Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 109

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال غَابَ عَمِّیْ اَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! غِبْتُ عَنْ اَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِکِیْنَ لَئِنِ اللّٰہُ اَشْہَدَنِیْ قِتَالَ الْمُشْرِکِینَ لَیَرَیَنَّ اللّٰہُ مَا اَصْنَعُ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ اُحُدٍ وَانْکَشَفَ الْمُسْلِمُوْنَ، فَقَالَ اللّٰہُمَّ اَعْتَذِرُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلَاءِ، یَعْنِیْ اَصْحَابَہُ، وَاَبْرَاُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہٰؤُلَاءِ، یَعْنِیْ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: یَا سَعْدُ بْنَ مُعَاذٍ!اَلْجَنَّۃُ وَرَبِّ النَّضْرِ، اِنِّی اَجِدُ رِیْحَہَا مِنْ دُوْنِ اُحُدٍ، قَالَ سَعْدٌ:فَمَا اسْتَطَعْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَنَعَ ، قَالَ اَنَسٌ: فَوَجَدْنَا بِہِ بِضْعًا وَثَمَانِینَ ضَرْبَۃً بِالسَّیْفِ اَوْ طَعْنَۃً بِرُمْحٍ اَوْ رَمْیَۃً بِسَہْمٍ وَوَجَدْنَاہُ قَدْ قُتِلَ وَقَدْ مَثَّلَ بِہِ الْمُشْرِکُوْنَ فَمَا عَرَفَہُ اَحَدٌ اِلَّا اُخْتُہُ بِبَنَانِہ، قَالَ اَنَسٌ: کُنَّا نَرَی اَوْ نَظُنُّ اَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْہِ وَفِیْ اَشْبَاہِہِ ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ﴾ (الاحزاب :۲۳ ) اِلیٰ آخِرِ ھَا . ( )
قَوْلُہُ”لَیُرِیَنَّ اللّٰہُ“رُوِیَ بِضَمِّ الْیَاءِ وَکَسْرِ الرَّائِ، اَیْ لَیُظْہِرَنَّ اللّٰہُ ذَالِکَ لِلنَّاسِ، وُرِوَیَ بِفَتْحِہِمَا وَ مَعْنَاہُ ظَاھِرٌ، وَاللہُ اَعْلَمُ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال غاب عمی انس بن النضر رضی اللہ عنہ عن قتال بدر فقال یا رسول اللہ! غبت عن اول قتال قاتلت المشرکین لئن اللہ اشہدنی قتال المشرکین لیرین اللہ ما اصنع فلما کان یوم احد وانکشف المسلمون، فقال اللہم اعتذر الیک مما صنع ہؤلاء، یعنی اصحابہ، وابرا الیک مما صنع ہؤلاء، یعنی المشرکین ثم تقدم فاستقبلہ سعد بن معاذ، فقال: یا سعد بن معاذ!الجنۃ ورب النضر، انی اجد ریحہا من دون احد، قال سعد:فما استطعت یا رسول اللہ! ما صنع ، قال انس: فوجدنا بہ بضعا وثمانین ضربۃ بالسیف او طعنۃ برمح او رمیۃ بسہم ووجدناہ قد قتل وقد مثل بہ المشرکون فما عرفہ احد الا اختہ ببنانہ، قال انس: کنا نری او نظن ان ہذہ الآیۃ نزلت فیہ وفی اشباہہ ﴿من المؤمنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ ﴾ (الاحزاب :۲۳ ) الی آخر ھا . ( )
قولہ”لیرین اللہ“روی بضم الیاء وکسر الرائ، ای لیظہرن اللہ ذالک للناس، وروی بفتحہما و معناہ ظاھر، واللہ اعلم.

