- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 111
حدیث مبارکہ
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِی، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا یَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہُ قَالَ: یَا عِبَادِی! اِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ ہَدَیْتُہُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ اَہْدِکُمْ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَائِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہُ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِی! کُلُّکُمْ عَارٍاِلَّا مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ، یَا عِبَادِی! اِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ، یَا عِبَادِی!اِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضُرُّوْنِیْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلَی اَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَالِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْاعَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ مَا نَقَصَ ذَالِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْاً، یَا عِبَادِیْ!لَوْ اَنَّ اَوَّلَکمْ وَاٰخِرَکُمْ وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ، فَسَاَلُوْنِیْ فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَسْاَلَتَہُ، مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ، یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمۡ اِیَّاہَا، فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہُ، قَالَ سَعِیْدٌ: کَانَ اَبُوْ اِدْرِیْسَ اِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیْثِ جَثَا عَلٰی رُکْبَتَیْہِ . ( )
وَرَويْنَا عَنِ اْلاِمَامِ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: لَيْسَ لاَِهْلِ الشَّامِ حَدِيْثٌ اَشْرَفُ مِنْ هَذَا الْحَدِيْثِ.
عن سعید بن عبد العزیز، عن ربیعۃ بن یزید ، عن ابی ادریس الخولانی، عن ابی ذر جندب بن جنادۃ، رضی اللہ عنہ، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما یروی عن اللہ تبارک وتعالی انہ قال: یا عبادی! انی حرمت الظلم علی نفسی وجعلتہ بینکم محرما فلا تظالموا، یا عبادی! کلکم ضال الا من ہدیتہ، فاستہدونی اہدکم، یا عبادی! کلکم جائع الا من اطعمتہ، فاستطعمونی اطعمکم، یا عبادی! کلکم عارالا من کسوتہ فاستکسونی اکسکم، یا عبادی! انکم تخطئون باللیل والنہار وانا اغفر الذنوب جمیعا فاستغفرونی اغفر لکم، یا عبادی!انکم لن تبلغوا ضری فتضرونی، ولن تبلغوا نفعی فتنفعونی، یا عبادی! لو ان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم کانوا علی اتقی قلب رجل واحد منکم ما زاد ذالک فی ملکی شیئا، یا عبادی! لو ان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم کانواعلی افجر قلب رجل واحد منکم ما نقص ذالک من ملکی شیا، یا عبادی!لو ان اولکم واخرکم وانسکم وجنکم قاموا فی صعید واحد، فسالونی فاعطیت کل انسان مسالتہ، ما نقص ذلک مما عندی الا کما ینقص المخیط اذا ادخل البحر، یا عبادی! انما ہی اعمالکم احصیہا لکم، ثم اوفیکم ایاہا، فمن وجد خیرا فلیحمد اللہ، ومن وجد غیر ذلک فلا یلومن الا نفسہ، قال سعید: کان ابو ادریس اذا حدث بہذا الحدیث جثا علی رکبتیہ . ( )
وروينا عن الامام احمد بن حنبل رحمه الله قال: ليس لاهل الشام حديث اشرف من هذا الحديث.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابوذَرجُنْدُب بن جُنادہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا” اے میرے بندو !میں نے اپنے آپ پر ظلم کو حرام کردیا ہےاور میں نے تم پر بھی ظلم کو حرام کر دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔٭٭اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ، تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔٭٭اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ ٭٭اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔٭٭اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہاری بخشش کردوں گا۔٭٭اے میرے بندو! نہ تم مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی نفع۔٭٭اے میرے بندو !اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے متقی آدمی کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔٭٭اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن تم میں سے سب سے بدکار آدمی کی طرح ہوجائیں پھر بھی میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی ۔ ٭٭اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن کسی جگہ پر کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسے حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَرِی جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔٭٭اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لیے جمع کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہاللہکی حمد بیان کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔ ‘‘
