- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 107
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ ، وَیُقَالُ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ، فَاِنَّکَ لَنْ تَسْجُدَلِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً، وَحَطَّ عَنْکَ بِہَا خَطِیْئَۃً. ( )
عن ابی عبد اللہ ، ویقال ابو عبد الرحمن ثوبان مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:علیک بکثرۃ السجود، فانک لن تسجدللہ سجدۃ الا رفعک اللہ بہا درجۃ، وحط عنک بہا خطیئۃ. ( )
حدیث ترجمہ
حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےآزادکردہ غلام حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہیا ابوعبدالرحمٰن ثوبانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سنا: ’’ تم پر سجدوں کی کثرت کرنا لازم ہے کیونکہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے جب بھی سجدہ کروگے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس سجدے کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹادےگا۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کا پس منظر:حضرت سَیِّدُنَا مَعْدَان بن طَلحہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں حضور رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غلام حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ملا اور ان سے پوچھا: ’’ مجھے ایسا عمل بتائیے جس کو کرنے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے جنت میں داخل کردے یا وہ عمل جواللہ عَزَّ وَجَلَّکو سب سے زیادہ محبوب ہو۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔میں نے پھر پوچھا تو بھی آپ خاموش رہے، جب میں نے تیسری بار پوچھا تو فرمایا: ’’ میں نے اس بارے میں حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا تھا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم پر سجدوں کی کثرت کرنا لازم ہے کیونکہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے جب بھی سجدہ کروگے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس سجدے کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹادےگا۔ ‘‘ ( )
¥سَیِّدُنَاثوبان کے دو مرتبہ خاموش رہنے کی وجہ:
حضرت سَیِّدُنَا مَعدان بن طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جب حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے سوال کیا تو آپ دو2 مرتبہ خاموش رہے اور تیسری بار پوچھنے پر جواب دیا۔مُفَسِّر شہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیر، حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننےاس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے تین بار یہ سوال کیا تھا، دو2بارسرکار خاموش رہے تھے اور تیسری بار میں جواب دیا تھا۔ اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی دو2بار خاموش رہے۔ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ خاموشی سائل کا شوق بڑھانے کے لیے اور حضرت سَیِّدُنَا ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خاموشی سنت پر عمل کرنے کے لیے تھی۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ عادت تھی کہ وہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَداؤں کی نقل کرتے تھے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدکثرتِ سجود کے حکم کی حکمتیںمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کثرت سے سجدے کرنے کا حکم اِرشاد فرمایا۔ شارِحین حدیث نے اس کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں ۔چند حکمتیں پیش خدمت ہیں :
¥سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب ہے۔) اِس کی تائید شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک دوسرے فرمان سے بھی ملتی ہے جس میں اِرشاد فرمایا: ’’ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے ربّ کے سب سے قریب ہوتا ہے ۔ ‘‘ اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی موافقتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے بھی ہوتی ہے: (وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ (۱۹)) (پ۳۰، العلق:۱۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہو جاؤ۔ ‘‘ ( )
¥سجدے میں عجزواِنکساری ہے:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ سجدے میں انتہا درجے کی تواضع اور اِنکساری پائی جاتی ہے اور سجدے میں بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اپنی عبودیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں آدمی اپنے جسم کے سب سے زیادہ قابل احترام حصے یعنی اپنے چہرے کو ایک ادنیٰ سی چیز جسے لوگ اپنے پیروں اور جوتوں تلے روندتے ہیں یعنی مٹی سے آلودہ کرکے ربّتعالٰیکی بارگاہ میں اپنی حقارت اور پنی ذات کے اَدنیٰ ہونے کا اِظہار کرتا ہے۔ ‘‘ ( )¥سجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت:سجدوں کی کثرت کے حکم کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ سجدہ بذاتِ خود ایک عبادت ہے جبکہ قیام اور رکوع نماز میں تو عبادت ہیں لیکن نمازکے علاوہ عبادت نہیں ۔مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْر، حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ صرف سجدہ بھی عبادت ہے مگر صرف رکوع اور قیام عبادت نہیں بلکہ یہ نماز میں عبادت ہے۔ ‘‘ ( )
