Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 110

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍ واَلْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ اٰیَۃُ الصَّدَقَۃِ کُنَّا نُحَامِلُ عَلٰی ظُہُوْرِنَا، فَجَاءَرَجُلٌ فَتَصَدَّقَ بِشَیْء ٍ کَثِیْرٍ فَقَالُوْا: مُرَائٍ، وَجَاءَ رَجُلٌ اٰخَرُ فَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ فَقَالُوْا:اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَاعِ ہَذَا! فَنَزَلَتْ: (اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ ) اَلْاٰیَۃَ. ( )

عن ابی مسعود عقبۃ بن عمر والانصاری البدری رضی اللہ عنہما قال:لما نزلت ایۃ الصدقۃ کنا نحامل علی ظہورنا، فجاءرجل فتصدق بشیء کثیر فقالوا: مرائ، وجاء رجل اخر فتصدق بصاع فقالوا:ان اللہ لغنی عن صاع ہذا! فنزلت: (الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقت و الذین لا یجدون الا جهدهم ) الایۃ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابومَسْعُود عُقْبَہ بِن عَمرو اَنصارِی بَدریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ جب آیتِ صدقہ نازل ہوئی تو ہم لوگ مزدوری کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک شخص آیا اور اس نے کثیرمال صدقہ کیا تو منافقین بولے : ’’ یہ ریا کار ہے۔ ‘‘ ایک دوسرا شخص آیا، اس نے ایک صاع صدقہ کیا تو منافقین نے کہا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ایک صاع سے مستغنی یعنی بے پر واہ ہے۔ ‘‘ تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ(پ۱۰، التوبۃ:۷۹)ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔

شرح حدیث

آیتِ صدقہ سے مراد کونسی آیت ہے؟مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ جب ’’ آیت صدقہ ‘‘ نازل ہوئی تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنی استطاعت کے مطابق بارگاہ رسالت میں اپنا اپنا صدقہ پیش کیا۔ یہ آیت صدقہ سورۂ توبہ کی آیت نمبر۱۰۳ ہے، جس میں ارشاد ہوتا ہے:خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-(پ۱۱، التوبۃ:۱۰۳)ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل (وصول) کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو۔ ( )
¥
مَزدوری کرکے صدقہ کرنا:شارح حدیث علامہ سید محمود احمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور سید عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان مبارک سے صدقہ و خیرات کی ترغیب و تلقین پاکر صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْناپنی وُسعت و ہمت کے مطابق خیرات کرتے تھے۔ بعض صحابہ امیر تھے وہ بڑی بڑی رقمیں راہِ خدا میں دیتے تھے اور جو غریب تھے وہ بھی محنت مزدوری کرکے کچھ کمالاتے اور اس میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے تاکہ صدقے کے ثواب سے محروم نہ رہ جائیں ۔ ‘‘ ( )کثیر مال خرچ کرنے والے صحابی:حدیث مذکور میں ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ترغیب سے ایک صحابیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کثیر مال صدقہ کیا۔ وہ صحابی کون تھے اور انہوں کتنا مال صدقہ کیا؟ اس کے متعلق فقیہ اَعظم حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق اَمْجَدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے کہ چار ہزار4000 یا آٹھ ہزار8000 (درہم) پیش فرمایا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُچار ہزار درہم لے آئے جو اس دن آپ کے کل اثاثے کا نصف تھا اور اسی دن حضرت سَیِّدُنَا عاصم بن عدی بن عَجلانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سو 100 وسق (کم وبیش چھ سو پندرہ 615مَن) کھجوریں صدقہ کیں ۔ ‘‘ ( )
¥