شرح حدیث
سب سے زیادہ شرف والی حدیث:حضرت سَیِّدُنَا سعیدرَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابواِدریس خَولانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیجب یہ حدیث بیان کرتے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔ ‘‘ حنبلیوں کے امام حضرت سَیِّدُنَا امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ اہل شام کے لیے اس سے زیادہ شرف والی اور کوئی حدیث نہیں ۔ ‘‘
¥حدیثِ قُدْسی کی تعریف:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ جس حدیثِ پاک میں کلام اور اَلفاظ دونوں حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہوں اسے ’’ حدیثِ نبوی ‘‘ کہتے ہیں اور جس حدیث پاک میں کلاماللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہو لیکن الفاظ حضور نبی کریم، رَ ؤفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہوں اسے ’’ حدیثِ قدسی ‘‘ کہتے ہیں ۔مذکورہ حدیث پاک بھی حدیثِ قدسی ہے کہ اس میں کلاماللہ عَزَّ وَجَلَّکا ہے اور الفاظ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہیں ۔
¥ظلم کی تعریف:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ظلم کے لغوی معنی کسی چیز کو اس کے غیر مَحل میں استعمال کرنے کےہیں ۔جبکہ شرعاً کسی اور کے حق میں ناحق تَصَرُّف کرنا اورحَد سے تجاوز کرنا ظلم کہلاتا ہے ۔ ( )مُفَسِّرشَہِیر، مُحَدِّث کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ظلم کے معنی ہیں ددسرے کی مِلک میں زیادتی کرنا یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ سَیِّد مِیْر شریف جُرْجَانِیْ قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانیظلم کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ کسی چیز کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥ربّ تعالی پر ظلم کے حرام ہونے کا معنی:مذکورہ حدیث پاک کی ابتداء میں اس بات کا بیان ہے کہ ربّعَزَّ وَجَلَّنے اپنے اوپر ظلم کو حرام کردیا ہے۔ ‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟ چنانچہمُفَسِّرشَہِیر، مُحَدِّث کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہاں حُرمت سے مراد شرعی حُرمت نہیں ، کیونکہ حق تعالی پر نہ کوئی حاکم ہے اور نہ اس پر شرعی اَحکام جاری ہیں بلکہ اس سے مراد ہے برتر ہونا، مُنَزہ ہونا، پاک ہونا، ربّ تعالی کے لیے کوئی شے ظلم ہو سکتی ہی نہیں کیونکہ ظلم کے معنی ہیں دوسرے کی مِلک میں زیادتی کرنا، یا کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا ان دونوں سے پروردگار پاک ہے۔ کیونکہ ہر چیز اس کی ملک ہے اور جس کے استعمال کے لیے جو جگہ مقرر فرمادے وہی اس کا صحیح مَصْرف ہے، اس کے اَفعال یا عدل ہیں یا فضل۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ظلم سے مُنَزہ اور پاک ہوں ، میرا کوئی کام ظلم نہیں ہوسکتا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں ظلم سے مراد بے قصور کو سزا دینا ہے۔وَﷲُ تَعَالٰی اَعْلَمُ‘‘ ( )عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں ، علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا کہ ’’ اس کا معنی ہے کہ میں ظلم سے پاک ہوں اور برتر ہوں ۔ ‘‘ ظلم کا لفظاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حق میں استعمال کرنا محال ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے پاک ہے اور کیسے نہ ہو کہ ظلم کا معنی ہے :حد سے تجاوز کرنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّحد سے تجاوز کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس پر کوئی حاکم نہیں جو اس کے لیے حدود قائم کرے وہ سب کا حاکم ہےاور ظلم کا معنی ہے کسی اور کی مِلک میں تصرف کرنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکسی کی مِلک میں تصرف کیسے کرسکتا ہے کیونکہ ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے وہ سارے جہان کا مالک ہے۔ ‘‘ ( )
