خوب عبادت کرنے اور فرائض و سنن کے ساتھ ساتھ نوافل اور دیگر مستحبات بجالانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 98