- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 102
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ، اَلْاَنْصَارِیْ الْمَعْرُوْف بِصَاحِبِ سِرِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ:صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَۃَ، فَقُلْتُ یَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَۃِ، ثُمَّ مَضَی، فَقُلْتُ یُصَلِّیْ بِہَا فِیْ رَکْعَۃ، فَمَضٰی، فَقُلْتُ یَرْکَعُ بِہَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَاَہَا، ثُمَّ افْتَتَحَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَرَاہَا، یَقْرَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِاٰیَۃٍ فِیْہَا تَسْبِیْحٌ سَبَّحَ، اِذَا مَرَّ بِسُوَالٍ سَاَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، فَکَانَ رُکُوْعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ قِیَاماً طَوِیْلًا قَرِیْبًا مِمَّا رَکَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی، فَکَانَ سُجُوْدُہُ قَرِیْبًا مِنْ قِیَامِہِ. ( )
عن ابی عبد اللہ حذیفۃ بن الیمان، الانصاری المعروف بصاحب سر رسول اللہ رضی اللہ عنہما، قال:صلیت مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذات لیلۃ، فافتتح البقرۃ، فقلت یرکع عند المائۃ، ثم مضی، فقلت یصلی بہا فی رکعۃ، فمضی، فقلت یرکع بہا، ثم افتتح النساء، فقراہا، ثم افتتح ال عمران فقراہا، یقرا مترسلا اذا مر بایۃ فیہا تسبیح سبح، اذا مر بسوال سال، واذا مر بتعوذ تعوذ، ثم رکع فجعل یقول: سبحان ربی العظیم، فکان رکوعہ نحوا من قیامہ ثم قال: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنالک الحمد، ثم قام قیاما طویلا قریبا مما رکع، ثم سجد فقال: سبحان ربی الاعلی، فکان سجودہ قریبا من قیامہ. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابوعبد اللہحذیفہ بن یمان انصاریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجو کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صاحبِ سِر یعنی ہمراز ہونے کے لقب سے معروف ہیں ، فرماتے ہیں کہ میں نے ایک راتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کا
شرف حاصل کیا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ بقرہشروع فرمائی، میں نے دل میں کہا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو 100آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل پڑھتے رہے۔میں نے خیال کیا کہ اب آپ رکوع میں جائیں گے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سورۂ نِساء شروع فرما دی اور اسے مکمل پڑھا پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ آلِ عمرانشروع فرما دی اور اسے بھی مکمل پڑھا، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، جب آپکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح ہوتی تو آپ تسبیح پڑھتے (یعنیسُبْحٰنَ اللہِکہتے) اور جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال (اللہ عَزَّوَجَلَّسے مانگنے) کا ذکر ہوتا تو آپ سوال فرماتے اور جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میںتَعَوُّذْ(یعنی پناہ مانگنے ) کا ذکر ہوتا تو آپاللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے ۔پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رکوع فرمایا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِپڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور تقریبًا اتنی دیر کھڑے رہے کہ آپ کا قومہ رکوع کے برابر ہوگیاپھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سجدہ کیا اورسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھتے رہے آپ کا سجدہ بھی تقریبًا قیام کے برابر تھا۔
شرح حدیث
سَیِّدُنَاحذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا تعارف:آپ کا نام حذیفہ، کنیت ابوعبداللہاور والد کا نامحُسَیْل اَلْیَمَانہےرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ حضرت حذیفہ اور آپ کے والد دونوں مسلمان تھے، دونوں غزوۂ اُحد میں حاضر ہوئے مگر آپ کے والد غلطی سے مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفقیہ اور اہل فتویٰ صحابہ میں سے تھے۔ منافقین کے بارے میںرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراز تھے، مستقبل میں ہونے والے ظاہری اور باطنی فتنوں کے بارے میں با خبر تھے، کفار کے خلاف جہاد میں آپ کے عظیم الشان کارنامے ہیں ۔