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اس لیے انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ نے مشرکین سے جو پہلا قتال کیا (یعنی جنگ بدر) میں اس میں حاضر نہ تھا لیکن اب اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے مشرکوں کے خلاف جنگ کرنے کی توفیق بخشی تواللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا کہ میں کس طرح قتال کرتا ہوں ۔ ‘‘ چنانچہ جب جنگِ اُحد کا دن آیا اور مسلمان پیچھے ہٹ گئے تو حضر ت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں عرض کی: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں نے جو کچھ کیا میں اس کی معذرت چاہتا ہوں اور جو مشرکین نے کیامیں اس سے بیزار ہوں ۔ ‘‘ پھر جب وہ آگے بڑھے تو سامنے سے حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآرہے تھے۔سَیِّدُنَااَنس بن نَضْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا: ’’ جنت اے سعد! میرے والد نضر کے ربّ کی قسم! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خو شبو آرہی ہے۔ ‘‘ (یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، بعدازاں ) حضرت سَیِّدُنَا سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کر دکھا یا وہ میں نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘ سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے جسم پر اَسّی 80 سے زیادہ تلوار، نیزے اور تیر کے زخم پائے اور ہم نے دیکھا کہ انہیں شہید کردیا گیا تھا اور مشرکین نے ان کا مُثلہ کردیا تھا ۔ (یعنی ان کے کان، ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے) فقط ان کی ہمشیرہ نے انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ہم گمان کرتے تھے کہ یہ آیت مبارکہ ان کے یا ان جیسے دیگر اصحاب کے حق میں نازل ہوئی ہے:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-(پ۲۱، الاحزاب:۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچّا کردیا جو عہداللہسے کیا تھا۔
حدیث پاک کےبعض الفاظ کے معانی: لفظ”
لَیُرِیَنَ“اور”لَیَرَیَنَّ“دونوں طرح روایت کیا گیا ہے، پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّضرور لوگوں کو دکھا دےگا۔“اور دوسری صورت میں معنی ہوگا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّضرور دیکھے گا۔“

شرح حدیث

مذکورہ آیت مبارکہ کا شانِ نزول:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے اس آیت مبارکہ کے دو شان نزول بیان فرمائے ہیں :
(1) یہ آیت مبارکہ حضرت سَیِّدُنَا اَنس بن نَضْر
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حق میں نازل ہوئی۔
(2) بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ستّر ۷۰ اَصحاب
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور اس میں کوئی کمی نہ کی۔ ( )
¥
سَیِّدُنَا انس بن نضر کی کرامت:حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت ہی بہادر اور جاں باز صحابی ہیں ، مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی شہادت کا علم ہوچکا تھا اور شہادت سے قبل انہیں جنت کی خوشبوآرہی تھی۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی متقی وپرہیزگار صحابی تھے، بارگاہِ الٰہی میں بہت بلند مقام حاصل تھا، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکاشماراللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان خاص الخاص بندوں اور ولیوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرماتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بہن سَیِّدَتُنَا رُبَیعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جھگڑا وتکرار کرتے ہوئے ایک اَنصاری لڑکی کے دو اگلے دانت توڑ ڈالے ۔ لڑکی والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قرآن مجید کے حکم کے مطابق یہ فیصلہ فرمادیاکہ رُبَیع بنت نضرکے دانت قصاص میں توڑ دیئے جائیں ۔ جب حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو پتہ چلا تو وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میری بہن کےدانت نہیں توڑے جائیں گے۔ ‘‘رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے انس بن نضر! تم کیا کہہ رہے ہو؟ قصاص تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب کا فیصلہ ہے۔ ‘‘ یہ گفتگوابھی ہورہی تھی کہ لڑکی والے دربارِنبوت میں حاضر ہوئے اورکہنے لگے: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! قصاص میں رُبَیع کا دانت توڑنے کی بجائے ہمیں دِیَت یعنی مالی مُعاوضہ دلایاجائے۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، اس طرح سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی قسم پوری ہوگئی اور آپ کی بہن حضرت سَیِّدَتُنَا رُبَیعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے دانت توڑے جانے سے بچ گئے۔رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس موقع پر ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ کسی معاملے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم کھالیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُن کی قسم کوپورا فرمادیتاہے ۔ ‘‘ شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حضوراَقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِرشاد گرامی کا یہ مطلب ہے کہاللہ تعالٰیکے بندوں میں سے کچھ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی ہیں کہ اگر کسی ایسی چیز کے بارے میں جو بظاہر ہونے والی نہ ہو ،اللہ تعالٰیکے یہ بندے قسم کھالیں کہ ہوجائے گی تواللہ تعالٰیاُن مُقَدَّس بندوں کی قسموں کو ٹوٹنے نہیں دیتابلکہ اس نہ ہونے والی چیز کو موجود فرمادیتاہے تاکہ ان کی قسم پوری ہوجائے۔ ‘‘ ( )
¥
کیا جنگ بدر پہلی جنگ تھی؟مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے تو آپ نے محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی کہ میں مشرکین سے لڑی جانے والی پہلی جنگ میں شریک نہ ہوسکا تھا۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ بدر سن ۲ہجری میں ہوئی جبکہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے تو پھر سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جنگ بدر کو پہلی جنگ کیوں کہا؟عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیاس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ غزوؤ بدر وہ پہلا معرکہ ہے جس میں تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنفس نفیس خود قتال کے لیے نکلے اسی وجہ سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے پہلی جنگ کہا ورنہ مسلمان اس سے پہلے بھی جنگ کرچکے تھے لیکن اس جنگ میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنفس نفیس شریک نہ ہوئے تھے۔ ‘‘ ( )
¥
سَیِّدُنَا انس بن نضر کاعہد:حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکا تھا لیکن اب اگر مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی تواللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ ‘‘ علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ کلام اس بات کو شامل ہے کہ آپ نے خود پر لازم کرلیا تھا کہ آپ کسی بھی حال میں جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنی قدرت کے مطابق ہمت و حوصلے سے کام لیں گے نیز آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ کیا کریں گے؟ کیونکہ آپ کو اس بات کا خدشہ تھا کہ کسی بات کو اپنے اوپر لازم کرکے اگر آپ نہ کر پائے تو یہ اچھی بات نہیں اور اس معاملے میں آپ اپنی قوت و ہمت پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے خاموش ہوگئے۔ اسی وجہ سے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ ’’ آپ اس سے زیادہ کچھ اور بولنے سے گھبرائے۔ ‘‘ لیکن آپ کی نیت سچی تھی اورآپ اپنے ارادے میں پختہ تھے اسی وجہ سے آپ کے حق میں نازل ہونے والی آیت مبارکہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ارادے کو عہد کا نام دیا۔ ‘‘ ( )
¥
جنگ اُحد میں مسلمانوں کے میدان چھوڑنے کی وجہ:حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہےکہ جنگ اُحد میں مسلمان پیچھے ہٹ گئے اور حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں معذرت پیش کی۔اس کا پس منظر کچھ یوں ہےرحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ سات سو 700 صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانتھے۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھ کر صف بندی کی۔حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو جھنڈا عطا فرمایا، سَیِّدُنَا زبیر بن عوامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی ایک دستے کا افسر مقرر فرمایا، سَیِّدُنَا حمزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بغیر زِرہ والےدستے کی کمان عطا فرمائی۔ اُحُدپہاڑ کی پشت سے حملے کا خطرہ تھا اس لیے آپ نے پچاس50تیر اندازوں کا ایک دستہ وہاں متعین کیا جن پر حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن جُبَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو مقررفرمایا۔اس دستے کورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ خصوصی ہدایات جاری فرمائی تھیں کہ وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں ۔ جنگ کی ابتداء میں ہی کفار کو سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور تمام کافر بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر تیر انداز دستے والے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔
دراصل اس دستے میں اس بات پر اختلاف ہوگیا کہ مال غنیمت جمع کیا جائے یا نہیں ، بعض نے کہا کہ نہ کیا جائے کیونکہ
رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس جگہ سے ہٹنے کو منع فرمایا ہے، لیکن بعض نے کہا کہ چونکہ کفار بھاگ گئے ہیں اور جنگ ختم ہوگئی ہے لہٰذا کوئی حرج نہیں اس لیے وہ مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ان تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھاکہ حضرت سَیِّدُنَا خالد بن ولیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جو اس وقت ایمان نہ لائے تھےموقع پاکر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔اس اچانک حملے کے نتیجے میں حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عُمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشہید ہوگئے، چونکہ آپرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بہت مُشابہ تھے اس لیے شور مچ گیا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہید ہوگئے ہیں ، اس خبر سے مزید بدحواسی پھیل گئی، بعد اَزاں سَیِّدُنَا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی نظر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑگئی اور انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبالکل خیریت سے ہیں ۔یہ سن کر ہر طرف سے جان نثار ٹوٹ پڑے، کفار بھی اسی طرف مُتَوجہ ہوگئے، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گرد دائرہ بنالیا اور دفاع کرنے لگے، اس میں مُتَعَدَّد صحابی شہید ہوگئے ۔بالآخر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے گئے جہاں دشمن نہ آسکتے تھے ۔
الغرض اس جنگ میں مسلمانوں کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ یہی ہوئی کہ سَیِّدُنَا
عبداللہبن جُبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور ان کے ساتھی اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اس اجتہادی خطا کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن پاک کی سورۂ آلِ عمران میں تفصیل سے بیان فرمایا اور پھر ان تمام صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اس خطا کے لیے معافی کا بھی اعلان فرمادیا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖۚ-حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۵۲)(پ۴، ال عمران:۱۵۲)ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شکاللہنے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہاللہتمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا اور پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کردیا اوراللہمسلمانوں پر فضل کرتا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں چند باتوں کا واضح بیان ہے، ایک تو شرکاء غزؤہ اُحد کی غلطی کی معافی اور ان کے مومن ہونے کی تصریح اور یہ کہ یہ معافی
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے جو وہ مؤمنوں پر فرماتا ہے ۔بعض بدباطن اور بدعقیدہ لوگ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی اسی اجتہادی خطا کی بنا پر ان پرمَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّسب وشتم اور طعن کرتے ہیں جبکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے لیے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا۔اباللہ عَزَّوَجَلَّکے معاف فرما دینے کے بعد بھی جو لوگ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر طعن کریں ان کا منکرِ قرآن ہونا واضح ہے۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّایسے لوگوں کے شرسے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے، اور ہمیں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین
¥
سَیِّدُنَا انس بن نضر اور جنت کی خوشبو:حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا سامنا جب حضر ت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہوا تو انہوں نے فرمایا: ’’ اے سعد! مجھے اُحد پہاڑ کی جانب سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ ‘‘ شارحین حدیث نے اس کے دو 2معنی بیان کیے ہیں : (1)حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ آپ کا یہ کلام حقیقت پر محمول کیا جاسکتا ہے وہ اس طرح کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے لیے شہید ہونا مُقَدَّر فرمادیا تھا، اسی بناء پر آپ کو جنت کی خوشبو سونگھا دی گئی ہو اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ جنت کی خوشبو پانچ سو 500سال کی مَسَافت سے سُونگھی جاسکتی ہے۔ ‘‘ ( )
(2)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جنت کا تصور کیا ہو جو شہداء کے لیے تیا رکی گئی ہے اور آپ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ وہ جنت اسی مقام پر ہے جہاں قتال کیا جارہا ہے تو اس صورت میں آپ کے جنت کی خوشبو والے کلام کا معنی یہ ہوگا کہ بے شک میں جانتا ہوں کہ شہداء کی جنت کاحصول اسی مقام پر ہے جہاں جنگ کی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں اس جنت کو حاصل کرنے کا اشتیاق پید اہوگیا ۔ ‘‘ ( )
¥