صحابۂ کرام پر طعن کرنے والے منافقین:جب حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنا صدقہ لے کربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو منافقین بولے : ’’ یہ ریاکارہے۔ ‘‘عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ یہ منافقین مُعَتِّبْ بن قشیر اور عبد الرحمٰن بن نَبْتَل تھے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکااللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنا ذاتی مال صدقہ کرنا ان مقدس ہستیوں کی اعلیٰ صفات میں سے ہے، مگر منافقین نے اسے عیب شمار کیا، معلوم ہوا کہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجیسی عظیم ہستیوں میں عیب تلاش کرنا اور انہیں بیان کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے عُشَّاق اُن کے عُیُوب نہیں بلکہ اُن کی اعلیٰ صفات کو بیان کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ¥ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی:ایک صاع صدقہ کرنے والے صحابی حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن جریررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک روایت ذکر کی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کھجور کی شاخوں کا ایک گٹھر اپنی پیٹھ پر لاد کر دو صاع کھجوروں کے عوض ایک مقام سے دوسرے مقام پر پہنچایا۔ پھر دو صاع میں سے ایک صاع گھروالوں کو دے دیا تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کریں اور دوسرا صاع بارگاہ رسالت میں لایا ہوں تاکہ اس کے ذریعے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قرب حاصل کر سکوں ۔ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اسے صدقے پر ڈال دو۔ ‘‘ اس پر کچھ لوگوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس مسکین کے صدقے سے غنی ہے۔اس پر قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ(پ۱۰، التوبۃ:۷۹)ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے۔ ( )
¥
رسول اللہکے قُرب کے لیے صدقہ کرنا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے صدقہ کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ اس دوسرے صاع کو راہِ خدا میں خرچ کرکے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قُرب حاصل کر سکوں ۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامیااللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ کے کسی بھی مقبول بندےکے تقرب کے لیے کوئی عمل کرنا بالکل جائز اور باعث اجر وثواب ہے۔ اگر اس عمل میں کوئی قباحت ہوتی تو نہ ہی سَیِّدُنَا ابو عَقیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخود یہ کام کرتے اور نہ ہی کسی کے سامنے بیان فرماتے، نیزرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود اس بات سے آپ کو منع فرمادیتے۔ اسی طرح آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے جن دوستوں کے سامنے اس بات کا تذکرہ فرمایا وہ بھی آپ کو منع کردیتے کہ ایسا کرنا تو جائز نہیں ہےلیکن کسی نے بھی اِس کا اِنکار نہ فرمایا اور نہ ہی منع کیا جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ کوئی بھی عملاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ کے مقبول بندوں کے تَقَرُّب کے لیے کرنا بالکل جائز ہے۔ جو لوگ اس بات پر مسلمانوں کو کافرومشرک ٹھہراتے ہیں ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ شرک تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ، صِفات یا عِبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانے کا نام ہے جبکہ کسی نبی یا ولی کا تَقَرُّب حاصل کرنے کے لیے کچھ کرنے میں نہ تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، نہ اس کی صفات میں اور نہ ہی عبادت میں تو پھر یہ عمل شرک کیسے ہوگیا؟اللہ عَزَّ وَجَلَّہدایت نصیب فرمائے۔ آمین ( )
¥
راہِ خدا میں خرچ کرنے کےفضائل:راہ ِخدا میں خرچ کرنے کے فضائل پر تین اَحادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں :
(1) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: ’’ ہرروز دو2 فرشتے اُترتے ہیں ، ان میں سے ایک کہتا ہے: اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! خرچ کرنے والے کو جزا عطا فرما۔ اور دوسرا کہتا ہے: اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اپنا مال روک کر رکھنے والے کا مال ضائع فرما۔ ‘‘ ( )
(2) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کرنے کی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی عزت بڑھاتا ہے اور جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر انکساری کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا فرماتا ہے۔‘‘ ( )
(3) حضرت سَیِّدُنَا خُرَیْم بن فاتِک
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں کچھ خرچ کرے اس کے لیے سات سو گنا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
صدقہ کرنے کے پچیس25فوائد:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!راہِ خدامیں صدقہ کرنے کے جہاں اُخروی فوائد ہیں وہیں دنیا میں بھی اس کی بے شمار برکتیں ہیں ۔اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے فتاویٰ رضویہ شریف میں راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے، مسلمانوں کو کھانا وغیرہ کھلانے سے متعلق ساٹھ احادیث بیان فرمائیں اور پھر ان کے درج ذیل پچیس25دُنیوی واُخروی فوائد بیان فرمائے :
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے بُری موت سے بچیں گے، ستّر دروازے بُری موت کے بند ہوں گے۔ (2) عُمريں زیادہ ہوں گی۔ (3) صدقہ وخیرات کرنے والوں کی گنتی بڑھے گی۔ (4) رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی، صدقےکی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔ (5) خير و برکت پائيں گے۔ (6) آفتیں بلائيں دور ہوں گی، بُری قضا ٹلے گی، ستر70دروازے برائی کے بند ہوں گے، ستر 70قسم کی بلائیں دور ہوں گی۔ (7) اُن کے شہر آباد ہوں گے۔ (8) شکستہ حالی دور ہوگی۔ (9) خوف انديشہ زائل اور اطمينانِ خاطر حاصل ہوگا۔ (10) مدد الٰہی شامل ہوگی۔ (11) رحمتِ الٰہی ان کے ليے واجب ہوگی۔ (12) ملائکہ اُن پر درود بھیجیں گے۔ (13) رضائے الٰہی کے کام کريں گے۔ (14) غضبِ الٰہی ان پرسے زائل ہوگا۔ (15) ان کے گناہ بخشے جائيں گے، مغفرت ان کے لیے واجب ہوگی، اُن کےگناہوں کی آگ بجھ جائے گی۔ (16) خدمتِ اہل دين میں صدقہ سے بڑھ کر ثواب پائيں گے۔ (17) غلام آزاد کرنے سے زيادہ اجر لیں گے۔ (18) ان کے ٹیڑھےکام درست ہوں گے۔ (19) آپس ميں محبتیں بڑھیں گی جو ہر خير و خوبی کی متبع ہيں ۔ (20) تھوڑے خرچ میں بہت کا پیٹ بھرے گا ۔ (21)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور درجے بلند ہوں گے۔ (22) مولیٰ تبارک وتعالٰیملائکہ سے ان کے ساتھ مباہات فرمائےگا۔ (23) روزِ قيامت دوزخ سے امان میں رہيں گے، آتش دوزخ ان پر حرام ہوگی۔ (24) آخرت میں احسانِ الٰہی سے بہرہ مند ہوں گے کہ نہايتِ مَقاصد وغايتِ مُرادات ہے۔ (25) خُدا نے چاہا تو اُس مبارک گروہ میں ہوں گے جو حضور پُر نور سيد عالَم سرورِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نعل اقدس کے صدقے ميں سب سے پہلے داخل جنّت ہوگا۔ ‘‘ ( )
¥
صدقے سے متعلق تین حکایات
(1) امتحان میں کامیاب ہونے والا نوجوان:
حضرت سیِّدُنا عِکرمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدارشخص تھا جو اپنا مال بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتا تھا، وہ اپنی بیوی اور ایک بیٹے کو چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیاتو اس کی بیوی نے دل میں کہا: ’’ میں اپنے شوہر کے چھوڑے ہوئے مال کے ‏لیے اس سے افضل جگہ نہیں پاتی جہاں وہ خرچ کیا کرتا تھا۔ ‘‘ لہٰذا اس نے تمام مال صدقہ کر دیا سوائے دو سو 200دِرہَموں کے جو اس نے اپنے بیٹے کے ‏لیے جمع کر رکھے تھے۔ جب بچہ بڑا ہوا تو اس نے پوچھا: ’’ اے میری ماں !میرا باپ کون تھا؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ تیرا باپ بنی اسرائیل کے معزَّزین میں سے تھا۔ ‘‘ بیٹے نے پھر پوچھا: ’’ کیا اس نے کوئی مال چھوڑا ہے؟ ‘‘ ماں نے جواب دیا: ’’ کیوں نہیں ، لیکن وہ ہمیشہ بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا تھاتو میں نے بھی اسی راستے میں خرچ کر ڈالا۔ ‘‘ بیٹے نے پوچھا: ’’ آپ نے میرے حصے کا سارا مال کیوں صدقہ کر دیااور اس میں سے کچھ نہ بچایا؟ ‘‘ اس کی ماں نے کہا: ’’ تمہارے حصے کے دو سو 200درہم باقی ہیں ۔ ‘‘ تو لڑکے نے عرض کی: ’’ لائیں ، میرا مال مجھے دیں تاکہ اس کے ذریعے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکافضل تلاش کروں ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اپنی ماں سے درہم لے کر گھر سے نکل کھڑا ہوا، چلتے چلتے ایک برہنہ مُردے کے پاس سے گزرا جو زمین پرپڑا ہوا تھا۔ اس نے سوچاکہ مال خرچ کرنے کی اس سے افضل جگہ کوئی نہیں ۔اس کے ‏لیے ایک سو اَسی 180 درہم کا کفن خرید کر اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا اور قبر پر مِٹی ڈالی اوربقیہ بیس20 درہم لے کر روانہ ہوگیا۔
راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی، اس نے پوچھا: ’’ کہاں کا ارادہ ہے؟ ‘‘ لڑکے نے جواب دیا: ’’
اللہ عَزَّ وَجَلَّکافضل تلاش کرنے نکلا ہوں ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’ اگر میں ایسی چیز کی طرف تیری رہنمائی کروں جس سے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل پائے تواُس میں سے نصف میرا ہو گا۔ ‘‘ لڑکا رضامند ہو گیا۔تو اس شخص نے کہا: ’’ اس شہر کی طرف چلے جاؤ، وہاں تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس ایک بلی ہو گی، وہ اسے فروخت کر رہی ہو گی ، تم اس سے بیس20 درہم میں خرید کر ذبح کر دینا اور آگ میں جلا دینا۔ پھر اس کی راکھ جمع کر کے دوسرے شہر کی طرف روانہ ہو جانا، وہاں کے بادشاہ کی بَصَارَت زائل ہو چکی ہے۔ تم بطورِ سُرمہ اُس کی آنکھوں میں راکھ لگانا اس کی بینائی لوٹ آئے گی۔ ‘‘ وہ لڑکا گیا اوربلی کی راکھ لے کر جب بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے کہا: ’’ اِس کو اُس وادی میں لے جاؤجس میں سرمہ لگانے والے ہیں ، پھر اس کو بتانا کہ اگر اس نے مجھے ٹھیک کر دیا تو منہ مانگا انعام پائے گا اور ٹھیک نہ کر سکا تو میں اسے قتل کر دوں گا، پھر اگروہ چاہے تو علاج کے ‏لیے آگے بڑھے اور چاہے تو وہیں سے لوٹ آئے۔ ‘‘ جب لڑکا وادی میں گیا تو وہاں سرمہ لگانے والوں کی لاشیں دیکھیں ، پھر بھی اس نے کہا: ’’ میں سرمہ لگاؤں گا۔ ‘‘ چنانچہ اس نے سرمہ لگایاتو بادشاہ کہنے لگا: ’’ گویا مجھے کچھ کچھ نظر آرہا ہے۔ ‘‘ پھر دوسری مرتبہ لگایاتو بادشاہ نے کہا: ’’ اب میں کچھ دیکھ رہاہوں ۔ ‘‘ پھر جب تیسری مرتبہ سرمہ لگایاتو اس کی بینائی مکمل طور پر لوٹ آئی۔ بادشاہ نے کہا: ’’ میں تجھ پر اس سے بڑھ کر احسان نہیں کر سکتا کہ تیری شادی اپنی بیٹی سے کر دوں ۔ ‘‘ پھر بادشاہ نے اس کی حاجت پوچھ کر اپنا سب سے پسندیدہ مال اسے دے دیا، وہ لڑکا اُس کے پاس کچھ عرصہ رہا ۔ پھر اسے اپنی ماں کی یاد ستائی تو اس نے بادشاہ سے جانے کی اجازت چاہی۔
بادشاہ نے کہا: ’’ ٹھیک ہے، اپنے ساتھ اپنی بیوی اور مال کو بھی لے جاؤ۔ ‘‘ واپسی میں وہ لڑکا اسی شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے پوچھا: ’’ کیامجھے پہچانتے ہو؟ ‘‘ لڑکے نے نفی میں جواب دیاتواُس نے کہا: ’’ میں وہی ہوں جس نے تجھے فلاں فلاں بات بتائی تھی ۔ ‘‘ پھر وہ لڑکا سواری سے اُتر آیااور جو کچھ اس کے پاس تھا دو۲ حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ شخص کہنے لگا: ’’ میرے حصے کی ایک چیز ابھی باقی ہے۔ ‘‘ لڑکے نے پوچھا: ’’ وہ کیا؟ ‘‘ تو وہ بولا: ’’ تیری بیوی۔ ‘‘ میں تجھے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم دیتا ہوں کہ اپنا وعدہ پوراکر۔ ‘‘ اس لڑکے نے کہا: ’’ پھر ہم اس کی تقسیم کیسے کریں ؟ ‘‘ اس شخص نے کہا: ’’ اس کو آرے سے چیر دو۔ ‘‘ لڑ کے نے حامی بھر لی کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں ۔جب اس نے آرا اپنی بیوی کے سر پر رکھاتو وہ شخص کہنے لگا: ’’ رُک جاؤبے شک مجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے تیرے پاس بھیجا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاسی طرح تیری حفاظت فرمائے جیسے تُو نے اُس سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا۔ ‘‘ پھراس شخص نے لڑکے کاسارا مال اُسے واپس کر دیا۔ ( )
¥
(2) بیس 20سال عمر میں اضافہ:ايک نوجوان حضرت سَیِّدُنَا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صحبت میں تھا کہ ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامنے آپعَلَیْہِ السَّلَامکو خبر دی کہ يہ شخص تين روز بعد مرجائے گا۔ اس بات نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکو غمگین کيالیکن آپ نے اس شخص کو تين روز بعد بھی صحيح سلامت پايا۔آپ کو اس بات سے بہت تعجب ہوا۔ ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامدوبارہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے توعرض کی: ’’ میں اُس شخص کے پاس روح قبض کرنے گيا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے ارشاد فرمايا: ’’ يہ شخص اپنی عمر پوری کرنے سے ايک روز قبل باہر نکلا اور ايک مسکين کو دیکھا، اس نے اسےبيس20 درہم دئیے۔اُس مسکين نے اسے دعا دی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتيری عمر میں برکت عطا فرمائے۔ پس اُس کی دعا قبول کرلی گئی اور میں نے ہر درہم کے بدلے اس کی عمر میں ايک ايک سال کا اضافہ فرماديا ہے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ قضا یعنی تقدیر کی تین ۳ قسمیں ہے۔ (۱)
مُبْرَمِ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعَلَّق نہیں ۔ (۲) اورمُعَلَّقِ مَحْض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔ (۳) اورمُعَلَّقِ شَبِیْہ بہ مُبْرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔ وہ جومُبْرَمِ حقیقیہے اُس کی تبدیلی نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا ءکی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں ، اُس تک خواص اَکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاسی کو فرماتے ہیں : ’’ میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
(3) ایک کے بدلے دس انڈے:حضرت سَیِّدُنَا ابو جعفر بن خطابرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجو اپنے دَور کے اَبدال یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے مقرر کردہ بہت بڑے ولی تھے، فرماتے ہیں کہ میرے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی میں نے زوجہ سے پوچھا: ’’ تمہارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ چار4 انڈے ہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس سائل کو دے دو۔ ‘‘ زوجہ نے حکم کی تعمیل کی اور سائل انڈے لے کر چلا گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے پاس ایک دوست نے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری بھیجی۔ میں نے گھر والوں سےپوچھا: ’’ اس میں کل کتنے انڈے ہیں ؟ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’ تیس30۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ تم نے توفقیر کو چار انڈے دیئے تھے، یہ تیس کس حساب سے آئے؟ ‘‘ زوجہ کہنے لگی: ’’ تیس انڈے سالِم ہیں اور دس ٹوٹے ہوئے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا شیخ علامہ یافعی یمنیرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’ بعض حضرات اِس حکایت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ سائل کو جو انڈے دیئے گئے تھے ان میں تین سالِم اور ایک ٹوٹا ہوا تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہر ایک کے بدلے دس دس عطا فرمائے۔ سالم کے عوض سالم اور ٹوٹے ہوئے کے بدلے ٹوٹےہوئے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