اسلامی فتوحات میں آپ نے بہت اہم کردار ادا کیا، بڑے بڑے علاقے آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوئے، الجزائر کی فتح میں بھی آپ شریک تھے۔ امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ کو مدائن کا حاکم بنایا۔ ایک دن سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سب سے یوچھا کہ آج اپنی اپنی تمنا بیان کرو۔پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ میری خواہش یہ ہے کہ مجھے ابو عُبَیْدَہ بن جَراح، مُعَاذ بن جَبَل اور حُذَیْفَہ بن یَمَانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجیسے لوگ مل جائیں تاکہ میں انہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں استعمال کروں ۔ ‘‘ (یعنی انہیں مختلف علاقوں کا حاکم بنادوں ۔) سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی احادیث مبارکہ کی تعداد سو 100سے زائد ہے، ان میں سے بارہ12 متفق علیہ ہیں یعنی جنہیں سَیِّدُنَا امام بخاری وامام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَادونوں نے روایت کیا ہے۔ان کے علاوہ آٹھ8 اَحادیث فقط امام بخاریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اور سترہ17اَحادیث فقط امام مسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے روایت کی ہیں ۔آپ کا وصال 36 سنِ ہجری میں امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے وِصالِ پُرملال کے چالیس40 دن بعد مدینہ منورہ میں ہوا۔ ( )¥حبیب خداکے ہمراز:حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہمراز اس لیے کہاجاتا تھا کہ آپ منافقین کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے تھے کہ کون کون منافق ہے ؟ اور یہ معلومات آپ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا یہاں تک کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منافقین کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔( )¥نوافل میں اقتداء کرنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں چند اہم باتوں کا بیان ہے :سب سے پہلے تو نفل نماز کی جماعت کا بیان، اس کے بعد سورتوں کی ترتیب کا مسئلہ، پھرنماز کے درمیان تسبیح، حمد اور تعوذ کا بیان اور آخر میں ایک اہم وضاحت۔ حدیث پاک کی شرح میں یہ تمام مسائل ترتیب وار بیان کیے جائیں گے۔ ابتداءً یہ بات جاننا مناسب ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاحذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتداء میں جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نمازتھی۔چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نماز تھی۔ مذکورہ حدیث پاک اور اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی جو حدیث آرہی ہے یہ دونوں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نوافل میں اقتداء کرنا اور صلوۃ اللیل کو طویل کرنا دونوں جائز ہیں ۔ ( )
¥نفل کی جماعت کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نوافل کی جماعت میں اگر امام کے سوا تین آدمی ہوں تو بلا اختلاف جائز ہے ا ورتین سے زیادہ ہوں تو مکروہ تنزیہی ، خلاف اولیٰ ہے یعنی نہ کرنا بہتر ہے لیکن کی جائے تو کوئی ناجائز و گناہ نہیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً جائز ہے بلکہ بہت سے اَ کابرِ دین سے نوافل کی جماعت ثابت ہے اور متأخرین فقہاء نے لوگوں کی نیکیوں کی طرف رغبت کم ہونے کی وجہ سے نوافل کی جماعت کے جواز ہی کا فتویٰ دیا ہے کہ عوام کو نمازسے دُورکرنے سے زیادہ بہتریہ ہے کہ انہیں نمازکی طرف راغب رکھاجائے اور اس سے بالکل منع نہ کیا جائے ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنارشاد فرماتے ہیں : ’’ نفل غیرتراویح میں امام کے سواتین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چارکی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کاحاصل خلاف اولیٰ ہے نہ کہ گناہ حرام۔کَمَابَیَّنَّاہُ فِیْ فَتَاوَانَا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاویٰ میں بیان کیا) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اوربہت اکابردین سے جماعت نوافل بِالتَّدَاعِی ثابت ہے اورعوام فعلِ خیرسے منع نہ کیے جائیں گے۔ علمائے اُمَّت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایاہے درمختارمیں ہے:بحرعوام کو تکبیرات اورنوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔حدیقہ ندیہ میں ہے:اسی قبیل سے نمازغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنااورلیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگر عوام میں یہ فتویٰ نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیاہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جوازپرلکھا ہے ، عوام کونمازکی طرف راغب رکھناانہیں نفرت دلانے سے کہیں بہترہوتاہے۔ ‘‘ ( )