سَیِّدُنَاانس بن نضرکی جرأت وبہادری وصبر وتحمل:حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے گفتگو کرنے کے بعد حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمیدانِ کارزار میں کود پڑے اور جواں مَردِی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کے جسم پر تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے اسّی 80سے زائد زخم آئے حتی کہ مشرکین نے آپ کے کان اور ناک کاٹ کر مُثلہ کردیا۔حضرت سَیِّدُنَا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آپ کی یہ حالت دیکھ کر شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کر دکھایا میں وہ نہیں کرسکتا تھا۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قول کا یہ مطلب ہے کہ جس جرأت اور بہادری سے حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پیش قدمی کی اور مشرکین سے قتال کیا، میں اس کی طاقت نہیں رکھتا باوجود یکہ میں بھی طاقتور اور بہادر ہوں لیکن جس طرح حضرت انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دشمن کے وار اپنے جسم پر سہے اور تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے اسّی 80 سے زائد زخم اپنے جسم پر کھاتے ہوئے بھی صبر وتحمل کا دامن نہ چھوڑا میں اس قسم کے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘ ( )
¥
جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ جہاد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا جائز ہے اور وعدہ پورا کرنابہت فضیلت کاکام ہے اگرچہ اسے پورا کرنا اتنا مشکل ہوکہ جان چلی جائے ۔نیز شہادت کی طلب ا ُس آیت کے خلاف نہیں جس میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس حدیث پاک میں حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت ظاہر ہے اورآپ کے اَوصافِ حمیدہ مثلاً اِیمان کی پختگی، تقویٰ ووَرَع یعنی پرہیز گاری کی انتہاء اور قوتِ یقین یعنی توکل بھی ظاہر ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ” عثمانِ غَنی“ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)
غزوۂ بدر کفار ومسلمین کے درمیان وہ پہلا معرکہ ہے جس میں رحمت عالم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبنفس نفیس شریک ہوئے ورنہ اس سے پہلے بھی جنگ ہوچکی تھی۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی جلیل القدر صحابی رسول تھے، آپ کا شماراللہ عَزَّوَجَلَّکے ان برگزیدہ بندوں میں ہوتا تھا جو کسی بات پر قسم اٹھالیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّان کی قسم کو پورا فرمادیتا ہے۔
(3) سَیِّدُنَا انس بن نضر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی صابر وشاکراورجرأت وبہادری والے صحابی تھے، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا ۔
(4) اپنے نیک اِرادے اور پختہ عزم کا اِظہار کرنا جائز ہے اور صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے جیسا کہ سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے پختہ اِرادے کو ظاہر فرمایا۔
(5) کوئی بھی اِرادہ یا نیت کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کیا میں اس پر عمل بھی کرسکوں گا یا نہیں ؟ جیساکہ سَیِّدُنَا انس بن نضر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فقط اپنے اس ارادے کو تو ظاہر فرمایا کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے لیکن یہ نہ فرمایا کہ وہ کیا کریں گے۔
(6) غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو جس وقتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی وجہ
رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کو سمجھنے میں اجتہادی خطا کا واقع ہونا تھا، اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اپنے دینی پیشوا کے حکم پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے ۔
(7) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تمام لغزشوں کے لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے معافی کا پروانہ جاری فرمادیا اور تمام صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی مغفرت فرمادی گئی ہے، لہٰذا اب ان مقدس ہستیوں پر کسی کو کسی بھی طرح کا طعن کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، ہمیشہ ان کے اچھے اوصاف ہی بیان کیے جائیں گے۔
(8)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کو شہادت کے لیے پیش کرنا نہ صرف جائز ہےبلکہ بہت بڑی سعادت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی سربلندی کے لیے اپنی جان، مال ، آل اولاد سب کچھ قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، راہِ خدا میں آنے والی تمام تکالیف پر صبر اور برداشت کی طاقت عطا فرمائے، ہمیں صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سچی پکی محبت عطا فرمائے، اُن کے اَوصافِ حمیدہ بیان کرکے اپنے ایمان کو تازگی بخشنے کی سعادت نصیب فرمائے، ہمیں گستاخانِ صحابہ کے شر سے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 109