¥ظلم کی حرمت پر مَذاہب کا اِجماع:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ظلم کی حرمت پر تمام مذاہب کا اجماع ہے کیونکہ جانوں کی حفاظت پر ان سب کا اتفاق ہے ۔ظلم کبھی نسب میں ہوتا ہے تو کبھی آبرو میں ، کبھی مال میں ، کبھی عقل میں ، کبھی اِن سب میں واقع ہوتا ہے اور کبھی اِن میں سے بعض میں ۔ ‘‘ ( )
¥سب سے بڑا ظلم کیا ہے؟سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:(اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (۱۳)) (پ۲۱،
لقمن:۱۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ ‘‘ اکثر آیات میں ظلم سے یہی معنی یعنی شرک ہی مراد ہے البتہ بعض آیات میں گناہوں کی مختلف انواع کو بھی ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( )¥ظلم کرنے کی ممانعت:حدیثِ مذکور میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے بندوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّخود اُس ظالم سے مظلوم کا بدلہ لے گا۔چنانچہ علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو یعنی بعض بعض پر ظلم نہ کریں ۔ کیونکہ میں مظلوم کے ظلم کا اُس ظالم سے خود بدلہ لوں گا۔ جیسا کہ ایک حدیثِ قدسی میں ہے، ارشاد فرمایا: ”میں مظلوم کی مدد ضرور کرتا ہوں اگر چہ کچھ وقت کے بعد۔“ (یعنی وہ انہیں چھوڑنے والا نہیں بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے۔) چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ (۴۲)(پ۱۳، ابراھیم:۴۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور ہرگزاللہکو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے،انہیں ڈِھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ( )
¥ظلم کی ممانعت پر تین فرامین مصطفےٰ:(1) ’’ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہیں ۔ ‘‘ ( ) (یعنی ظلم کرنے والا بروز قیامت سخت مصیبتوں اور تاریکیوں میں گِھرا ہوگا۔)(2) ’’ مظلوم کی بددعا سے بچو کہ اس کے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے مابین کوئی پردہ نہیں ۔ ‘‘ ( ) (3) ’’ ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزا نہیں۔‘‘ ( )
¥تمام لوگوں کی گمراہی سے کیا مرادہے؟مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیا: ’’ تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے میں ہدایت دوں ۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں : ’’ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لوگ گمراہی پر پیدا ہوئے ہیں سوائے اس کے جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّہدایت دے۔جبکہ مشہور حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت یعنی دین ِاسلام پر پیدا ہوتا ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث میں لوگوں کو اس گمراہی سے مُتَّصِفْ کیا گیا ہے جس پر بعثت رسول سے پہلے وہ لوگ تھےکہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّاُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیتا اور وہ لوگ اُسی شہوت پرستی، راحت اور توحید میں تَدَبُّر سے غفلت میں رہتے تو گمراہ ہوجاتے۔ ‘‘ ( )
¥گمراہ ہونے کے دو2 معنی:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے گمراہ ہونے کے دو2معنی بیان فرمائے ہیں : (۱) ’’ تم رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے۔ ‘‘ (۲) ’’ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم حق سے بھٹک جاتے۔ ‘‘ اب پہلے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’ تم سب رسولوں کی بعثت سے پہلے شریعت سے غافل تھے ماسوائے ان لوگوں کے جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّنےاس پر ایمان لانے کی توفیق دےدی جو کچھ رسول لے کر آئے۔ ‘‘ اور دوسرے معنی کا اعتبار کریں تو مطلب یہ ہوگا کہ ’’ اگراللہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیتا تو تم سب حق سے بھٹک جاتے ما سوائے ان لوگوں کے جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی معرفت تک لے جانے والے امور میں غورو فکر اور جو احکامات اس کے پاس آئےاس پر عمل کی توفیق دےدے۔ ‘‘ دونوں معنی پر یہ حدیث اس مشہور حدیث کے منافی نہیں جس میں فرمایا کہ ’’ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ اس گمراہی سے مراد وہ گمراہی ہے جو بعد میں اس فطرت پر حاوی ہوجاتی ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو اپنی معرفت (یعنی فطرت اسلام) پر پیدا کیا، پھر شیطان نے انہیں بہکادیا۔ ‘‘ ( )ہدایت طلب کرنے میں حکمت:اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ہدایت طلب کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس بات کا اِظہار ہو کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا محتاج ہے اور اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اعلان کرے۔ کیونکہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کو بغیر طلب کیے ہدایت عطا فرمادے تو بسا اوقات بندہ کہہ دیتا ہے: ’’ یہ ہدایت تو مجھے میرے پاس موجود علم کی بدولت ملی ہے۔ ‘‘ اور پھر وہ اسی وجہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ لہذا جب اُس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ہدایت کا سوال کرلیا تو گویا اس نے اپنی عَبُودِیَّت یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندہ ہونےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَبُوبِیَّت یعنی اس کے ربّ ہونے کا اعتراف کرلیا۔ یہ وہ عزت والا مقام ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کو توفیق ملتی ہے۔ ‘‘ ( )
¥کھانے کے ساتھ پینے، لباس کے ساتھ رہائش کا ذکر:مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اولاً ایک اُخْرَوی نعمت یعنی ہدایت کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دو اہم ترین دُنیوی نعمتوں یعنی کھانے اور لباس کا ذکر فرمایا ۔پینے اور رہائش کا ذکر نہ فرمایا۔چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھوک کا ذکر کیا اور پیاس کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً کھانے کے ساتھ ساتھ پینا بھی ہوتا ہے اس لیے فقط بھوک کا ذکر فرمایا پیاس کا ذکر نہ فرمایا۔ اسی طرح پہننے کا ذکر کیا اور رہائش کا ذکر چھوڑ دیا کیونکہ عموماً لباس کے ساتھ ساتھ گھر بھی شامل ہوتا ہے کہ لباس سِتر چھپانے کے لیے ہوتا ہے اور گھر بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لیے ہوتا ہے اس لیے فقط لباس کا ذکر فرمایا گھر یعنی رہائش کا ذکر نہ فرمایا۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدحدیث میں خطاب عام بندوں سے ہے:مُفَسِّرشَہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خطا کے معنی ہیں غلط راستے پر چلنا بھول کر ہو یا جان بوجھ کرلہذا اس میں خطائیں ، بھول چوک، عمداً گناہ سب داخل ہیں ۔علامہ ابن حجررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ یہاں روئے سخن (یعنی خطاب) عام بندوں سے ہے۔ معصومین حضرات جیسے فرشتے، انبیاء اس حکم سے خارج ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥شرک کے سوا تمام گناہ معاف:جب بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو وہ جسے چاہتا ہے اس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہر گناہ معاف فرمادیتا ہے سوائے کفروشرک کے۔ ( ) چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-(پ۵، النساء:۴۸)ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
¥ربّ کو نفع و ضرر پہنچانے سے کیا مراد ہے؟حدیث میں ہے کہ تمام لوگ اگر متقی بن جائیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّکو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر سب کے سب نافرمان ہوجائیں تو اسے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکو کوئی نفع و ضرر کیسے پہنچا سکتا ہے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ۔چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ تم میرے نفع و ضرر کے مالک نہیں ہو پس اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری عبادت کروتو میری سلطنت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے اور اگر تم سب سے جس قدر ممکن ہوسکے میری نافرمانی کرو تو مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا ;سکتے۔ بلکہ اگر تم نیکی کروگے تواپنا ہی بھلا کروگے اوراگر بُرائی کرو گے تو اپنے لیے ہی بُرا کروگے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (یعنی) تمہاری عبادتوں سے میرا نفع نہیں اور تمہارے گناہوں سے میر ا نقصان نہیں ، بلکہ ان میں نفع نقصان خود تمہارا ہے۔دنیا کے کسی بڑے پرہیز گار کو لے لو پھر سوچو کہ اگر تمام جہان کا دل اس پرہیزگار کا سا ہوجائے اور ساری دنیا اس نیک و صالح کی طرح نیکیاں ہمیشہ کیا کرے۔ (تو اس میں ربّعَزَّ وَجَلَّکا کیا فائدہ؟ فائدہ تو ان تمام لوگوں کا ہے جو یہ نیکیاں کریں ۔) اس ترجمے سے یہ جملہ بالکل واضح ہوگیا، اس پر کوئی اعتراض نہ رہا۔لہٰذا کوئی شخص یہ سمجھ کر عبادت نہ کرے کہ میری عبادت سےربّتعالٰیکے خزانے بڑھ جائیں گے بلکہ اس کا احسان مانے کہ اس نے اپنے آستانے پر بلالیا۔ (سب کے نافرمان ہونے سے ربّعَزَّ وَجَلَّکا کوئی نقصان نہیں ۔) اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو پہلے جملے میں عرض کیا گیا کہ دنیا کے بادشاہوں کا رعایا کے بگڑ جانے سے نقصان ہوتا ہے، آمدنی میں کمی ہو جاتی ہے، خزانہ خالی رہ جاتا ہے۔ مگر ربّتعالٰیوہ بے نیاز ہے کہ ساری خلق کی بدکاری سے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ خیال رہے کہ یہ مضمون (یعنی تمام لوگوں کا نافرمان ہوجانا) ایسا ہی ہے جیسے ربّتعالٰی(آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قول نقل کرتے ہوئے ) فرماتا ہے : ’’ اگرربّتعالٰیکے اولاد ہوتی تو پہلے میں ہی اُسے پوجتا۔ ‘‘ نہ ربّتعالٰیکے اولاد ممکن ہے، نہ حضور انو رصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا اسے پوجنا ممکن ۔ایسے ہی تمام بندوں کا گنہگارہوجانا غیر ممکن ہے ، فرشتے، انبیاء معصومین (کہ ان سے گناہ ہوہی نہیں سکتا) اور اولیاء محفوظینبِفَضْلِہٖ تَعَالٰی(یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے) گناہ کرتے ہی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥کیااللہکےخزانے میں کمی ہوسکتی ہے؟حدیث پاک میں ہے :”اگر میں ہر شخص کا سوال پورا کردوں تو یہ میرے خزانوں کے مقابلے میں ایسا حقیر ہوگا جیسے سوئی کی تَری جب وہ دریا میں ڈبوئی جائے۔“ کیااللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانے میں بھی کمی ہوسکتی ہے؟ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :یعنی دریا وسمندر میں جب سوئی داخل کر کے نکالی جائے تو بظاہر دیکھنے میں اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی، اسی طرحاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانے سے ساری دنیا کو دینے سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اس لیے کہ یہ اس کی رحمت اور کرم ہے اور یہ دونوں قدیم صفات ہیں اور ان کی کوئی حد نہیں اور جو غیر متناہی ہوتا ہے اس میں کمی ہونا محال ہے برخلاف اُس شے کے جو متناہی ہو ، کیونکہ اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے جیسے سمندرکہ یہ زمین کی چیزوں میں سے سب سے بڑی شے ہے۔ بسا اوقات متناہی شے کا کثیر حصہ لے لینے سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی جیسے آگ اور علم۔ ان کو لینے سے کمی نہیں آتی بلکہ علم تو دینے سے اور بڑھتا ہے۔ لہذا یہ واضح ہوگیا کہ سوئی کی مثال کیوں دی گئی اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقت میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ مخلوق کو سمجھانے کے لیے بطورِ مثال کہا گیا ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اس قدر دینے سے بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خزانے میں اتنی سی بھی کمی نہیں آتی۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میری یہ عطا میرے خزانوں کو سوئی کی تری کی بقدر کم کردیں گے، وہاں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سورج ہزار ہا سال سے دنیا کو ر وشنی دے رہا ہے مگر اس کی روشنی میں مطلقاً کمی نہ ہوئی۔ جب ربّتعالٰیکی تجلیوں کا یہ حال ہے تو اس کے خزانو ں کا کیا حال ہوگا۔ اور یہ نسبت بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ ربّتعالٰیکے خزانے غیر محدود ہیں اور اس کی عطائیں محدود کیونکہ لینے والے محدود ا ور محدود کی غیر محدود سے نسبت کیسی؟ ‘‘ ( )
¥عدل فضل کے خلاف نہیں :حدیث پاک میں ہے:”میں تمہیں اَعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔“اس کی شرح میںمُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس طرح کہ نیک کار کی جزاء میں کمی نہ کروں گا اور بدکار کی سزا میں زیادتی نہ کروں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک کار کو زیادہ نہ دوں اور گنہگار کو معاف نہ کروں ۔ یہاں عدل کا ذکر ہے، عدل فضل کے خلاف نہیں ۔ لہٰذا حدیث واضح ہے نہ آیات قرآنی کے خلاف ہے اور نہ دیگر احادیث کے مخالف۔ ‘‘ ( )