¥خلافِ ترتیب قراءت کا مسئلہ:مذکورہ حدیث میںرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےپہلے سورۂ بقرہ پڑھی پھر سورۂ نساء پڑھی اس کے بعد سورۂ آلِ عمران پڑھی جبکہ قرانی ترتیب کے لحاظ سے سورۂ آلِ عمران، سورۂ نساء سے پہلے آتی ہے، اسی وجہ سے فقہائے کرام کے مابین یہ اختلاف واقع ہوا کہ آیا نماز میں خلافِ ترتیب قرآن پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ شوافع کے نزدیک کسی بھی مقام پر خلافِ ترتیب قرآن پڑھنا مطلقاً جائز ہےکیونکہ اس سے کسی بھی حدیث میں منع نہیں فرمایا گیا، نیز یہ ترتیب توقیفی نہیں بلکہ اجتہادی یعنی بعد میں کی گئی ہے۔ ( ) جبکہ احناف کے نزدیک فرض نماز میں خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی اورنفل میں جائز ہے۔نیز احناف کے نزدیک سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اورحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے ہے، مصحفِ عثمانی کو اُسی ترتیب پر مرتب کیا گیا جورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیان فرمائی ۔ ( )
صدر الشریعہ، بدرالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ترتیب کے ساتھ قران مجید پڑھنا واجب ہے اور خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یہ حکم فرائض کا ہے اور نوافل میں خلاف ترتیب پڑھنے کی اجازت ہے ۔ ‘‘ ( ) نماز میں خلاف ترتیب پڑھنا مکروہ تحریمی ہے مگر کسی نے بھول کر خلاف ترتیب پڑھ لیا تو اس سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا اور نہ ہی نماز کا اعادہ لازم ہے کہ یہ واجباتِ قراءت میں سے ہے واجباتِ نماز میں سے نہیں ۔البتہ کسی نے جان بوجھ کر خلافِ ترتیب پڑھا تو گنہگار ضرور ہوگا اور اگر بعدوالی سورت پڑھنے کا اِرادہ تھا لیکن غیر اِرادی طور پر پہلے والی سورت شروع کردی تو اب خلافِ ترتیب ہونے کے باوجود گنہگار نہ ہوگا کہ غیر اِرادی طور پر خلاف ہوا، البتہ اب یہی سورت پڑھنا ہوگی کہ اس کو شروع کرنے سے اس کا حق ہوگیا اور اب اسے چھوڑنا قصداً چھوڑنا ہوگا۔ چھوٹے بچوں کو ضرورت تعلیم کی وجہ سے خلافِ ترتیب پڑھانا جائز ہے۔ ‘‘ ( )
¥دورانِ نماز تسبیح، تحمید اور تَعَوُّذ کا حکم:حدیث پاک میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ’’ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح بیان کرتے ، سوال ہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کرتے اورتَعَوُّذہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے ۔ ‘‘ اسی طرح بعض احادیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ ’’ جس آیت میں جنت یا دیگر نعمتوں کا تذکرہ ہوتاتو آپ بارگاہ الٰہی سےجنت اور نعمت کا سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے یا جہنم کا ذکر ہویا پھر وعید کا ذکر ہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ طلب کرتے۔ ‘‘
واضح رہے کہ امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے نزدیک فرائض ونوافل میں دورانِ تلاوت تسبیح، تحمید اور تَعَوُّذ کرنا مطلق جائز ہے جبکہ اَحناف اور مالکیہ کے نزدیک نوافل میں مطلق جائزہے اور فرض میں خلافِ اَولیٰ، نیز حدیث پاک میں جس نماز کا ذکر ہے وہ بھی نفل نماز تھی۔چنانچہمُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہاں نفل نماز مراد ہے فرائض میں دَورانِ قراءت ٹھہرنا اور مانگنا مستحب کے خلاف ہے اگرچہ جائز ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ حدیث پاک نفل نماز پر محمول ہے۔ صاحب محیط فرماتے ہیں کہ انفرادی طورپر نفل پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ جب وہ ایسی آیت پڑھے جس میں جہنم کا ذکر ہو تووہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگے اور جس آیت میں جنت کا ذکر ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّسے جنت کا سوال کرےاور صاحب محیط اس حدیث پاک کی بناء پر اس عمل کو مستحب کہتے ہیں ۔ اور اگر نفل جماعت کے ساتھ ادا کیے جارہے ہیں تو امام و مقتدی دونوں کے لیےایسا کرنا مکروہ ہے۔ امام کے لیے اس وجہ سے مکروہ ہے کہ اس سے نماز طویل ہوگی اور نمازیوں پر یہ شاق ہوگا اور مقتدی کے لیے اس بناء پر مکروہ ہے کہ اسے تو امام کی قراءت سننے اور تلاوت کےوقت خاموش رہنے کا حکم ہے ۔ نیز اگر کوئی شخص اِنفرادی طورپر فرض نماز ادا کررہا ہے تواس کے لیے بھی قراءت کے درمیان میں تسبیح، تحمید اور تعوذ کرنا مکروہ ِ (تنزیہی وخلافِ اَولیٰ) ہے کیونکہ اس سےتلاوت قرآن پاک کا تسلسل منقطع ہوگا اور یہ مکروہ ہے۔ نفل نماز میں یہ نص سے ثابت ہے اس لیے وہاں یہ حکم نہ ہوگا۔ ( )