”اَعلٰی حضرت اِمَامِ اَھلِسُنَّت“کے18حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے18مدنی پھول
(1) صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانراہِ خدا میں صدقہ کرنے کے لیے مزدوری تک کیا کرتے تھے، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی حلال کمائی میں سے راہِ خدا میں دل کھول کر خرچ کریں ۔
(2) ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ کرنا چاہیے۔غریب اپنی غریبی کا لحاظ رکھے اور امیر اپنی امارت کو سامنے رکھتے ہوئے خرچ کرے۔
(3) حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عَوف
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت ہی مالدار صحابی تھے اور اپنی مالداری کے حساب سے ہی صدقہ کیا کرتے تھے۔ ( )
(4) حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیل
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدُنیوی اعتبار سے مالدار نہ تھے لیکن محنت کرکے راہِ خدا میں صدقہ کرنے والے تھے اور ان کا صدقہ کرنا بارگاہِ رَبُّ العزت میں ایسا مقبول ہوا کہ اس پر آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
(5) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر طعن کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔
(6) صدقہ دینے والے یا کسی بھی نیک کام کرنے والے پر طعن نہیں کرنا چاہیے کہ کیا پتا کس کی نیکی بارگاہِ
رَبُّ العزت میں مقبول ہو۔
(7)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں صدقہ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ گھروالوں کے حقوق پامال نہ ہوں جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابو عَقیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی کمائی کا نصف صدقہ کیا اور نصف اپنے گھروالوں پر خرچ کیا۔
(8) انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَام، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اَولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامیا دیگر نیک بندوں کا قُرب پانے کے لیے کوئی بھی نیک عمل کرنا جائز ہے۔
(9) صدقہ وخیرات کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی بلکہ رزق میں مزید برکت ہوتی ہے جبکہ اِستطاعت کے باوجود راہِ خدا میں خرچ نہ کرنے والے کا مال بسا اوقات ضائع کردیا جاتا ہے۔
(10) راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کے لیے سات سو 700گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔
(11) صدقہ کرنے سے عمر میں برکت ہوتی اور بلائیں دُور ہوتی ہیں ۔
(12) صدقہ کرنا بُری موت سے بچاتا ہے بلکہ بُری موت کے ستر70 دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔
(13) صدقہ کرنے سے آفتیں اور بلائیں دُور ہوتی ہیں ، بُرائی کے ستر 70دروازے بند ہوجاتے ہیں ، ستر 70 قسم کی بلائیں ٹال دی جاتی ہیں ۔
(14) صدقہ کرنے سے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل ہوتی ہے اور غضب الٰہی زائل ہوتا ہے۔
(15) صدقہ کرنے سے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مغفرت کردی جاتی ہے۔
(16) صدقہ کرنے سے بگڑے ہوئے کام بن جاتے ہیں ۔
(17) صدقہ کرنے سے آپس میں محبتیں بڑھتی اور نفرتیں دُور ہوتی ہیں ۔
(18) صدقہ کرنے والے کل بروزِ قیامت امان میں رہیں گے، آتشِ دوزخ ان پر حرام ہوگی اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے گروہ میں شامل ہوں گے۔
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 110