¥خیر اور شر سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جو خیر کو پائے یعنی ثواب اور نعمتیں یا خوش باش حیاتِ طیبہ تو اُسے چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد بیان کرے اِس بات پر کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق بخشی جن پر یہ ثواب مرتب ہوا اور یہ اس کا فضل اور رحمت ہے۔اور جو اس کے علاوہ کوئی چیز پائے یعنی شر۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے لفظ شر کو ذکر نہیں فرمایا، ہمیں یہ بات سکھانے کے لیے کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جو بُرے لفظ ہوں انہیں زبان سے نہ نکالا جائے ، اسی طرح جو الفاظ اس کے مشابہ ہوں جن کو بُرا سمجھا جاتا ہو اور جن کو بولنے سے حیا کی جاتی ہو انہیں بھی زبان سے نہ نکالا جائے۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس لفظ کواللہ عَزَّ وَجَلَّبولنے سے اجتناب فرمارہا ہے اس میں پڑنااللہ عَزَّ وَجَلَّکو کتنا سخت ناپسند ہوگا۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّحَیٌّیعنی زندہ ہے، کریم یعنی کرم فرمانے والا ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے اور گناہوں کو بخشتا ہے ۔وہ کسی کی گرفت کرنے میں جلدی نہیں فرماتا اور نہ ہی کسی کا پردہ فاش فرماتا ہے۔اس کے بعد فرمایا ’’ جو شر کو پائے تو وہ پنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ کیونکہ اس نے رضائے الٰہی پر اپنی خواہشات اور لذات کو توجیح دی توعدل کے تقاضے کے مطابق وہ اسی چیز کا مستحق ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے محروم رہے ۔ ‘‘ ( )معاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یارب
ہو مغفرت پئے سلطانِ انبیاء یارب
بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یارب
پڑوس خلد میں سَرور کا ہو عطا یارب
¥نیکیاں ربّ کی توفیق، گناہ شامت نفس:مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّث کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خلاصہ یہ ہے کہ بندہ نیکیوں کو ربّ تعالی کی توفیق سے سمجھے اور گناہوں کو اپنی شامت نفس سے جانے۔ بلکہ ہر نقص کو اپنی طرف منسوب کرے اور کمال کو ربّ تعالی کی طرف۔ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا تھا: ’’وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِیعنی بیمار میں ہوتا ہوں شفاء وہ دیتا ہے۔ ورنہ خیر و شر کا خالق و مالکربّتعالٰیہی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں ۔وَالْقَدْرُ خِیْرُہُ وَشَرُّہُ مِنَ ﷲ تَعَالٰی۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
”گیارھویں “کي نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّظلم سے پاک و مُنَزَّہ ہےاور ظلم کو سختی سے ناپسند فرماتا ہے۔
(2) ظلم اتنا قبیح اور بُرا فعل ہے کہ اس کی حرمت پر دنیا کے تمام مذاہب ومسالک کا اجماع اور اتفاق ہے ۔
(3) ظلم کی بہت سی اقسام ہیں ، سب سے بڑا ظلماللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّہر گناہ کو معاف فرمادے گا لیکن شرک کو معاف نہ فرمائے گا۔
(4) ظالم بہت بدنصیب شخص ہے اور اس کی بدنصیبی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّظالم سے مظلوم کا بدلہ خود لیتا ہے۔
(5) انسان دینِ فطرت یعنی اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے لیکن بعد میں شیطان اسے گمراہ کر کے دیگر باطل مذاہب کی طرف پھیر دیتا ہے۔
(6) بندے کو چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ہدایت کا سوال کرتا رہے کہ جسے وہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
(7)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخلوق سے وہ تمام خطاب جن میں اُن کے گناہوں کا ذکر ہے، اُن سے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور فرشتے مراد نہیں ہیں کیونکہ یہ دونوں معصوم وگناہوں سے پاک ہیں ۔
(8)اللہ عَزَّ وَجَلَّبے نیاز ہے، بندوں کے گناہ کرنے یا نیکی کرنے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا، نیکیاں کرنے میں اس کے بندوں ہی کا فائدہ ہے اور گناہ کرنے میں بھی اس کے بندوں ہی کا نقصان ہے۔
(9) ربّعَزَّ وَجَلَّکے خزانے بہت وسیع ہیں ، اگر وہ اپنے خزانوں سے پوری دنیا کو بھی مالا مال کردے تو اس کے خزانے میں اتنی بھی کمی نہ ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے سمندر میں ہوتی ہے، اس لیے ربّعَزَّ وَجَلَّسے ہروقت اس کا فضل وکرم طلب کرتے رہنا چاہیے۔
(10) بندے کو اگر کوئی بھلائی پہنچے یا وہ کوئی نیک کام کرے تو اُسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق سمجھے نیز اس کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
(11) اگر بندے کو کوئی بُرائی پہنچے تو اُسے چاہیے کہ اپنے آپ کو ملامت کرے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظلم جیسے بڑے اور بُرے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں تمام گناہوں سے بچنے، دوسروں کو بچانے، نیکیاں کرنے اور دوسروں کو ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اُٹھیں
بچانا ظلم وستم سے مجھے سدا یاربصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 111