¥تسبیحاتِ رکوع و سجودکی قرآن سے مُوافقت:حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب رکوع میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ“پڑھتے اور جب سجدے میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی“ پڑھتے۔ رکوع و سجود کی یہ تسبیحات بھی قرآنِ کریم کی موافقت میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو عطا فرمائیں ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا عُقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں : ’’ جب یہ آیت نازل ہوئی: (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ (۷۴)) (پ۲۷، الواقعہ:۷۴) تورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں شامل کرلو اور جب یہ آیت نازل ہوئی: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ (۱)) (پ۳۰، اعلی:۱) نازل ہوئی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں شامل کر لو۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّاناس کے تحت فرماتے ہیں : ’’ (رکوع یا سجدے میں شامل کرنے سے مراد یہ ہے) یعنی رکوع میں کہو:سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْماور سجدے میں کہو:سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ ‘‘ ( )
¥ایک لطیف نکتہ:یہاں ایک لطیف نکتہ قابل ذکر ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْمرکوع کے ساتھ اورسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکو سجدے کے ساتھ خاص فرمایا اس کا عکس نہ فرمایا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ لفظ ’’ اعلیٰ ‘‘ لفظ ’’ عظیم ‘‘ سے زیادہ بلیغ ہے اور رکوع کے مقابلے میں سجدے میں زیادہ تواضع و انکساری ہے۔ اس لیے عاجزی میں جو لفظ زیادہ بلیغ ہے اُسے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسجدے کے لیے مُعَیَّن فرمادیا اور سجدے میں بندہ اپنے ربّ کا زیادہ قرب پاتا ہے اس لیے اس میں اعلیٰ تسبیح پڑھنا مستحب ہے۔ ‘‘ ( )
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رکوع و سجود کے اَذکار کوئی اور تھے ۔چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں کے نزول سے پہلےمسلمان رکوع وسجدوں میں کوئی اور ذکر کرتے تھے۔ ‘‘ ( )
¥ایک اہم وضاحت:مذکورہ حدیث مبارکہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طویل رکوع وسجود کا ذکر ہے جبکہ بعض احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ آپ کے رکوع وسجود طویل نہ ہوتے تھے۔دونوں طرح کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ جن احادیث میں رکوع وسجود کی طوالت کابیان ہے ان میں نوافل کی نماز مراد ہے اور جن میں طویل نہ ہونے کا بیان ہے ان میں فرض نماز مراد ہے۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ان کے سوا باقی اَرکان رکوع سجدہ وغیرہ برابر ہوتے تھے نہ بہت دراز نہ بہت مختصر بلکہ درمیانے، یہ عام (یعنی فرض) نمازوں کا ذکر ہے، (جبکہ) سورج گرہن کی (نفل) نماز میں رکوع سجدہ، قیام کے برابر تھے۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول(1) حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ عظیم سعادت حاصل تھی کہ منافقین کے متعلق آپرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراز تھے۔
(2) نماز تہجد کی ادائیگی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظیم سنت ہے۔
(3) نوافل میں اقتداء کرنا اور نماز تہجد کو طویل کرنا دونوں سنت سے ثابت ہیں ۔
(4) قرآنی سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اس لیے فرض نماز میں خلاف ترتیب سورتوں کی تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے البتہ سجدۂ سہو کا حکم نہ ہوگا کہ یہ قراءت کے واجبات میں سے ہے نماز کے نہیں ۔
(5) نوافل میں خلافِ ترتیب قراءت کرنا جائز ہے کہ یہ نص سے ثابت ہے۔
(6) چھوٹے بچوں کو ضرورتِ تعلیم کی وجہ سے خلافِ ترتیب پڑھانا جائز ہے۔
(7) رکوع میںسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْماور سجدے میںسُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھنا سنت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، ہمیں نماز تہجد کی ادائیگی جیسی عظیم سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 102