¥سجدوں کی کثرت کا معنی:مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی پاک، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سجدوں کی کثرت کا حکم دیاہے اور یہ وہ سجدے ہیں جو اخلاص کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنےکے لیے کیے جائیں اور ان سجدوں کی ادئیگی نمازوں کی کثرت، سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر ادا کرکے ہوگی۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اِن سجدوں کی ادائیگی اِس طرح ہوگی کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے کثرت سے نماز ادا کی جائے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینقل فرماتے ہیں : ’’ سجدوں کی کثرت کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز میں کثرت سے سجدے کرو، سجدۂ تلاوت کرو اور سجدۂ شکر بجالایا کرو۔ ‘‘ ( )
¥سجدوں کی کثرت عظیم مَراتب کا سبب:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّان سجدوں کی کثرت سے بندے کو عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا اور درگاہِ قُرب و عظمت میں اعلیٰ مقام پر فائز فرمائے گا۔ یہ سجدہ معاصی یعنی گناہوں اور سیئات یعنی بُرے اَعمال کی معافی کا سبب بھی ہے، رفع درجات یعنی درجات کی بلندی اور زیادتِ حسنات یعنی نیکیوں میں زیادتی کا موجب بھی اور یہ سجدہ ان دونوں طریقوں کے ذریعے بندے سے ضرر و نقصان کو دور کرکے اسے نفع سے ہمکنار کرتا اور فلاح و نجات سے بہر ور کرتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥سجدے کے سبب گناہوں کی معافی:حدیث پاک میں سجدہ کرنے کی فضیلت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سجدہ کرنے والے کا ایک گناہ معاف کردیا جاتاہے۔یہاں کونسا گناہ مراد ہے؟مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیر، حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ سجدہ گناہوں کاکفارہ ہے مگر گناہوں سے مرادحقوق ﷲکے گناہ صغیرہ ہیں ، حقوق العباد ادا کرنے سے اور گناہ کبیرہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥سجدے سے متعلق بزرگانِ دین کے اَحوال و اَقوالمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سجدہ ایک عظیم عبادت ہے، بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنسجدوں کی کثرت فرمایا کرتے تھے۔ چند بزرگانِ دین کے احوال پیش خدمت ہیں :
¥روزانہ ایک ہزار 1000سجدے:حضرت سیِّدُنا علی بنعبد اللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے متعلق منقول ہے کہ آپ ہر روز ایک ہزار1000 سجدے کرتے تھے اور لوگ انہیں ”سجَّاد“ یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والا کہتے تھے۔ ( )جوانی کے سجدے قابل رشک:حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسباطرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(بڑھاپے میں ) فرمایاکرتے تھے: ’’ اے نوجوانوں کے گروہ! مرض سے پہلے صحت میں جلدی کرو، میں صرف اس شخص پر رشک کرتا ہوں جورکوع وسجود کوپورا کرتا ہے جبکہ میرے اور سجدے کے درمیان رُکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ ‘‘ ( ) (یعنی میں بوڑھا ہوگیا ہوں ۔)کسی چیز پر افسوس نہیں ہوتا:حضرت سَیِّدُنَا مَسروقرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہفرماتے ہیں : ’’ مجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے سجدہ کرنے کے سوا دنیا کی کسی چیز کے چھوٹنے پر افسوس نہیں ہوتا۔ ‘‘ ( )سجدے میں قرب الٰہی کی زیادتی:حضرت سیِّدُنا عُقبہ بن مسلمرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہفرماتے ہیں : ’’ بندے کی کوئی خصلتاللہ عَزَّ وَجَلَّکو اس سے زیادہ پسند نہیں کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسےملاقات کو پسند کرے اوربندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں سجدہ کرنے کے علاوہ کسی گھڑی میں اس کا زیادہ قرب نہیں پاتا۔ ‘‘ ( )سجدے میں دعائیں زیادہ مانگو:حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ’’ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب سجدے کرتا ہے، لہٰذا اس میں دعائیں زیادہ مانگو۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
”جنت البقيع“کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)سجدہ صرف وہی مقبول ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا جائے۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کثرت سے سجدے کرنے کا حکم دیا ہے، اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کرے چاہے زیادہ رکعتیں ادا کرکے یا سجدۂ شکر کی کثرت کرکے یا سجدۂ تلاوت کرکے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں سجدہ کرنے سے ایک درجہ بلند ہوتا اور ایک صغیرہ گناہ معاف ہوتا ہے۔
(4) سجدہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا قُرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(5) سجدے کے ذریعے بندہ ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنی عاجزی اور اِنکساری کا اظہار کرتا ہے اور ربّ کو اپنے بندے کا یہ فعل بہت پسند ہےکہ وہ اس کے سامنے اپنی محتاجی کا اعتراف کرے۔
(6) سجدہ، نماز وغیر نماز دونوں میں عبادت ہے جبکہ قیام و رکوع، بغیر نماز کے عبادت نہیں ۔
(7) مبلغین وواعظین ودرس دینے والوں کو چاہیے کہ نیک اعمال کا حکم دیتے ہوئے ان کے فضائل بھی ذکر کریں کہ اُن فضائل کو سن کر اُن اعمال کی طرف رغبت زیادہ ہوگی۔
(8) صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور رحمت عالَم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر ادا کو ادا کرتے تھے جیساکہ حضرت ثوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کیا۔
(9) سجدے کی حالت میں بندے کو ربّعَزَّ وَجَلَّکا قُرب زیادہ حاصل ہوتا ہے لہٰذا اس میں دعائیں بھی زیادہ مقبول ہوتی ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بارگاہ میں سجدوں کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، سجدوں کی برکت سے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 107